الْوَهَّاب – اللہ پاک کا صفاتی نام | معنی، فضیلت اور قرآن و حدیث کی روشنی میں

Allah Pak ka Ism Mubarak Al-Wahhab – معنی، فضیلت، قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل اسلامی رہنمائی۔ جانئے اللہ تعالیٰ کی بے حساب عطا اور فضل۔


 اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام انسان کو اللہ کی ذات، اس کی رحمت اور اس کی بے پایاں عنایات سے روشناس کراتے ہیں۔ انہی بابرکت اور عظیم ناموں میں سے ایک نہایت خوبصورت نام الْوَهَّاب ہے۔ یہ نام اللہ تعالیٰ کی اس صفت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ بغیر مانگے، بغیر کسی بدلے اور بغیر کسی حد کے عطا فرمانے والا ہے۔

انسان دنیا میں کسی سے کچھ حاصل کرتا ہے تو اس کے بدلے میں کچھ نہ کچھ دینا پڑتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی عطا اس سے بالکل مختلف ہے۔ الْوَهَّاب وہ ذات ہے جو اپنی مخلوق کو محض اپنی رحمت اور فضل سے عطا کرتی ہے، نہ کسی فائدے کے لیے اور نہ کسی ضرورت کے تحت۔

الْوَهَّاب کا لغوی معنی

عربی زبان میں لفظ وَهَبَ کا مطلب ہے:

بلا عوض عطا کرنا، بخش دینا

الْوَهَّاب کا مطلب ہے:

“وہ ذات جو بار بار، کھلے دل سے اور بغیر کسی بدلے کے عطا فرمانے والی ہے۔”

یہ صرف دینے والا نہیں بلکہ مسلسل اور بے حساب عطا کرنے والا ہے۔

اللہ تعالیٰ کی عطا کا انداز

اللہ تعالیٰ کی عطا انسان کے تصور سے کہیں بڑھ کر ہے۔ وہ جسے چاہے:

مال دیتا ہے

اولاد عطا کرتا ہے

علم و حکمت دیتا ہے

عزت اور مقام عطا کرتا ہے

اور جسے چاہے ان سب چیزوں سے محروم بھی کر دیتا ہے۔ یہ سب اللہ کی حکمت کے تحت ہوتا ہے۔ الْوَهَّاب کا نام انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اگر آج کسی چیز کی کمی ہے تو کل اللہ عطا کرنے پر قادر ہے۔

انبیاء علیہم السلام اور الْوَهَّاب

قرآن مجید میں انبیاء علیہم السلام کی دعائیں ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ اللہ سے عطا مانگتے وقت الْوَهَّاب کو پکارا جائے۔ انبیاء نے اللہ سے بادشاہی، علم، اولاد اور حکمت مانگی، اور اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت الْوَهَّاب کے ذریعے انہیں نوازا۔

یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا صرف دنیاوی چیزوں تک محدود نہیں بلکہ روحانی نعمتیں بھی اسی کے ہاتھ میں ہیں۔

بغیر بدلے عطا کرنا

دنیا میں عطا اکثر شرط کے ساتھ ہوتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی عطا خالص ہوتی ہے۔ بندہ اگر اللہ کی بارگاہ میں عاجزی، اخلاص اور یقین کے ساتھ ہاتھ اٹھائے تو اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے، چاہے بندہ اس کا مستحق ہو یا نہ ہو۔ یہی اللہ کی شان ہے۔

الْوَهَّاب اور دعا

جو شخص اپنی دعاؤں میں یَا وَهَّابُ کو کثرت سے پکارتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔ یہ نام خاص طور پر ان لوگوں کے لیے باعثِ سکون ہے جو:

اولاد کی خواہش رکھتے ہوں

رزق یا روزگار میں رکاوٹ محسوس کرتے ہوں

ذہنی یا روحانی پریشانی میں ہوں

عطا اور شکر

اللہ تعالیٰ کی عطا کے ساتھ شکر لازم ہے۔ جو بندہ عطا پر شکر ادا کرتا ہے، اللہ اس کے لیے مزید نعمتوں کے دروازے کھول دیتا ہے۔ الْوَهَّاب کا تصور انسان کو شکر گزار اور عاجز بناتا ہے۔

روحانی فوائد

دل میں قناعت پیدا ہوتی ہے

حسد اور لالچ ختم ہوتا ہے

اللہ پر کامل یقین پیدا ہوتا ہے

دعا میں خشوع پیدا ہوتا ہے

دنیا اور آخرت کی نعمتیں

اللہ تعالیٰ الْوَهَّاب ہونے کے ناتے دنیا میں بھی عطا فرماتا ہے اور آخرت میں بھی۔ ایمان، ہدایت، نیک اعمال اور جنت کی نعمتیں سب اللہ کی عطا ہیں۔ مومن کی اصل نظر انہی دائمی نعمتوں پر ہونی چاہیے۔

حوالہ جات (قرآن و حدیث)

قرآن مجید:

“اے ہمارے رب! ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، بے شک تو ہی بہت عطا فرمانے والا (الْوَهَّاب) ہے۔”

(سورۃ آلِ عمران: 8)

“یہ ہمارے فضل سے ہے، ہم جسے چاہتے ہیں عطا کرتے ہیں۔”

(سورۃ ص: 39)

حدیثِ مبارکہ:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“اللہ تعالیٰ دینے والا ہے اور میں تقسیم کرنے والا ہوں۔”

(صحیح بخاری)

Disclaimer

یہ مضمون صرف اسلامی معلومات اور اصلاحی مقصد کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ کسی بھی فقہی یا شرعی مسئلے میں رہنمائی کے لیے مستند عالمِ دین سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

Copyright

© The Muslim Way – All Rights Reserved