حدیثِ نبوی ﷺ: نیت کی اہمیت اور اعمال کا دارومدار
عَنۡ أَمِیۡرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ عُمَرَ بۡنِ الۡخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰهُ عَنۡهُ قَالَ: سَمِعۡتُ رَسُوۡلَ اللّٰهِ ﷺ یَقُوۡلُ:
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى…
📖 (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
ترجمہ:
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی اس نے نیت کی ہو۔
✨ حدیث کی وضاحت
یہ حدیث اسلام کی بنیادوں میں سے ایک ہے۔ علماء کرام کے مطابق دین کا بڑا حصہ اسی حدیث کے گرد گھومتا ہے۔ اس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ صرف عمل کافی نہیں بلکہ نیت کا درست ہونا بھی لازم ہے۔
نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج یا کوئی بھی نیکی — اگر نیت اللہ کی رضا کے لیے نہ ہو تو وہ عمل اجر سے خالی ہو سکتا ہے۔
🧠 نیت کیوں اتنی اہم ہے؟
نیت انسان کے عمل کو:
عبادت بناتی ہے
عادت یا دکھاوا بننے سے بچاتی ہے
ریاکاری سے محفوظ رکھتی ہے
مثال کے طور پر:
اگر کوئی شخص صدقہ اس لیے دے کہ لوگ اس کی تعریف کریں → اجر نہیں
اگر وہی صدقہ اللہ کی رضا کے لیے ہو → عظیم اجر
📿 روزمرہ زندگی میں نیت کا کردار
اسلام صرف مسجد تک محدود نہیں۔
اگر نیت درست ہو تو:
کام کرنا بھی عبادت ہے
گھر والوں کی خدمت بھی عبادت ہے
علم حاصل کرنا بھی عبادت ہے
نیت ایک عام عمل کو بھی ثواب کا ذریعہ بنا دیتی ہے۔
⚠️ نیت اور ریاکاری
ریاکاری نیت کو برباد کر دیتی ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
مجھے تم پر سب سے زیادہ خوف شرکِ اصغر کا ہے — یعنی ریا۔
اس لیے ہر عمل سے پہلے خود سے سوال کریں: کیا یہ کام واقعی اللہ کے لیے ہے؟
🌙 اس حدیث سے حاصل ہونے والے اسباق
اللہ نیت کو دیکھتا ہے، صرف عمل کو نہیں
چھوٹا عمل بھی بڑی نیت سے عظیم بن جاتا ہے
نیت کی اصلاح پوری زندگی کی اصلاح ہے
📖 خلاصہ
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ:
نیت دل کا عمل ہے، اور دل کی اصلاح کے بغیر اعمال قبول نہیں ہوتے۔
اگر ہم اپنی نیت درست کر لیں تو ہماری پوری زندگی عبادت بن سکتی ہے۔
🔹 مختصر Disclaimer
یہ تحریر اسلامی تعلیمات کے فہم کے لیے ہے۔ کسی بھی شرعی مسئلے میں مستند عالمِ دین سے رجوع کرنا بہتر ہے۔
© Copyright
© 2026 The Muslim Way. All rights reserved.
Comments
Post a Comment
براہِ کرم با ادب اور موضوع سے متعلق تبصرہ کریں۔
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔