غسل اور وضو کے فرائض، واجبات اور ضروری دعائیں
اسلام پاکیزگی اور طہارت کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ عبادات کی قبولیت کے لیے جسمانی اور روحانی پاکی ضروری ہے، اسی لیے شریعتِ اسلامیہ میں غسل اور وضو کے واضح احکام بیان کیے گئے ہیں۔ ہر مسلمان مرد و عورت کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ غسل اور وضو کے فرائض، واجبات اور سنتیں کیا ہیں اور ان کے ساتھ کون سی دعائیں پڑھنی چاہئیں۔
اکثر لوگ عبادت تو کرنا چاہتے ہیں مگر طہارت کے مسائل سے ناواقف ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے عبادت میں کمی یا غلطی ہو جاتی ہے۔ اس مضمون میں ہم آسان اور جامع انداز میں غسل اور وضو کے ضروری احکام بیان کریں گے۔
غسل کیا ہے؟
غسل پورے جسم کو پاک کرنے کا ایک مخصوص شرعی طریقہ ہے، جو بعض حالتوں میں فرض ہو جاتا ہے۔ غسل کے بغیر نماز، تلاوتِ قرآن اور دیگر عبادات جائز نہیں ہوتیں۔
غسل کے فرض (حنفی فقہ کے مطابق)
غسل کے تین فرض ہیں:
کلی کرنا (منہ کے اندر ہر جگہ پانی پہنچانا)
ناک میں پانی ڈالنا (نرم ہڈی تک)
پورے جسم پر اس طرح پانی بہانا کہ کوئی حصہ خشک نہ رہے
اگر ان تین میں سے کوئی ایک بھی رہ جائے تو غسل مکمل نہیں ہوتا۔
وضو کیا ہے؟
وضو نماز اور بعض عبادات کے لیے شرط ہے۔ وضو کے ذریعے انسان جسمانی صفائی کے ساتھ روحانی تازگی بھی حاصل کرتا ہے۔
وضو کے فرض
وضو کے چار فرض ہیں:
پورے چہرے کو دھونا
دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا
سر کا چوتھائی حصہ مسح کرنا
دونوں پاؤں ٹخنوں سمیت دھونا
ان فرائض کے بغیر وضو درست نہیں ہوتا۔
وضو کے واجبات اور سنتیں (مختصر)
نیت کرنا
بسم اللہ پڑھنا
ترتیب کے ساتھ اعضا دھونا
ہر عضو تین تین مرتبہ دھونا
مسواک کرنا
یہ چیزیں وضو کو کامل اور ثواب والا بناتی ہیں۔
غسل اور وضو کی ضروری دعائیں
وضو شروع کرنے کی دعا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
وضو کے بعد کی دعا
أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
ترجمہ:
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ﷺ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔
غسل کی نیت
دل میں یہ ارادہ کرنا کافی ہے:
“میں پاکی حاصل کرنے کے لیے غسل کرتا ہوں۔”
طہارت کی اہمیت قرآن و حدیث کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴾
“بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔”
(سورۃ البقرہ: 222)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“پاکیزگی نصف ایمان ہے۔”
(صحیح مسلم: 223)
عملی نصیحت
غسل اور وضو کے مسائل سیکھنا ہر مسلمان پر ضروری ہے
جلدی میں فرض چھوڑنے سے عبادت ضائع ہو سکتی ہے
بچوں کو بھی شروع سے طہارت کی تربیت دیں
نتیجہ
غسل اور وضو صرف ظاہری صفائی نہیں بلکہ عبادت کی بنیاد ہیں۔ جب طہارت صحیح ہوگی تو نماز، تلاوت اور دیگر عبادات میں دل کا سکون اور قبولیت نصیب ہوگی۔ ہمیں چاہیے کہ طہارت کے مسائل کو درست طریقے سے سیکھیں اور اپنی عبادات کو مکمل بنائیں۔
📖 حوالہ جات:
قرآن مجید: سورۃ البقرہ، آیت 222
صحیح مسلم: حدیث 223
فقہ حنفی کتبِ طہارت
📌 Disclaimer: یہ مضمون اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عمومی رہنمائی کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ فقہی اختلاف یا خاص مسئلے کی صورت میں مستند عالمِ دین سے رجوع کرنا بہتر ہے۔
© Copyright: © 2026 The Muslim Way. All rights reserved

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔