اسمِ مبارک المُؤْمِنُ — اللہ تعالیٰ کی امان اور یقین عطا کرنے والی صفت

اسمِ مبارک المُؤْمِنُ کے معنی، قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت، روحانی فوائد اور عملی سبق۔ جانیں اللہ تعالیٰ کا یہ عظیم نام ہمیں امن اور یقین کیسے عطا


 تعارف

اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں المُؤْمِنُ ایک نہایت بامعنی اور روح کو سکون دینے والا نام ہے۔

یہ اسم اللہ تعالیٰ کی اس صفت کو ظاہر کرتا ہے جس کے ذریعے وہ اپنی مخلوق کو امن، اطمینان اور یقین عطا کرتا ہے۔

انسان کی زندگی خوف، بے یقینی اور آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے، اور ایسے میں اسم المُؤْمِنُ دلوں کو سہارا دیتا ہے۔

المُؤْمِنُ کے لغوی و اصطلاحی معنی

لفظ المُؤْمِنُ “اَمن” سے نکلا ہے۔

لغوی معنی:

امن دینے والا، تحفظ فراہم کرنے والا

اصطلاحی معنی:

وہ ذات جو:

اپنے بندوں کو خوف سے نجات دے

وعدوں میں سچا ہو

اپنے رسولوں کی تصدیق فرمائے

قیامت کے دن اہلِ ایمان کو امن عطا کرے

قرآنِ کریم میں اسم المُؤْمِنُ

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ

(سورۃ الحشر: 23)

ترجمہ:

“وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ، پاک، سلامتی دینے والا، امان دینے والا ہے۔”

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ المُؤْمِنُ اللہ کی مستقل اور عظیم صفت ہے۔

حدیث کی روشنی میں امان اور ایمان

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ

(صحیح بخاری)

ترجمہ:

“مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔”

یہ حدیث اسم المُؤْمِنُ کا عملی تقاضا بیان کرتی ہے۔

اسم المُؤْمِنُ کے روحانی فوائد

دل کو خوف سے نجات ملتی ہے

ایمان میں مضبوطی آتی ہے

وسوسے کم ہوتے ہیں

مشکلات میں سکون نصیب ہوتا ہے

اللہ پر توکل بڑھتا ہے

عملی سبق

اللہ کے وعدوں پر مکمل یقین رکھنا

دوسروں کے لیے امن کا ذریعہ بننا

خوف کے وقت اللہ کو المُؤْمِنُ کے نام سے پکارنا

ایمان اور عمل میں سچائی اختیار کرنا

ہماری زندگی میں المُؤْمِنُ کا اثر

🟢 حوالہ جات

قرآنِ کریم: سورۃ الحشر (59:23)

صحیح بخاری

صحیح مسلم

جو شخص اللہ کو المُؤْمِنُ مان لیتا ہے:

Disclaimer


وہ مایوسی سے بچ جاتا ہے

وہ حرام سے محفوظ رہتا ہے

وہ لوگوں کے لیے باعثِ امان بنتا ہے

نتیجہ

اسم المُؤْمِنُ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل امن دنیا کے سہاروں میں نہیں بلکہ اللہ پر کامل ایمان میں ہے۔

جو شخص اللہ کو سچا امان دینے والا مان لیتا ہے، اس کا دل کبھی خالی نہیں رہتا۔


نوٹ: یہ مضمون اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اصلاح اور رہنمائی کے لیے ہے۔ کسی فقہی یا شرعی مسئلے میں مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔

🟢 Copyright

© 2026 The Muslim Way — All Rights Reserved