اسمِ مبارک الْمُصَوِّر — اللہ کی تخلیقی حکمت، معنی اور قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی
تمہید
اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ انسان کو صرف اللہ کی پہچان ہی نہیں دیتے بلکہ اس کے ایمان، فکر اور کردار کی اصلاح بھی کرتے ہیں۔ ہر اسمِ مبارک ایک مستقل صفت کو ظاہر کرتا ہے جو اللہ کی ذاتِ اقدس کی عظمت اور کمال کی دلیل ہے۔ انہی عظیم اسماء میں سے ایک نہایت بامعنی اور گہرا نام الْمُصَوِّر ہے۔ یہ نام ہمیں اللہ تعالیٰ کی تخلیقی حکمت، ترتیب اور حسن کا شعور عطا کرتا ہے۔
اسمِ مبارک الْمُصَوِّر کا لغوی معنی
لغوی معنی:
صورت بنانے والا، شکل عطا کرنے والا۔
اصطلاحی معنی:
الْمُصَوِّر وہ ذات ہے جو ہر مخلوق کو اس کی منفرد صورت، شکل، ساخت اور پہچان عطا فرماتی ہے، اور کوئی دو مخلوقات بالکل ایک جیسی نہیں بناتیں۔
اللہ کی تخلیق میں صورت گری کا کمال
اگر ہم کائنات پر غور کریں تو ہمیں ہر طرف صورتوں کا حیرت انگیز تنوع نظر آتا ہے۔ انسان، جانور، پرندے، درخت، پہاڑ حتیٰ کہ ہر انسان کا چہرہ دوسرے سے مختلف ہے۔ یہ فرق خود بخود نہیں بلکہ ایک ایسی ذات کے ارادے اور حکمت کا نتیجہ ہے جو الْمُصَوِّر ہے۔
انسانی چہرہ اس کی شناخت ہے۔ آنکھوں، ناک، ہاتھوں، انگلیوں کی لکیروں تک میں فرق پایا جاتا ہے۔ یہ سب اللہ کی صفتِ تصویر سازی کا عملی اظہار ہے۔
قرآنِ کریم میں اسمِ الْمُصَوِّر
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ ۖ لَهُ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَىٰ
(سورۃ الحشر: 24)
ترجمہ:
وہی اللہ ہے، پیدا کرنے والا، درست وجود دینے والا، صورت بنانے والا، اسی کے لیے سب اچھے نام ہیں۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ تخلیق کے مراحل میں سب سے آخر میں صورت عطا کرنا اللہ کی خاص صفت ہے، جو ہر مخلوق کو منفرد بناتی ہے۔
حدیثِ نبوی ﷺ اور تصویر سازی کا تصور
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے آدم کو اپنی پسندیدہ صورت میں پیدا فرمایا۔
(صحیح بخاری)
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ صورت سازی میں حکمت، ترتیب اور مقصد رکھتا ہے، اور انسان کو ایک باوقار اور مکمل ساخت دی گئی ہے۔
اسمِ الْمُصَوِّر پر ایمان کے اثرات
جو شخص اس نام پر غور کرتا ہے، اس کی زندگی میں کئی مثبت تبدیلیاں آتی ہیں:
خود کو کمتر یا بے کار سمجھنے کا رجحان ختم ہوتا ہے
اللہ کی تخلیق پر شکر گزاری پیدا ہوتی ہے
حسد اور دوسروں سے موازنہ کم ہو جاتا ہے
ظاہری خوبصورتی پر غرور ختم ہوتا ہے
باطنی اصلاح کی فکر پیدا ہوتی ہے
انسانی تکبر کا رد
اکثر انسان اپنی خوبصورتی، جسم یا شکل پر فخر کرتا ہے، جبکہ اسمِ الْمُصَوِّر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:
صورت ہم نے خود نہیں بنائی
حسن ہماری ملکیت نہیں
جو دیا گیا ہے وہ اللہ کا عطیہ ہے
لہٰذا تکبر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اسمِ الْمُصَوِّر اور تقدیر
بعض لوگ اپنی جسمانی ساخت یا حالات سے ناخوش ہوتے ہیں۔ یہ اسم ہمیں سکھاتا ہے کہ:
اللہ نے جو صورت دی، وہ حکمت پر مبنی ہے
ہر کمی کسی نہ کسی مصلحت کے تحت ہے
اصل قدر شکل نہیں بلکہ کردار ہے
روحانی فائدے اور ورد
اہلِ علم کے مطابق:
روزانہ 21 مرتبہ “یا مُصَوِّر” پڑھنے سے
دل میں اطمینان پیدا ہوتا ہے
اپنی ذات سے قبولیت آتی ہے
اللہ کی حکمت پر یقین مضبوط ہوتا ہے
(یہ تجرباتی باتیں ہیں، شرعی حکم نہیں)
عملی سبق
اسمِ الْمُصَوِّر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ:
ظاہری خوبصورتی عارضی ہے
اصل حسن اخلاق اور کردار میں ہے
اللہ کی دی ہوئی صورت پر شکر واجب ہے
📚 حوالہ جات
قرآنِ کریم — سورۃ الحشر: 24
صحیح بخاری
تفسیر ابنِ کثیر
شرح اسمائے حسنیٰ — امام غزالیؒ
⚠️ Disclaimer
یہ مضمون صرف دینی آگاہی اور اصلاحِ نفس کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ کسی بھی شرعی، فقہی یا اعتقادی مسئلے میں مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔
© Copyright
© The Muslim Way — All rights reserved.

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔