اسمِ مبارک الْبَارِئ — معنی، فضیلت اور قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی
تمہید
اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ محض نام نہیں بلکہ صفاتِ الٰہیہ کا آئینہ ہیں۔ ہر نام انسان کو اللہ کی پہچان، اس کی قدرت اور حکمت سے روشناس کراتا ہے۔ انہی مبارک ناموں میں سے ایک عظیم نام الْبَارِئ ہے، جو اللہ تعالیٰ کی تخلیقی حکمت اور کامل منصوبہ بندی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ نام ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ نہ صرف پیدا کرتا ہے بلکہ ہر مخلوق کو اس کے مقصد کے مطابق درست اور متوازن وجود عطا فرماتا ہے۔
الْبَارِئ کا لغوی اور اصطلاحی معنی
لغوی معنی:
عیب سے پاک پیدا کرنے والا، درست انداز میں وجود میں لانے والا۔
اصطلاحی معنی:
الْبَارِئ وہ ذات ہے جو مخلوق کو عدم سے وجود میں لا کر اسے ہر نقص، بے ترتیبی اور خرابی سے پاک بنائے، اور ہر چیز کو اس کی فطرت کے مطابق مکمل صورت عطا کرے۔
قرآنِ کریم میں اسمِ مبارک الْبَارِئ
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
هُوَ اللَّهُ الْخَالِقُ الْبَارِئُ الْمُصَوِّرُ
(سورۃ الحشر: 24)
ترجمہ:
وہی اللہ ہے، پیدا کرنے والا، درست وجود عطا کرنے والا، صورت بنانے والا۔
اس آیت میں الْخَالِق، الْبَارِئ اور الْمُصَوِّر تینوں صفات اکٹھی بیان ہوئیں، جو تخلیق کے مکمل مراحل کو واضح کرتی ہیں۔
تخلیق میں الْبَارِئ کی صفت
اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی نقص، کمی یا بے ترتیبی نہیں۔ انسان کا جسم، آنکھوں کی ساخت، دل کی دھڑکن، دماغ کی پیچیدگی — سب اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ سب ایک ایسے خالق کی تخلیق ہے جو الْبَارِئ ہے، یعنی ہر چیز کو مکمل توازن کے ساتھ پیدا کرنے والا۔
حدیثِ مبارکہ میں تخلیق کی تکمیل
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو بہترین طریقے سے بنایا۔
(صحیح مسلم)
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کی تخلیق نہ صرف وجود میں لائی گئی بلکہ بہترین انداز میں مکمل کی گئی۔
اسمِ الٰہی الْبَارِئ پر ایمان کے اثرات
اسمِ الْبَارِئ پر یقین رکھنے سے انسان کی زندگی میں درج ذیل مثبت تبدیلیاں آتی ہیں:
اللہ کی قدرت پر کامل یقین
اپنی کمزوری کا احساس
تکبر اور غرور میں کمی
شکر گزاری کی عادت
تقدیر پر رضامندی
عملی زندگی میں اسمِ الْبَارِئ کی جھلک
جب انسان یہ جان لیتا ہے کہ وہ ایک کامل خالق کی تخلیق ہے تو:
وہ خود کو حقیر یا بے مقصد نہیں سمجھتا
مایوسی سے بچتا ہے
اللہ کے فیصلوں پر صبر کرتا ہے
اپنی اصلاح کی کوشش کرتا ہے
اسمِ الْبَارِئ کا ورد اور روحانی فائدہ
علمائے کرام کے مطابق:
روزانہ 100 مرتبہ “یا بارئ” پڑھنا
ذہنی انتشار میں کمی
دل میں سکون
اللہ پر بھروسہ مضبوط کرتا ہے
(یہ روحانی تجربات ہیں، شرعی ضمانت نہیں)
اسمِ الْبَارِئ اور انسانی اصلاح
یہ اسم انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ:
اللہ نے ہمیں بے مقصد پیدا نہیں کیا
ہماری اصلاح اور بہتری ممکن ہے
جیسے اللہ تخلیق میں نقص سے پاک ہے، ویسے ہی ہمیں بھی اپنے کردار کو بہتر بنانا چاہیے
📚 حوالہ جات (References)
قرآنِ کریم، سورۃ الحشر: 24
صحیح مسلم
تفسیر ابن کثیر
⚠️ Disclaimer
یہ مضمون صرف دینی معلومات اور اصلاحِ نفس کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ کسی بھی فقہی یا اعتقادی مسئلے میں مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔
© Copyright
© The Muslim Way — All rights reserved.

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔