قرآن کی اس آیت سے ہمیں کیا سیکھنا چاہیے؟ | قرآنی رہنمائی ہماری روزمرہ زندگی کے لیے
تعارف (Intro – 5 تا 6 سطریں)
قرآنِ مجید صرف پڑھنے کی کتاب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔ اس کی ہر آیت انسان کو زندگی گزارنے کا صحیح طریقہ سکھاتی ہے۔ آج کے دور میں جب ہر طرف پریشانیاں، بے چینی اور مایوسی پھیلی ہوئی ہے، قرآن ہمیں امید اور سکون کا راستہ دکھاتا ہے۔ اس پوسٹ میں ہم قرآن کی ایک نہایت اہم آیت پر غور کریں گے اور جانیں گے کہ اس سے ہمیں اپنی عملی زندگی میں کیا سبق ملتا ہے۔ یہ آیت ہمیں صبر، یقین اور اللہ پر بھروسہ کرنا سکھاتی ہے۔ اگر ہم اس آیت کو سمجھ لیں تو ہماری سوچ اور زندگی دونوں بدل سکتی ہیں۔
قرآن کی آیت (Arabic + اردو ترجمہ)
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا
(سورۃ الشرح، آیت 5–6)
ترجمہ:
“بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ یقیناً ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔”
آیت کی وضاحت (Main Explanation)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک بہت بڑی حقیقت سے آگاہ فرمایا ہے۔ انسان جب کسی مشکل، پریشانی یا آزمائش میں مبتلا ہوتا ہے تو اسے لگتا ہے کہ یہ مشکل کبھی ختم نہیں ہوگی۔ لیکن قرآن ہمیں یقین دلاتا ہے کہ ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی موجود ہوتی ہے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بات دو مرتبہ دہرائی، جو اس کے یقینی ہونے کی دلیل ہے۔
یہ آیت یہ نہیں کہتی کہ مشکل کے بعد آسانی آئے گی، بلکہ یہ کہتی ہے کہ مشکل کے ساتھ ہی آسانی ہوتی ہے۔ یعنی جس لمحے انسان مشکل میں ہوتا ہے، اسی لمحے اللہ کی مدد، رحمت اور آسانی بھی اس کے قریب ہوتی ہے، بس انسان کو صبر اور یقین کی ضرورت ہوتی ہے۔
حدیث کی روشنی میں
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“مومن کا معاملہ بڑا عجیب ہے، اس کا ہر معاملہ اس کے لیے بھلائی ہی بھلائی ہے۔”
(صحیح مسلم)
یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ مومن کے لیے مشکل بھی نقصان نہیں بلکہ فائدہ بن جاتی ہے، اگر وہ صبر کرے۔ اور آسانی میں شکر کرے تو وہ بھی اس کے لیے خیر کا باعث بنتی ہے۔
عملی سبق (Practical Lessons)
1️⃣ صبر اختیار کرنا
اس آیت کا سب سے بڑا پیغام صبر ہے۔ کوئی بھی پریشانی ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتی۔ صبر کرنے والا انسان اللہ کی مدد کے زیادہ قریب ہوتا ہے۔
2️⃣ اللہ پر مکمل بھروسہ
ہم اکثر اپنی عقل اور منصوبوں پر بھروسہ کرتے ہیں، لیکن اصل کامیابی تب ملتی ہے جب انسان اللہ پر توکل کرتا ہے۔
3️⃣ مایوسی سے بچنا
مایوسی کفر کے قریب لے جاتی ہے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ چاہے حالات کتنے ہی خراب کیوں نہ ہوں، امید کبھی نہیں چھوڑنی چاہیے۔
4️⃣ نماز اور دعا کی پابندی
مشکل وقت میں نماز اور دعا انسان کو روحانی طاقت دیتی ہے اور دل کو سکون عطا کرتی ہے۔
آج کے دور میں اس آیت کی اہمیت
آج کا انسان ذہنی دباؤ، ڈپریشن اور بے سکونی کا شکار ہے۔ معمولی مسائل بھی اسے توڑ دیتے ہیں۔ اگر ہم اس آیت کو دل سے مان لیں تو ہمیں یہ احساس ہوگا کہ ہر مسئلے کا حل موجود ہے۔ اللہ کسی بندے کو آزمائش میں ڈال کر تنہا نہیں چھوڑتا۔ یہ آیت ہمیں امید، حوصلہ اور مضبوط ایمان عطا کرتی ہے۔
نتیجہ (Conclusion)
قرآن کی یہ آیت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ زندگی کی مشکلات عارضی ہیں، لیکن اللہ کی مدد ہمیشہ ہمارے ساتھ ہوتی ہے۔ اگر ہم صبر، دعا اور اللہ پر بھروسہ رکھیں تو کوئی بھی مشکل ہمیں توڑ نہیں سکتی۔ ہمیں چاہیے کہ قرآن کو صرف پڑھیں نہیں بلکہ اس پر عمل بھی کریں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
© 2026 The Muslim Way. All Rights Reserved.

Comments
Post a Comment
براہِ کرم با ادب اور موضوع سے متعلق تبصرہ کریں۔
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔