بیٹی کی تربیت: پردہ، شرم و حیا اور اسلامی اقدار کی روشنی میں
اسلام نے بیٹی کو عزت، رحمت اور اللہ کی خاص نعمت قرار دیا ہے۔ بیٹی کی صحیح تربیت نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنتی ہے۔ آج کے دور میں، جہاں فحاشی، بے حیائی اور مغربی ثقافت کے اثرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں، وہاں بیٹی کی تربیت میں پردہ، شرم اور حیا کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
اسلام بیٹی کو محدود نہیں کرتا بلکہ اسے عزت، تحفظ اور وقار عطا کرتا ہے۔ پردہ اور حیا بیٹی کے لیے قید نہیں بلکہ اس کی شخصیت کو محفوظ رکھنے والی ڈھال ہیں۔
بیٹی کی تربیت کی بنیاد
اسلامی تربیت کی بنیاد ایمان، حیا اور اخلاق پر ہے۔ بچپن سے ہی بیٹی کے دل میں اللہ کا خوف، خودداری اور شرافت پیدا کرنا والدین کی ذمہ داری ہے۔ بیٹی جو کچھ بچپن میں سیکھتی ہے، وہی اس کی پوری زندگی کی بنیاد بنتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے بیٹیوں کی تربیت کو جنت کا ذریعہ قرار دیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اسلام میں بیٹی کی پرورش کتنی اہم ہے۔
پردہ: عزت اور تحفظ
پردہ محض لباس کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل طرزِ زندگی ہے۔ پردہ نگاہ، گفتگو، چال ڈھال اور رویے سب کو شامل کرتا ہے۔ اسلام نے بیٹی کو یہ سکھایا کہ وہ اپنی خوبصورتی کو ہر ایک کے سامنے ظاہر نہ کرے بلکہ اپنی عزت کی حفاظت کرے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ﴾
“اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں۔”
(سورۃ النور: 31)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ پردہ عورت کے احترام اور پاکیزگی کے لیے ہے، نہ کہ اس کی آزادی چھیننے کے لیے۔
شرم و حیا: ایمان کی علامت
حیا اسلام کا بنیادی وصف ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“حیا ایمان کا حصہ ہے۔”
(صحیح بخاری: 9)
بیٹی میں حیا پیدا کرنا دراصل اس کے ایمان کو مضبوط کرنا ہے۔ حیا اسے غلط راستوں سے بچاتی ہے اور صحیح فیصلے کرنے میں مدد دیتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات
نبی کریم ﷺ بیٹیوں کے ساتھ نہایت شفقت اور محبت سے پیش آتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
“جس نے دو بیٹیوں کی اچھی تربیت کی، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا۔”
(سنن ترمذی: 1914)
یہ حدیث والدین کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ بیٹیوں کی صحیح تربیت جنت کا ذریعہ ہے۔
عملی تربیت کیسے کریں؟
بیٹی کی تربیت صرف نصیحت سے نہیں بلکہ عملی نمونے سے ہوتی ہے:
گھر کا ماحول پاکیزہ رکھیں
ماں خود پردے اور حیا کی مثال بنے
بیٹی کو اعتماد دیں، خوف نہیں
سوشل میڈیا کے درست استعمال کی رہنمائی کریں
دین کے ساتھ تعلیم کو بھی اہمیت دیں
بیٹی کو یہ احساس دلائیں کہ پردہ اس کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت ہے۔
آج کے دور میں چیلنجز
آج بیٹیاں فیشن، میڈیا اور سوشل پریشر کا شکار ہیں۔ اگر والدین نے بروقت اسلامی تربیت نہ دی تو بیٹی ذہنی الجھن کا شکار ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ بیٹی کو محبت، حکمت اور دین کے ساتھ تربیت دی جائے۔
نتیجہ
بیٹی کی تربیت ایک امانت ہے۔ پردہ، شرم اور حیا بیٹی کو باوقار، مضبوط اور بااعتماد بناتے ہیں۔ اگر ہم اپنی بیٹیوں کو اسلامی اقدار کے ساتھ پروان چڑھائیں تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ پورے معاشرے کے لیے رحمت بن جائیں گی۔
📖 حوالہ جات:
قرآن مجید: سورۃ النور، آیت 31
صحیح بخاری: حدیث 9
سنن ترمذی: حدیث 1914
📌 Disclaimer: یہ مضمون اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عمومی رہنمائی کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ کسی مخصوص دینی یا خاندانی مسئلے میں مستند عالمِ دین سے رجوع کرنا بہتر ہے۔
© Copyright: © 2026 The Muslim Way. All rights reserved.

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔