صبر کی اہمیت: قرآن و حدیث کی روشنی میں ایک جامع رہنمائی
انسانی زندگی آزمائشوں، مشکلات اور امتحانات سے بھری ہوئی ہے۔ کوئی بیماری کی شکل میں آزمائش سے گزرتا ہے، کوئی مالی تنگی میں مبتلا ہوتا ہے، اور کوئی گھریلو یا معاشرتی مسائل کا سامنا کرتا ہے۔ ایسے حالات میں جو صفت انسان کو ثابت قدم رکھتی ہے وہ صبر ہے۔ اسلام میں صبر محض خاموش رہنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا پر دل کو مطمئن رکھنا، شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے استقامت اختیار کرنا اور گناہ سے بچتے ہوئے اللہ پر بھروسا کرنا ہے۔ قرآن و حدیث میں صبر کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، حتیٰ کہ صبر کرنے والوں کے لیے بے حساب اجر کی بشارت دی گئی ہے۔
صبر کا مفہوم
عربی زبان میں صبر کے معنی ہیں: روک لینا، ثابت قدم رہنا، اور برداشت کرنا۔
اسلامی اصطلاح میں صبر سے مراد:
اللہ کے احکامات پر ثابت قدم رہنا
گناہوں سے خود کو روکنا
مصیبت کے وقت شکوہ شکایت کے بجائے اللہ پر اعتماد رکھنا
یہی وجہ ہے کہ صبر کو ایمان کا آدھا حصہ قرار دیا گیا ہے۔
قرآنِ مجید میں صبر کی اہمیت
قرآن مجید میں صبر کا ذکر درجنوں مقامات پر آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ مَعَ الصَّابِرِينَ﴾
(سورۃ البقرہ: 153)
ترجمہ:
اے ایمان والو! صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو، بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ صبر انسان کو اللہ کی معیت (ساتھ) نصیب کرتا ہے، اور اس سے بڑی کامیابی کوئی نہیں۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
﴿إِنَّمَا يُوَفَّى الصَّابِرُونَ أَجْرَهُم بِغَيْرِ حِسَابٍ﴾
(سورۃ الزمر: 10)
ترجمہ:
صبر کرنے والوں کو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔
احادیثِ نبوی ﷺ میں صبر کی فضیلت
رسول اللہ ﷺ نے صبر کو عظیم نعمت قرار دیا۔
حدیث 1
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ”
(صحیح بخاری: 1469، صحیح مسلم: 1053)
ترجمہ:
کسی شخص کو صبر سے بہتر اور وسیع عطیہ نہیں دیا گیا۔
حدیث 2
ایک اور حدیث میں فرمایا:
“عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ، إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ”
(صحیح مسلم: 2999)
ترجمہ:
مومن کے معاملے پر تعجب ہے، اس کا ہر معاملہ خیر ہی خیر ہے؛ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، اور اگر تکلیف پہنچے تو صبر کرتا ہے۔
صبر کی اقسام
علماء کے مطابق صبر کی تین بنیادی اقسام ہیں:
1) اطاعت پر صبر
نماز، روزہ، حجاب، اور دیگر عبادات پر مستقل مزاجی۔
2) گناہ سے بچنے پر صبر
خواہشات اور نفس کے تقاضوں کو قابو میں رکھنا۔
3) مصیبت پر صبر
بیماری، نقصان، یا کسی بھی آزمائش میں شکوہ کے بجائے اللہ پر بھروسا۔
صبر اور کامیابی کا تعلق
صبر وقتی خاموشی نہیں بلکہ طویل جدوجہد کا نام ہے۔ تاریخِ اسلام گواہ ہے کہ:
انبیاء علیہم السلام نے شدید آزمائشوں میں صبر کیا
صحابہؓ نے تکالیف برداشت کر کے دین کو غالب کیا
جو قومیں صبر کو چھوڑ دیتی ہیں وہ جلد مایوسی اور ناکامی کا شکار ہو جاتی ہیں، جبکہ صبر کرنے والی قومیں بالآخر کامیاب ہوتی ہیں۔
ہماری روزمرہ زندگی میں صبر
آج کے دور میں:
گھریلو جھگڑے
مالی مسائل
سوشل میڈیا کا دباؤ
جلد غصہ آ جانا
یہ سب ہمیں صبر کی ضرورت یاد دلاتے ہیں۔ صبر ہمیں جذباتی فیصلوں سے بچاتا ہے، تعلقات محفوظ رکھتا ہے اور اللہ کے قریب کرتا ہے۔
عملی نصیحت
مشکل وقت میں فوراً ردعمل دینے کے بجائے رک جائیں
نماز اور دعا کو مضبوط کریں
یہ یقین رکھیں کہ ہر آزمائش عارضی ہے
اللہ تعالیٰ کی حکمت پر اعتماد رکھیں
نتیجہ
صبر ایک ایسا نور ہے جو اندھیروں میں راستہ دکھاتا ہے۔ قرآن و حدیث ہمیں بتاتے ہیں کہ صبر نہ صرف دنیا میں سکون کا سبب ہے بلکہ آخرت میں عظیم کامیابی کا ذریعہ بھی ہے۔ اگر ہم واقعی کامیاب مومن بننا چاہتے ہیں تو صبر کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنانا ہوگا۔
Disclaimer
یہ تحریر عمومی اسلامی رہنمائی کے لیے ہے۔ کسی خاص مسئلے میں مستند عالم یا مفتی سے براہِ راست رجوع کرنا بہتر ہے۔
© Copyright
© The Muslim Way — All Rights Reserved

Comments
Post a Comment
براہِ کرم با ادب اور موضوع سے متعلق تبصرہ کریں۔
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔