نیت اور اخلاص کی اہمیت: اسلام میں اعمال کی قبولیت کی بنیاد
اسلام ایک ایسا مکمل دین ہے جو انسان کے ظاہر ہی نہیں بلکہ باطن کو بھی سنوارتا ہے۔ اعمال کی اصل روح نیت ہے، اور نیت کی روح اخلاص۔ بظاہر ایک ہی عمل دو افراد کریں، مگر ایک کے لیے وہ نجات کا ذریعہ بن جائے اور دوسرے کے لیے وبال—اس فرق کی وجہ صرف اور صرف نیت ہوتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی احادیث میں بار بار اس حقیقت کو واضح فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اعمال کی قدر و قیمت نیت اور اخلاص سے متعین ہوتی ہے۔
نیت کیا ہے؟
نیت دل کے اس ارادے کو کہتے ہیں جس کے تحت انسان کوئی عمل کرتا ہے۔ زبان سے کہنا ضروری نہیں، اصل چیز دل کا قصد ہے۔ اگر عمل اللہ کی رضا کے لیے ہو تو وہ عبادت بن جاتا ہے، اور اگر نیت میں دنیا، شہرت یا لوگوں کی تعریف شامل ہو جائے تو وہی عمل بے وزن ہو جاتا ہے۔
اخلاص کا مفہوم
اخلاص کا مطلب ہے:
عمل کو ہر طرح کے دکھاوے، شہرت، مفاد اور لوگوں کی خوشنودی سے پاک کر کے صرف اللہ کے لیے کرنا۔
اخلاص وہ صفت ہے جو کم عمل کو بھی بڑا بنا دیتی ہے اور اس کے بغیر بڑے سے بڑا عمل بھی بے قیمت ہو جاتا ہے۔
بنیادی حدیث: اعمال کا دار و مدار نیت پر ہے
حضرت عمر بن خطابؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی۔"
(صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیث اسلام کی بنیادی احادیث میں شمار ہوتی ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ دین کے نصف سے زیادہ اصول اسی ایک حدیث میں سمٹ آتے ہیں۔
اخلاص کیوں ضروری ہے؟
قبولیت کی شرط
اللہ تعالیٰ کسی بھی عمل کو اس وقت تک قبول نہیں فرماتا جب تک وہ خالص اسی کے لیے نہ ہو۔
ریا سے حفاظت
اخلاص انسان کو ریا (دکھاوے) سے بچاتا ہے، جو اعمال کو ضائع کر دیتی ہے۔
عمل میں برکت
اخلاص والا تھوڑا عمل بھی زیادہ اثر رکھتا ہے۔
اخلاص کے بغیر عمل کی مثال
ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے:
اگر نیت اللہ کی رضا ہے → عبادت
اگر نیت لوگوں کو دکھانا ہے → ریا
اگر نیت تعریف حاصل کرنا ہے → اجر ختم
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ سب سے زیادہ بے نیاز ہے، جو شخص کسی عمل میں میرے ساتھ کسی اور کو شریک کرے، میں اس عمل کو اور اس کے شریک کو چھوڑ دیتا ہوں۔"
(صحیح مسلم)
اخلاص اور ریا کا فرق
اخلاص
ریا
عمل صرف اللہ کے لیے
عمل لوگوں کے لیے
دل مطمئن
دل بے چین
آخرت میں اجر
آخرت میں خسارہ
اخلاص عبادات میں
نماز: اللہ کے سامنے عاجزی کے ساتھ
روزہ: صرف اللہ کے لیے، نہ دکھاوا
صدقہ: چھپا کر دینا افضل
علم: عمل کے لیے سیکھنا، شہرت کے لیے نہیں
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو علم اس لیے سیکھے کہ علماء سے مقابلہ کرے یا لوگوں کی توجہ حاصل کرے، وہ جہنم میں جائے گا۔"
(سنن ابن ماجہ)
اخلاص کیسے پیدا کیا جائے؟
عمل سے پہلے نیت کو ٹٹولیں
بار بار دل کو یاد دلائیں کہ اللہ دیکھ رہا ہے
چھپ کر نیک اعمال کرنے کی عادت ڈالیں
تعریف ملنے پر دل میں خوشی نہ آنے دیں
دعا

Comments
Post a Comment
براہِ کرم با ادب اور موضوع سے متعلق تبصرہ کریں۔
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔