صبر کی فضیلت — حدیثِ نبوی ﷺ کی روشنی میں
حدیثِ رسول ﷺ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ»
📘 حوالہ:
صحیح البخاری، حدیث: 1469
صحیح مسلم، حدیث: 1053
ترجمہ:
کسی انسان کو صبر سے بہتر اور وسیع نعمت کوئی عطا نہیں کی گئی۔
حدیث کی وضاحت
اس حدیث میں نبی کریم ﷺ نے صبر کو تمام نعمتوں سے افضل قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صبر:
انسان کو اللہ پر مضبوط یقین عطا کرتا ہے
آزمائش کو عبادت بنا دیتا ہے
غصے، مایوسی اور جلد بازی سے بچاتا ہے
ایمان کو کمزور ہونے سے محفوظ رکھتا ہے
صبر صرف دکھ برداشت کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ کے حکم پر ثابت قدم رہنے کا نام ہے۔
صبر کی تین اہم اقسام
1. مصیبت پر صبر
تکلیف یا آزمائش کے وقت شکوہ چھوڑ کر اللہ پر بھروسہ رکھنا۔
2. نیکی پر صبر
نماز، روزہ، حلال کمائی اور دینی ذمہ داریوں پر ثابت قدم رہنا۔
3. گناہ سے بچنے پر صبر
خواہش کے باوجود حرام سے رک جانا، جو سب سے اعلیٰ درجے کا صبر ہے۔
قرآنِ مجید میں صبر کا اجر
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾
(سورۃ الزمر: 10)
ترجمہ:
بے شک صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔
آج کے دور میں صبر کی ضرورت
آج انسان فوراً نتیجہ چاہتا ہے، لیکن صبر کے بغیر:
فیصلے غلط ہوتے ہیں
رشتے کمزور پڑتے ہیں
ایمان متزلزل ہو جاتا ہے
صبر انسان کو سکون، حکمت اور اللہ کی قربت عطا کرتا ہے۔
خلاصہ
صبر ایمان کی بنیاد ہے
صبر ہر آزمائش کا بہترین جواب ہے
صبر کا اجر اللہ کے پاس بے حساب ہے
Disclaimer
یہ تحریر عمومی اسلامی رہنمائی کے لیے ہے، اسے حتمی فتویٰ نہ سمجھا جائے۔
کسی خاص شرعی مسئلے میں مستند عالمِ دین یا مفتی سے رجوع کریں۔
© 2026 The Muslim Way — All Rights Reserved

Comments
Post a Comment
براہِ کرم با ادب اور موضوع سے متعلق تبصرہ کریں۔
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔