الْفَتَّاحُ – اللہ تعالیٰ کا بابرکت نام، ہر بند دروازے کو کھولنے والا
مکمل اسلامی مضمون (قرآن و حدیث کی روشنی میں)
اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے الْفَتَّاحُ ایک نہایت عظیم، امید افزا اور دل کو سکون دینے والا نام ہے۔ الفتاح کا مطلب ہے کھولنے والا، فیصلہ کرنے والا، رکاوٹیں دور کرنے والا۔ یہ وہ ذات ہے جو بند دروازے کھول دیتی ہے، مشکل حالات میں راستے بنا دیتی ہے، اور حق و باطل کے درمیان فیصلہ فرما دیتی ہے۔
جب انسان ہر طرف سے مایوس ہو جاتا ہے، راستے بند نظر آتے ہیں، رزق، روزگار، شادی، اولاد یا کسی اور معاملے میں رکاوٹ آ جاتی ہے، تو اللہ کا نام الْفَتَّاحُ بندے کے لیے امید کی کرن بن جاتا ہے۔
الْفَتَّاحُ کا لغوی اور اصطلاحی معنی
لفظ فتح عربی زبان میں کھولنے، فیصلہ کرنے اور کامیابی عطا کرنے کے معنی میں آتا ہے۔
الْفَتَّاحُ کا مطلب ہوا:
ہر بند دروازہ کھولنے والا
ہر مشکل کا حل پیدا کرنے والا
حق اور باطل کے درمیان فیصلہ کرنے والا
دلوں کے بند قفل کھولنے والا
اللہ تعالیٰ جب کسی بندے پر فتح فرماتا ہے تو وہ فتح صرف ظاہری نہیں ہوتی بلکہ دل، عقل اور حالات سب پر ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں اسمِ الفتاح
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں ارشاد فرماتا ہے:
﴿رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ﴾
(سورۃ الاعراف: 89)
ترجمہ:
“اے ہمارے رب! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرما دے، اور تو سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔”
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کو خَيْرُ الْفَاتِحِينَ کہا گیا ہے، یعنی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا اور کھولنے والا۔
اللہ الفتاح اور بندوں کی مشکلات
اللہ تعالیٰ کا نام الفتاح ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:
کوئی مشکل ہمیشہ نہیں رہتی
ہر بند دروازے کی چابی اللہ کے پاس ہے
ناامیدی کفر کے قریب لے جاتی ہے
دعا اور صبر کے ساتھ راستے کھلتے ہیں
اکثر انسان جلدی مایوس ہو جاتا ہے، حالانکہ اللہ الفتاح ہوتا ہے جو عین اس وقت راستہ کھولتا ہے جب بندہ ہمت ہارنے لگتا ہے۔
حدیثِ مبارکہ میں اللہ کی رحمت اور فتح
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ فرماتا ہے جیسا بندہ اس سے گمان رکھتا ہے۔”
(صحیح بخاری)
جب بندہ اللہ کو الْفَتَّاحُ سمجھ کر پکارتا ہے، تو اللہ اس کے لیے راستے کھول دیتا ہے، چاہے وہ راستے بندے کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوں۔
الْفَتَّاحُ پڑھنے کے فوائد
اللہ کے اس نام کو پڑھنے اور اس پر یقین رکھنے کے بے شمار فوائد ہیں:
رزق میں آسانی
کاروبار میں برکت
بند معاملات کا حل
ذہنی دباؤ اور بے چینی میں کمی
حق بات سمجھنے اور سمجھانے کی توفیق
دشمنوں اور رکاوٹوں پر غلبہ
جو شخص مستقل یقین کے ساتھ اللہ کو الفتاح کہہ کر پکارتا ہے، اللہ اس کے لیے دروازے کھول دیتا ہے۔
الْفَتَّاحُ کا روحانی فائدہ
یہ نام صرف دنیاوی مسائل کے لیے نہیں بلکہ روحانی بندشوں کو بھی کھولتا ہے۔
دل کی سختی، عبادت میں سستی، گناہوں کی عادت — یہ سب قفل ہیں، اور ان کی کنجی اللہ الفتاح ہے۔
الْفَتَّاحُ کا آسان وظیفہ
اگر کوئی شخص مشکل میں ہو تو یہ وظیفہ اختیار کرے:
فجر کے بعد
111 مرتبہ
یَا فَتَّاحُ
آخر میں دعا کرے
یہ وظیفہ مستقل مزاجی اور یقین کے ساتھ پڑھا جائے تو اللہ تعالیٰ غیر متوقع انداز میں راستے کھول دیتا ہے۔
اللہ الفتاح پر کامل یقین
اللہ الفتاح پر یقین رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ:
ہم نتیجہ اللہ پر چھوڑ دیں
حرام راستوں سے بچیں
صبر اور شکر کے ساتھ دعا کریں
اللہ تعالیٰ وقت مقرر کرتا ہے، اور جب وہ وقت آتا ہے تو ایک نہیں کئی دروازے کھول دیتا ہے۔
خلاصہ
الْفَتَّاحُ اللہ تعالیٰ کا وہ مبارک نام ہے جو ناامیدی کو امید میں بدل دیتا ہے۔
جو بندہ اللہ کو دل سے پکارے، اللہ اس کے لیے ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔
حوالہ جات (References)
قرآن مجید: سورۃ الاعراف، آیت 89
صحیح بخاری، کتاب التوحید
تفسیر ابن کثیر
شرح اسماء الحسنیٰ
ڈسکلیمر
یہ مضمون صرف اسلامی معلومات اور رہنمائی کے لیے ہے۔ کسی بھی روحانی عمل کو مستقل مزاجی، صحیح عقیدے اور شریعت کے مطابق کرنا ضروری ہے۔
کاپی رائٹ
© The Muslim Way — All Rights Reserved

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔