پریشانی، غم اور بے چینی سے نجات — قرآن و سنت کی روشنی میں

پریشانی، غم اور بے چینی کے وقت قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی، مسنون دعائیں، ذکر، صبر، توکل اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنے کے عملی طریقے جانیں۔
پریشانی، غم اور بے چینی سے نجات — قرآن و سنت کی روشنی میں


پریشانی، غم اور بے چینی سے نجات — قرآن و سنت کی روشنی میں

تعارف

انسان کی زندگی میں خوشی اور غم دونوں آتے ہیں۔ کبھی انسان مالی مشکلات، گھریلو مسائل، بیماری، کاروباری نقصان، رشتوں کی پریشانی، مستقبل کی فکر یا کسی عزیز کی جدائی کی وجہ سے غمگین اور بے چین ہوجاتا ہے۔ اسلام ہمیں یہ نہیں سکھاتا کہ مومن کی زندگی میں کبھی آزمائش نہیں آئے گی، بلکہ قرآن و سنت ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا جائے، صبر کیا جائے، دعا مانگی جائے اور جائز عملی اسباب اختیار کیے جائیں۔

اللہ تعالیٰ کا ذکر دل کو سکون دیتا ہے

قرآن کریم انسان کو دل کے حقیقی اطمینان کا ایک عظیم ذریعہ بتاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

ترجمہ: خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔

قرآنی حوالہ: سورۃ الرعد، آیت 28، سپارہ 13۔

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ حقیقی اور پائیدار اطمینان اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کے ساتھ مضبوط تعلق سے حاصل ہوتا ہے۔ دنیاوی سہولتیں انسان کے لیے فائدہ مند ہوسکتی ہیں، لیکن دل کا اصل سکون اللہ تعالیٰ کی یاد، عبادت اور اس پر اعتماد میں ہے۔

پریشانی میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں

جب انسان کسی مشکل میں مبتلا ہو تو اسے سب سے پہلے اپنے رب کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات سے مکمل طور پر باخبر ہے۔ انسان اپنی پریشانی لوگوں کے سامنے بیان کرنے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے بھی اپنی ضرورت، کمزوری اور تکلیف پیش کرے۔

دعا کرتے ہوئے یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہماری بات سنتا ہے اور وہ ہمارے لیے اس چیز کو بہتر جانتا ہے جو ہم خود نہیں جانتے۔ کبھی دعا کے ذریعے حالات بدلتے ہیں اور کبھی اللہ تعالیٰ کسی دوسری صورت میں خیر عطا فرماتا ہے۔

صبر مومن کی بڑی طاقت ہے

اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ وہ انسانوں کو خوف، بھوک، مالوں، جانوں اور پھلوں کی کمی کے ذریعے آزمائے گا اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری سنائی۔

قرآنی حوالہ: سورۃ البقرۃ، آیات 155 تا 157، سپارہ 2۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آزمائش زندگی کا حصہ ہے۔ مشکل آنے کا مطلب یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو چھوڑ دیا ہے۔ بعض اوقات آزمائش انسان کے ایمان کو مضبوط کرتی ہے، اسے اللہ تعالیٰ کے قریب کرتی ہے اور اسے اپنی حقیقت کا احساس دلاتی ہے۔

نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں

پریشانی کے وقت نماز چھوڑنے کے بجائے نماز کی پابندی مزید مضبوط کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ

ترجمہ: صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو۔

قرآنی حوالہ: سورۃ البقرۃ، آیت 153، سپارہ 2۔

نماز انسان کو اپنے رب کے سامنے کھڑا کرتی ہے۔ جب انسان دنیا کی پریشانیوں سے گھبرا جائے تو نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنا اس کے دل کو مضبوط کرتا ہے اور اسے یاد دلاتا ہے کہ اصل اختیار اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

غم اور پریشانی میں مسنون دعا پڑھیں

رسول اللہ ﷺ نے غم، فکر، بے بسی، سستی، بزدلی، بخل، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی دعا سکھائی۔

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ

ترجمہ: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں فکر اور غم سے، عاجزی اور سستی سے، بزدلی اور بخل سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے۔

مستند حوالہ: صحیح البخاری، کتاب الدعوات، حدیث نمبر 6369۔

اس دعا کا جامع مفہوم

یہ دعا بہت جامع ہے۔ اس میں انسان غم اور فکر کے ساتھ ساتھ بے بسی، سستی، بزدلی، بخل، قرض اور لوگوں کے غلبے سے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہے۔ مسلمان کو چاہیے کہ مسنون دعاؤں کو صرف الفاظ کے طور پر نہ پڑھے بلکہ ان کے معنی کو سمجھ کر اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی سے دعا کرے۔

مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف واپس آئیں

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے صبر کرنے والوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُم مُّصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ

ترجمہ: وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور بے شک ہم اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

قرآنی حوالہ: سورۃ البقرۃ، آیت 156، سپارہ 2۔

یہ کلمات انسان کو یاد دلاتے ہیں کہ ہماری جان، مال، صحت، گھر، اولاد اور دنیا کی تمام نعمتیں اللہ تعالیٰ کی عطا ہیں۔ اس لیے مصیبت کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا مومن کے ایمان کا حصہ ہے۔

پریشانی بھی گناہوں کی معافی کا سبب بن سکتی ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کو جو تھکن، بیماری، غم، تکلیف یا فکر پہنچتی ہے، حتیٰ کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے بعض گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔

مستند حوالہ: صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب، حدیث نمبر 2573۔

اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کی تکلیف بے مقصد نہیں ہوتی۔ اگر انسان آزمائش میں صبر کرے تو وہ اس تکلیف کو اپنے لیے خیر کا ذریعہ بنا سکتا ہے۔ اس لیے پریشانی کے وقت اللہ تعالیٰ سے بدگمان ہونے کے بجائے اجر اور رحمت کی امید رکھنی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں

بعض اوقات پریشانی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ انسان سوچنے لگتا ہے کہ اب حالات کبھی بہتر نہیں ہوں گے۔ قرآن کریم ہمیں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہونے سے روکتا ہے۔

لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ

ترجمہ: اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔

قرآنی حوالہ: سورۃ الزمر، آیت 53، سپارہ 24۔

مومن کو مشکل حالات میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے۔ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اللہ تعالیٰ کے لیے انہیں بدلنا مشکل نہیں۔

مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے

اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشرح میں فرمایا:

فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا

ترجمہ: پس بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

قرآنی حوالہ: سورۃ الشرح، آیات 5 تا 6، سپارہ 30۔

یہ آیات مومن کو امید دلاتی ہیں کہ مشکل ہمیشہ ایک ہی حالت میں نہیں رہتی۔ اس لیے پریشانی کے وقت صبر، دعا اور جائز کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ پر توکل کریں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ

ترجمہ: اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔

قرآنی حوالہ: سورۃ الطلاق، آیت 3، سپارہ 28۔

توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان دنیاوی کوشش چھوڑ دے۔ حقیقی توکل یہ ہے کہ انسان جائز اسباب اختیار کرے، اپنی ذمہ داری پوری کرے اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردے۔

دعا کے ساتھ عملی کوشش بھی ضروری ہے

اگر پریشانی مالی ہے تو حلال روزگار کی کوشش کریں، اگر قرض ہے تو اسے ادا کرنے کا منصوبہ بنائیں، اگر گھریلو مسئلہ ہے تو حکمت اور نرم گفتگو سے حل تلاش کریں، اگر کاروبار میں نقصان ہے تو اپنی حکمت عملی کا جائزہ لیں اور اگر بیماری ہے تو مناسب علاج اختیار کریں۔

اسلام انسان کو دعا کے ساتھ جائز اسباب اختیار کرنے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔ صرف دعا کرکے عملی ذمہ داری چھوڑ دینا درست طرز عمل نہیں۔

پریشانی کے وقت استغفار کریں

استغفار اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے اور اس کی طرف رجوع کرنے کا عظیم ذریعہ ہے۔ قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو استغفار کی دعوت دی:

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا

ترجمہ: پس میں نے کہا کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے۔

قرآنی حوالہ: سورۃ نوح، آیات 10 تا 12، سپارہ 29۔

استغفار کو اپنی زندگی کا معمول بنانا چاہیے، لیکن کسی ایسی مخصوص تعداد یا مدت کو سنت یا لازمی عمل قرار نہیں دینا چاہیے جس کی معتبر شرعی دلیل موجود نہ ہو۔

پریشانی میں حرام راستوں سے بچیں

مشکل حالات انسان کو کبھی غلط فیصلوں کی طرف لے جاتے ہیں۔ مالی تنگی میں سود، رشوت، دھوکا، جوا یا حرام کمائی کو حل سمجھنا درست نہیں۔ مومن کو مشکل کے وقت بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔

حلال راستہ بظاہر مشکل محسوس ہوسکتا ہے، لیکن مسلمان کو یقین رکھنا چاہیے کہ حقیقی برکت اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور حلال کمائی میں ہے۔

اپنی پریشانی اللہ تعالیٰ کے سامنے بیان کریں

حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے غم کے بارے میں فرمایا:

إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ

ترجمہ: میں تو اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں۔

قرآنی حوالہ: سورۃ یوسف، آیت 86، سپارہ 13۔

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان اپنے دل کا غم اللہ تعالیٰ کے سامنے بیان کرسکتا ہے۔ دعا میں اپنے الفاظ میں بھی اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا جائز ہے۔

پریشانی کو اللہ تعالیٰ سے دوری کا سبب نہ بنائیں

کبھی انسان مشکل آنے پر نماز، قرآن اور ذکر سے دور ہوجاتا ہے۔ یہ طریقہ درست نہیں۔ پریشانی کے وقت اللہ تعالیٰ سے تعلق مزید مضبوط کرنا چاہیے۔ نماز کی پابندی، قرآن کریم کی تلاوت، مسنون دعائیں، استغفار اور ذکر انسان کو اپنے رب کے ساتھ جوڑتے ہیں۔

لوگوں سے جائز مدد اور مشورہ لینا درست ہے

اسلام انسان کو یہ نہیں سکھاتا کہ ہر مشکل اکیلے برداشت کی جائے۔ اگر کسی مسئلے میں قابل اعتماد شخص، مستند عالم، ماہر یا خاندان کے سمجھدار فرد سے مشورہ لیا جاسکتا ہو تو ایسا کرنا درست ہے۔ تاہم مومن کا بنیادی بھروسہ اللہ تعالیٰ پر ہونا چاہیے۔

شدید پریشانی میں مناسب علاج بھی اختیار کریں

اگر کسی شخص کو مسلسل یا شدید بے چینی، غم، نیند کی خرابی یا ایسی کیفیت کا سامنا ہو جو اس کی روزمرہ زندگی کو متاثر کررہی ہو تو دعا اور ذکر کے ساتھ مناسب طبی یا نفسیاتی مدد لینا بھی جائز ہے۔ اسلام میں جائز علاج اور عملی اسباب اختیار کرنا توکل کے خلاف نہیں۔

غلط اور غیر ثابت شدہ وظائف سے بچیں

پریشانی کے نام پر ایسے وظائف، مخصوص اعداد، مخصوص دنوں یا ایسے دعووں سے بچنا چاہیے جن کی قرآن و سنت میں معتبر دلیل موجود نہ ہو۔ کسی عمل کے بارے میں یہ کہنا کہ اسے اتنی مرتبہ پڑھنے سے اتنے دن میں پریشانی لازماً ختم ہوجائے گی، شرعی دلیل کے بغیر درست نہیں۔

مومن کو ثابت شدہ قرآنی آیات، مسنون دعاؤں اور مشروع اذکار کو ترجیح دینی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھیں

مشکل وقت میں انسان کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس کے حالات سے باخبر ہے۔ وہ ہماری دعاؤں کو سنتا ہے اور ہمارے لیے بہتر فیصلہ جانتا ہے۔ بندے کو دعا، صبر اور کوشش کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھنا چاہیے۔

پریشانی میں اپنے دل کو امید دیں

موجودہ مشکل کو ہمیشہ کی حقیقت نہ سمجھیں۔ زندگی کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔ جس مسئلے کا حل آج نظر نہیں آرہا، اللہ تعالیٰ کل اس کے لیے راستہ پیدا کرسکتا ہے۔ اس لیے مومن کو مایوسی کے بجائے امید، صبر اور توکل کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے۔

حصہ اول کا خلاصہ

پریشانی، غم اور بے چینی انسانی زندگی کا حصہ ہیں۔ قرآن و سنت ہمیں سکھاتے ہیں کہ مشکل وقت میں اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں، نماز قائم کریں، صبر کریں، دعا مانگیں، ذکر اور استغفار کریں، اللہ تعالیٰ پر توکل رکھیں اور جائز عملی اسباب اختیار کریں۔ مومن کو نہ مایوس ہونا چاہیے اور نہ حرام راستے اختیار کرنے چاہییں۔ اللہ تعالیٰ نے مشکل کے ساتھ آسانی کی خوشخبری دی ہے، اس لیے ہر حال میں اللہ تعالیٰ کی رحمت سے امید رکھنی چاہیے۔

حصہ اول ختم

اس مضمون کے دوسرے حصے میں پریشانی اور غم کے بارے میں مزید قرآنی رہنمائی، مسنون دعائیں، اہم اسلامی مسائل، عملی نصیحتیں، اسلامی سوال و جواب، مکمل قرآنی و حدیث حوالہ جات اور متعلقہ اسلامی مضامین شامل ہوں گے۔

حصہ دوم

پریشانی کے وقت اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں

مومن کی زندگی میں آزمائش آئے تو اسے سب سے پہلے اپنے رب کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ دعا، نماز، ذکر، استغفار اور صبر ایسے اعمال ہیں جو بندے کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرتے ہیں۔ مشکل کے وقت یہ یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے حالات کو جانتا ہے اور وہ ہمارے لیے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

غم اور پریشانی پر اجر ملتا ہے

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان کو جو تھکن، بیماری، غم، تکلیف یا فکر پہنچتی ہے، حتیٰ کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے اس کے بعض گناہوں کو معاف فرماتا ہے۔

مستند حوالہ: صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب، باب: مومن کو بیماری، غم اور دوسری تکالیف پہنچنے پر اجر، حدیث نمبر 2573۔

اس لیے مومن کو آزمائش کے وقت صرف تکلیف کو نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ صبر کے ساتھ یہ آزمائش اس کے لیے گناہوں کی معافی اور اجر کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

غم کے وقت مسنون دعا پڑھیں

رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا سکھائی:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ

ترجمہ: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں فکر اور غم سے، عاجزی اور سستی سے، بزدلی اور بخل سے، قرض کے بوجھ اور لوگوں کے غلبے سے۔

مستند حوالہ: صحیح البخاری، کتاب الدعوات، باب: بزدلی اور سستی سے اللہ کی پناہ مانگنا، حدیث نمبر 6369۔

دعا کو یقین اور سمجھ کے ساتھ پڑھیں

مسنون دعا پڑھتے وقت اس کے معنی کو سمجھنا بھی مفید ہے۔ اس دعا میں غم، فکر، بے بسی، سستی، بزدلی، بخل، قرض اور لوگوں کے غلبے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے۔ مسلمان کو دعا کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اختیار کرنی چاہیے اور اس سے خیر و عافیت طلب کرنی چاہیے۔

مشکل کے وقت مایوس نہ ہوں

انسان جب مسلسل مشکلات میں گھرا ہو تو اسے محسوس ہوسکتا ہے کہ اب حالات کبھی بہتر نہیں ہوں گے۔ لیکن مومن کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ

ترجمہ: اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔

قرآنی حوالہ: سورۃ الزمر، آیت 53، سپارہ 24۔

مشکل کے ساتھ آسانی کا وعدہ

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ۝ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا

ترجمہ: پس بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے، بے شک مشکل کے ساتھ آسانی ہے۔

قرآنی حوالہ: سورۃ الشرح، آیات 5 تا 6، سپارہ 30۔

یہ آیات مومن کو امید دلاتی ہیں کہ مشکل ہمیشہ ایک ہی حالت میں نہیں رہتی۔ اس لیے پریشانی کے وقت صبر، دعا اور جائز کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

اللہ تعالیٰ پر توکل کریں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ

ترجمہ: اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔

قرآنی حوالہ: سورۃ الطلاق، آیت 3، سپارہ 28۔

توکل کا مطلب یہ نہیں کہ انسان کوشش چھوڑ دے۔ صحیح توکل یہ ہے کہ انسان جائز اسباب اختیار کرے، اپنی ذمہ داری پوری کرے اور نتیجہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کردے۔

مالی پریشانی میں حلال راستہ اختیار کریں

اگر پریشانی مالی مسائل کی وجہ سے ہے تو انسان کو حلال روزگار کی کوشش کرنی چاہیے۔ سود، رشوت، دھوکا، جوا یا حرام کمائی کو مسئلے کا حل نہیں سمجھنا چاہیے۔ مسلمان کو مشکل حالات میں بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا چاہیے۔

اپنے اخراجات کا جائزہ لینا، غیر ضروری خرچ کم کرنا، قرض کی ادائیگی کا منصوبہ بنانا اور حلال آمدنی کے نئے ذرائع تلاش کرنا جائز عملی اسباب میں شامل ہیں۔

قرض کے بوجھ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیں

رسول اللہ ﷺ کی مسنون دعا میں قرض کے بوجھ سے بھی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کو مالی پریشانی میں اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کے ساتھ قرض کی ادائیگی کے لیے سنجیدہ عملی کوشش بھی کرنی چاہیے۔

مستند حوالہ: صحیح البخاری، کتاب الدعوات، حدیث نمبر 6369۔

گھریلو پریشانی میں صبر اور حکمت اختیار کریں

اگر پریشانی گھر کے اختلافات کی وجہ سے ہے تو غصے میں فوری فیصلے کرنے کے بجائے مسئلے کی اصل وجہ سمجھنے کی کوشش کریں۔ نرم گفتگو کریں، ایک دوسرے کی بات سنیں اور ضرورت پڑنے پر خاندان کے سمجھدار افراد یا مستند اہل علم سے مشورہ کریں۔

بیماری میں دعا کے ساتھ علاج بھی کریں

اسلام دعا اور توکل کے ساتھ جائز علاج اختیار کرنے سے منع نہیں کرتا۔ اگر کوئی شخص بیماری یا مسلسل پریشانی میں مبتلا ہے تو مستند ڈاکٹر سے علاج کروانا جائز ہے۔ دعا اور علاج ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ مومن دونوں جائز ذرائع اختیار کرسکتا ہے۔

شدید ذہنی پریشانی کو نظر انداز نہ کریں

اگر غم یا بے چینی اتنی زیادہ ہوجائے کہ انسان کی روزمرہ زندگی، نیند، کام یا گھر کے معاملات شدید متاثر ہونے لگیں تو مناسب طبی یا نفسیاتی مدد لینا چاہیے۔ دینی دعا اور ذکر کے ساتھ جائز طبی مدد حاصل کرنا بھی درست ہے۔

استغفار کو زندگی کا حصہ بنائیں

استغفار اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے اور اس کی طرف رجوع کرنے کا عظیم عمل ہے۔ قرآن کریم میں حضرت نوح علیہ السلام نے اپنی قوم کو استغفار کی دعوت دی:

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا

ترجمہ: پس میں نے کہا کہ اپنے رب سے بخشش مانگو، بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے۔

قرآنی حوالہ: سورۃ نوح، آیات 10 تا 12، سپارہ 29۔

استغفار کو اپنی زندگی کا معمول بنانا چاہیے، لیکن کسی ایسی مخصوص تعداد یا مدت کو سنت یا لازمی عمل قرار نہیں دینا چاہیے جس کی معتبر شرعی دلیل موجود نہ ہو۔

پریشانی میں نماز کو نہ چھوڑیں

مشکل حالات میں بعض لوگ نماز سے غافل ہوجاتے ہیں، حالانکہ یہی وہ وقت ہے جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نماز قائم کریں، قرآن پڑھیں، دعا مانگیں اور اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں۔

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ

ترجمہ: صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو۔

قرآنی حوالہ: سورۃ البقرۃ، آیت 153، سپارہ 2۔

اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دل کو اطمینان دیں

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ

ترجمہ: خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دل اطمینان پاتے ہیں۔

قرآنی حوالہ: سورۃ الرعد، آیت 28، سپارہ 13۔

ذکر کا مقصد صرف کسی مخصوص دنیاوی نتیجے کی ضمانت حاصل کرنا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا، اس کی اطاعت کرنا اور اپنے دل کو اس کے ساتھ جوڑنا ہے۔

پریشانی میں غلط اور غیر ثابت شدہ وظائف سے بچیں

اسلامی رہنمائی حاصل کرتے وقت قرآن کریم کی آیات اور نبی کریم ﷺ سے ثابت شدہ دعاؤں کو ترجیح دینی چاہیے۔ کسی غیر ثابت شدہ عمل کے لیے مخصوص دن، مخصوص تعداد یا یقینی نتیجے کا دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔

یہ کہنا درست نہیں کہ فلاں دعا اتنی مرتبہ پڑھنے سے لازماً اتنے دن میں ہر پریشانی ختم ہوجائے گی، جب تک اس دعوے کی معتبر شرعی دلیل موجود نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ سے اچھا گمان رکھیں

مومن کو مشکل حالات میں اللہ تعالیٰ کے بارے میں اچھا گمان رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حالات کو ہم سے زیادہ جانتا ہے۔ کبھی انسان جس چیز کو اپنے لیے بہتر سمجھتا ہے وہ اس کے حق میں بہتر نہیں ہوتی، جبکہ اللہ تعالیٰ اپنے علم اور حکمت کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے۔

اپنے غم کو اللہ تعالیٰ کے سامنے بیان کریں

حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے غم کے بارے میں فرمایا:

إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ

ترجمہ: میں تو اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں۔

قرآنی حوالہ: سورۃ یوسف، آیت 86، سپارہ 13۔

اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ بندہ اپنے غم اور پریشانی کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرسکتا ہے اور اسی سے مدد مانگ سکتا ہے۔

پریشانی میں حرام راستے اختیار نہ کریں

مالی، گھریلو یا کاروباری پریشانی انسان کو غلط راستے کی طرف لے جاسکتی ہے، لیکن مسلمان کو مشکل وقت میں بھی حرام سے بچنا چاہیے۔ حلال راستہ مشکل محسوس ہو تو بھی اللہ تعالیٰ پر اعتماد رکھتے ہوئے حلال کوشش جاری رکھنی چاہیے۔

دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں

اپنی پریشانی کی وجہ سے گھر والوں، رشتہ داروں یا دوسرے لوگوں کے حقوق ضائع نہیں کرنے چاہییں۔ غصہ، بدزبانی، ظلم اور ناانصافی مسئلے کو مزید بڑھا دیتے ہیں۔ مومن کو مشکل حالات میں بھی حسن اخلاق اور عدل کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔

شکر اور صبر دونوں اختیار کریں

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مومن کا معاملہ عجیب ہے، اس کے ہر معاملے میں خیر ہے۔ اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے خیر ہے، اور اگر اسے تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے اور یہ بھی اس کے لیے خیر ہے۔

مستند حوالہ: صحیح مسلم، کتاب الزہد والرقائق، باب: مومن کا معاملہ سراسر خیر ہے، حدیث نمبر 2999۔

پریشانی کو اللہ تعالیٰ سے دوری کا سبب نہ بنائیں

مشکل وقت میں قرآن، نماز اور ذکر سے دور ہونا مسئلے کا حل نہیں۔ مومن کو چاہیے کہ آزمائش کے وقت اپنے رب کے ساتھ تعلق مزید مضبوط کرے۔ نماز کی پابندی، قرآن کی تلاوت، مسنون دعائیں اور استغفار زندگی میں امید پیدا کرتے ہیں۔

اسلامی سوال و جواب (FAQ)

سوال 1: پریشانی اور غم کے وقت کون سی دعا پڑھنی چاہیے؟

رسول اللہ ﷺ سے یہ دعا ثابت ہے:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ، وَالْعَجْزِ وَالْكَسَلِ، وَالْجُبْنِ وَالْبُخْلِ، وَضَلَعِ الدَّيْنِ، وَغَلَبَةِ الرِّجَالِ

مستند حوالہ: صحیح البخاری، کتاب الدعوات، حدیث نمبر 6369۔

سوال 2: کیا پریشانی اور غم پر بھی اجر ملتا ہے؟

جی ہاں۔ صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق مومن کو پہنچنے والی تکلیف، غم، بیماری اور فکر اس کے بعض گناہوں کے کفارے کا سبب بنتی ہے۔

مستند حوالہ: صحیح مسلم، کتاب البر والصلة والآداب، حدیث نمبر 2573۔

سوال 3: کیا پریشانی میں ڈاکٹر یا ماہر سے مدد لینا درست ہے؟

جی ہاں۔ جائز طبی اور نفسیاتی مدد حاصل کرنا ممنوع نہیں۔ دعا، ذکر اور توکل کے ساتھ مناسب علاج اور عملی اسباب اختیار کیے جاسکتے ہیں۔

سوال 4: کیا ہر دعا کے لیے مخصوص تعداد مقرر کرنا ضروری ہے؟

نہیں۔ جس دعا یا ذکر کی مخصوص تعداد نبی کریم ﷺ سے ثابت ہو اسے دلیل کے مطابق ادا کیا جائے۔ اپنی طرف سے کسی مخصوص تعداد کو سنت یا لازمی عمل قرار نہیں دینا چاہیے۔

سوال 5: پریشانی کے وقت سب سے اہم بات کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع، نماز کی پابندی، دعا، ذکر، استغفار، صبر، توکل اور جائز عملی کوشش کو اختیار کرنا چاہیے۔ مایوسی اور حرام راستوں سے بچنا چاہیے۔

عملی نصیحت

اگر آپ کسی پریشانی میں مبتلا ہیں تو سب سے پہلے نماز کی پابندی مضبوط کریں، اللہ تعالیٰ سے اپنے الفاظ میں دعا کریں، ثابت شدہ مسنون دعائیں پڑھیں، قرآن کریم سے تعلق قائم کریں، استغفار کریں اور اپنی پریشانی کے عملی حل کے لیے جائز کوشش کریں۔ اگر مسئلہ بہت شدید ہو تو قابل اعتماد اہل علم، خاندان کے سمجھدار افراد یا مناسب ماہرین سے مدد لیں۔

قرآن کریم کے مکمل حوالہ جات

سورۃ البقرۃ، آیت 153، سپارہ 2: صبر اور نماز کے ذریعے مدد۔

سورۃ الرعد، آیت 28، سپارہ 13: اللہ کے ذکر سے دلوں کا اطمینان۔

سورۃ یوسف، آیت 86، سپارہ 13: غم اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرنا۔

سورۃ الزمر، آیت 53، سپارہ 24: اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ناامیدی سے بچنا۔

سورۃ الطلاق، آیت 3، سپارہ 28: اللہ تعالیٰ پر توکل۔

سورۃ نوح، آیات 10 تا 12، سپارہ 29: استغفار۔

سورۃ الشرح، آیات 5 تا 6، سپارہ 30: مشکل کے ساتھ آسانی۔

مستند احادیث کے مکمل حوالہ جات

صحیح البخاری: کتاب الدعوات، باب: بزدلی اور سستی سے اللہ کی پناہ مانگنا، حدیث نمبر 6369۔

صحیح مسلم: کتاب البر والصلة والآداب، باب: مومن کو بیماری، غم اور دوسری تکالیف پہنچنے پر اجر، حدیث نمبر 2573۔

صحیح مسلم: کتاب الزہد والرقائق، باب: مومن کا معاملہ سراسر خیر ہے، حدیث نمبر 2999۔

متعلقہ Internal Posts

1. نماز کی اہمیت اور فضائل — قرآن و حدیث کی روشنی میں

2. استغفار کے فضائل اور صحیح طریقہ — قرآن و سنت کی روشنی میں

3. صبح و شام کے مسنون اذکار — مکمل رہنمائی

Website Backlink

اردو میں مزید اسلامی رہنمائی کے لیے ہماری ویب سائٹ وزٹ کریں:

https://www.themuslimwayoffiicial.com

Disclaimer

یہ مضمون قرآن کریم اور مستند احادیث کی روشنی میں عمومی اسلامی رہنمائی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ کسی مخصوص شرعی مسئلے کے لیے مستند عالمِ دین سے رجوع کیا جائے۔ غیر ثابت شدہ وظائف، مخصوص اعداد، مخصوص دنوں یا یقینی دنیاوی نتائج کے دعووں کو سنت یا شرعی ضمانت نہ سمجھا جائے۔

اگر کسی شخص کو مسلسل یا شدید ذہنی یا جذباتی پریشانی کا سامنا ہو اور اس سے روزمرہ زندگی متاثر ہورہی ہو تو دینی رہنمائی کے ساتھ مناسب طبی یا نفسیاتی مدد بھی حاصل کی جائے۔

Copyright

© 2026 The Muslim Way Offiicial — All Rights Reserved.

اس مضمون کو اجازت کے بغیر مکمل طور پر نقل، دوبارہ شائع یا تجارتی مقاصد کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

Call To Action (CTA)

اگر یہ مضمون آپ کے لیے مفید ثابت ہوا ہو تو اسے اپنے دوستوں اور اہلِ خانہ کے ساتھ ضرور شیئر کریں۔

اپنی قیمتی رائے کمنٹس میں ضرور لکھیں۔

مزید مستند اسلامی رہنمائی، قرآن و حدیث کی روشنی میں مضامین اور روزانہ نئی پوسٹس کے لیے ہماری ویب سائٹ ضرور وزٹ کریں:

https://www.themuslimwayoffiicial.com

آخری اپڈیٹ

10 اگست 2026