اسلام میں حیا کی اہمیت

اسلام میں حیا کی اہمیت، قرآن و حدیث کی روشنی میں حیا کا مفہوم، فوائد اور عملی زندگی میں حیا اپنانے کی ضرورت کو آسان اور جامع انداز میں بیان کیا گیا ہے

 

اسلام ایک ایسا مکمل دین ہے جو انسان کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطن کو بھی سنوارتا ہے۔ اسلامی اخلاقیات میں جس صفت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے، وہ حیا ہے۔ حیا انسان کو برائی سے روکتی ہے اور نیکی کی طرف مائل کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں حیا کو ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

آج کے دور میں جہاں بے حیائی کو آزادی اور فیشن کا نام دے دیا گیا ہے، وہاں حیا کی اہمیت کو سمجھنا اور اپنانا پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ حیا انسان کے کردار کو مضبوط بناتی ہے اور معاشرے کو پاکیزگی عطا کرتی ہے۔

اسلام میں حیا صرف عورت تک محدود نہیں بلکہ مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں اہم ہے۔ حیا انسان کی گفتگو، لباس، نگاہ اور رویّے سب میں ظاہر ہوتی ہے۔

حیا کی تعریف

حیا وہ اندرونی کیفیت ہے جو انسان کو غلط کام سے شرمندگی اور ندامت کی طرف لے جائے۔ یہ انسان کو اللہ کی نافرمانی سے روکتی ہے اور اسے حدود میں رہنے کی تلقین کرتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“حیا ایمان کا حصہ ہے۔”

(صحیح بخاری: 9)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ حیا اور ایمان ایک دوسرے سے جدا نہیں۔

قرآن کی روشنی میں حیا

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ﴾

“بے شک اللہ حق بات بیان کرنے میں حیا نہیں کرتا۔”

(سورۃ الاحزاب: 53)

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حیا حق سے دور نہیں کرتی بلکہ انسان کو سچائی کے ساتھ باوقار بناتی ہے۔

ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾

(سورۃ النور: 30)

یہ حکم اس بات کا ثبوت ہے کہ حیا کا تعلق نگاہ سے بھی ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی حیا

نبی کریم ﷺ حیا میں تمام انسانوں سے بڑھ کر تھے۔ صحابہؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کنواری لڑکی سے بھی زیادہ حیا دار تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ نے حیا کو اسلام کی پہچان قرار دیا۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

“ہر دین کی ایک پہچان ہوتی ہے، اور اسلام کی پہچان حیا ہے۔”

(سنن ابن ماجہ: 4181)

حیا کے فوائد

ایمان مضبوط ہوتا ہے

گناہوں سے حفاظت ہوتی ہے

کردار میں وقار پیدا ہوتا ہے

معاشرہ پاکیزہ بنتا ہے

آج ہمیں حیا کیوں اپنانی چاہیے؟

سوشل میڈیا، فحش مواد اور بے پردگی نے نوجوان نسل کو شدید متاثر کیا ہے۔ اگر حیا کو دوبارہ زندہ نہ کیا گیا تو اخلاقی زوال تیزی سے بڑھے گا۔ حیا نہ صرف فرد بلکہ پورے معاشرے کے لیے رحمت ہے۔

نتیجہ

اسلام میں حیا محض ایک اخلاقی خوبی نہیں بلکہ ایمان کی بنیاد ہے۔ جو شخص حیا کو اپناتا ہے، وہ اللہ کے قریب ہو جاتا ہے اور جو حیا چھوڑ دیتا ہے، وہ آہستہ آہستہ ایمان سے دور ہو جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگی میں حیا کو جگہ دیں اور اپنی نسلوں کو بھی اس کی تعلیم دیں۔

📖 حوالہ جات:

قرآن مجید: سورۃ النور (30)، سورۃ الاحزاب (53)

صحیح بخاری: حدیث 9

سنن ابن ماجہ: حدیث 4181