ذکرِ الٰہی کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں دلوں کا سکون

ذکرِ الٰہی کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں۔ دلوں کے سکون، روحانی فائدے اور ذکر کی اقسام پر جامع اسلامی مضمون۔

📝 تعارف

انسانی زندگی بے شمار فکروں، مصروفیات اور آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے۔ آج کا انسان سہولیات کے باوجود ذہنی دباؤ، بے چینی اور اضطراب کا شکار ہے۔ اسلام اس مسئلے کا حل ذکرِ الٰہی کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ ذکر صرف زبان کا عمل نہیں بلکہ دل، فکر اور عمل کا نام ہے۔ قرآن و حدیث میں ذکر کی اہمیت کو بار بار بیان کیا گیا ہے کیونکہ یہی وہ ذریعہ ہے جو انسان کو اللہ سے جوڑتا اور دل کو حقیقی سکون عطا کرتا ہے۔

یہ مضمون ذکرِ الٰہی کی فضیلت، اقسام اور عملی فوائد کو قرآن و سنت کی روشنی میں واضح کرتا ہے۔

🔸 ذکرِ الٰہی کا مفہوم

ذکرِ الٰہی سے مراد اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا ہے، خواہ:

زبان سے (تسبیح، تہلیل)

دل سے (اللہ کی عظمت کا احساس)

یا عمل سے (احکام پر عمل)

اسلام میں ذکر کو عبادت کا مرکز قرار دیا گیا ہے کیونکہ یہ بندے اور رب کے درمیان تعلق کو مضبوط کرتا ہے۔

🔸 قرآن مجید میں ذکر کی اہمیت

اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں:

“خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے”

(سورۃ الرعد: 28)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ذریعہ وہ سکون نہیں دے سکتا جو اللہ کے ذکر سے حاصل ہوتا ہے۔

ایک اور مقام پر فرمایا:

“پس تم مجھے یاد کرو، میں تمہیں یاد کروں گا”

(سورۃ البقرہ: 152)

یہ اللہ کی طرف سے بندے کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے۔

🔸 احادیث میں ذکر کی فضیلت

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“جو شخص اپنے رب کا ذکر کرتا ہے اور جو ذکر نہیں کرتا، ان دونوں کی مثال زندہ اور مردہ کی سی ہے”

(صحیح بخاری: 6407)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ ذکر انسان کی روحانی زندگی کی علامت ہے۔

ایک اور حدیث میں ہے:

“اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں، اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں”

(صحیح مسلم: 2675)

🔸 ذکر کی اقسام

اسلام میں ذکر کی کئی صورتیں ہیں:

1️⃣ زبانی ذکر

سبحان اللہ

الحمدللہ

اللہ اکبر

لا الٰہ الا اللہ

2️⃣ قلبی ذکر

دل میں اللہ کی عظمت، خوف اور محبت کا احساس رکھنا۔

3️⃣ عملی ذکر

اللہ کے احکام پر عمل کرنا، گناہوں سے بچنا، حقوق العباد ادا کرنا۔

🔸 ذکرِ الٰہی کے فوائد

ذکرِ الٰہی کے بے شمار فائدے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

دل کا سکون اور اطمینان

گناہوں کی معافی

ایمان میں مضبوطی

پریشانی اور خوف سے نجات

اللہ کی قربت

نبی ﷺ نے فرمایا:

“جو شخص کثرت سے استغفار کرتا ہے، اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے”

(سنن ابو داؤد: 1518)

🔸 آج کے دور میں ذکر کی ضرورت

موجودہ دور میں سوشل میڈیا، مادہ پرستی اور تیز رفتار زندگی نے انسان کو روحانی طور پر کمزور کر دیا ہے۔ ذکرِ الٰہی وہ واحد عمل ہے جو:

دل کو زندہ رکھتا ہے

نیت کو درست کرتا ہے

زندگی میں توازن پیدا کرتا ہے

اگر مسلمان روزانہ چند منٹ بھی ذکر کے لیے مخصوص کر لے تو اس کی زندگی میں واضح تبدیلی آ سکتی ہے۔

📌 نتیجہ

ذکرِ الٰہی کوئی مشکل یا مخصوص طبقے کی عبادت نہیں بلکہ ہر مسلمان کے لیے آسان اور ضروری عمل ہے۔ جو شخص اللہ کو یاد رکھتا ہے، اللہ اس کی زندگی میں آسانی، برکت اور سکون عطا فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ذکر کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنائیں تاکہ دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی حاصل کر سکیں۔


⚠️ Disclaimer

یہ مضمون تعلیمی و اصلاحی مقصد کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ کسی دینی یا فقہی مسئلے میں رہنمائی کے لیے مستند علماء سے رجوع کریں۔

© Copyright

© 2026 The Muslim Way | All Rights Reserved