اسمِ مبارک المتکبر — اللہ کی عظمت، حقیقی بزرگی اور تکبر کی حقیقت قرآن و حدیث کی روشنی میں

اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ محض نام نہیں بلکہ صفاتِ الٰہیہ کا آئینہ ہیں۔ ہر نام بندے کو اللہ کی پہچان، اس کی عظمت اور اپنی حقیقت یاد دلاتا ہے۔ انہی ع


 تمہید

اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ محض نام نہیں بلکہ صفاتِ الٰہیہ کا آئینہ ہیں۔ ہر نام بندے کو اللہ کی پہچان، اس کی عظمت اور اپنی حقیقت یاد دلاتا ہے۔ انہی عظیم ناموں میں سے ایک اسمِ مبارک المتکبر ہے، جسے سمجھنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ تکبر کا تعلق براہِ راست انسان کے رویّے، نیت اور انجام سے ہے۔

المتکبر کے لغوی اور اصطلاحی معنی

لغوی معنی:

المتكبر عربی لفظ “کِبْر” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں: بزرگی، عظمت، برتری۔

اصطلاحی معنی:

اللہ تعالیٰ کی وہ صفت جس کے ذریعے وہ اپنی کامل عظمت، شان اور کبریائی کا اظہار فرماتا ہے، ایسی بزرگی جو کسی اور کے لیے جائز نہیں۔

قرآن مجید میں اسم المتکبر

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ

(سورۃ الحشر: 23)

ترجمہ:

وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، بادشاہ، نہایت پاک، سلامتی دینے والا، امن دینے والا، نگہبان، غالب، زبردست اور بزرگی والا ہے۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ تکبر صرف اللہ کی صفت ہے، کسی انسان کو زیب نہیں دیتا۔

اللہ کا تکبر اور انسان کا تکبر – بنیادی فرق

یہاں ایک نکتہ سمجھنا ضروری ہے:

اللہ کا تکبر: حق، عدل اور عظمت پر مبنی

انسان کا تکبر: کمزوری، جہالت اور نفس کی پیداوار

انسان مٹی سے بنا ہے، چند سانسوں کا مہمان ہے، پھر بھی اگر غرور کرے تو یہ اللہ کی صفت پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

حدیثِ مبارکہ میں تکبر کی مذمت

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا۔

(صحیح مسلم)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ تکبر نجات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

المتکبر کا تقاضا: بندے کے لیے سبق

جب بندہ اللہ کو المتکبر مانتا ہے تو اس پر لازم ہے کہ:

عاجزی اختیار کرے

اپنی حیثیت کو پہچانے

لوگوں کو حقیر نہ سمجھے

اللہ کے سامنے جھکا رہے

جو شخص اللہ کے سامنے جھکتا ہے، اللہ اسے لوگوں میں بلند کر دیتا ہے۔

تکبر کی اقسام

اللہ کے مقابل تکبر – سب سے بڑا گناہ (ابلیس کی مثال)

رسول ﷺ کے مقابل تکبر – ہدایت سے محرومی

لوگوں کے مقابل تکبر – اخلاقی زوال

اسم المتکبر کا روحانی فائدہ

علما کے مطابق جو شخص کثرت سے یہ اسم پڑھے:

يَا مُتَكَبِّرُ

اس کے دل میں عاجزی پیدا ہوتی ہے

نفس کی سرکشی کم ہوتی ہے

غرور ٹوٹتا ہے

اللہ کی عظمت دل میں بیٹھتی ہے

ہمارے معاشرے میں تکبر کی شکلیں

مال پر غرور

علم پر غرور

نسب پر غرور

عبادت پر غرور

یہ سب چیزیں انسان کو اللہ سے دور کر دیتی ہیں۔

اسم المتکبر سے عملی اصلاح

اگر ہم واقعی اس اسم پر ایمان رکھتے ہیں تو:

گفتگو میں نرمی لائیں

اختلاف میں ادب رکھیں

خود کو بہتر نہیں، محتاج سمجھیں

اللہ کی بڑائی بیان کریں، اپنی نہیں

خلاصہ

المتكبر اللہ تعالیٰ کی وہ صفت ہے جو ہمیں ہماری حقیقت یاد دلاتی ہے۔

بندگی عاجزی کا نام ہے، اور عاجزی ہی اصل بزرگی ہے۔


📚 حوالہ جات (Hawala)

قرآن مجید: سورۃ الحشر، آیت 23

صحیح مسلم، کتاب الایمان

تفسیر ابن کثیر

⚠️ Disclaimer

یہ مضمون اسلامی تعلیمات کے عمومی فہم اور مستند مصادر پر مبنی ہے۔ کسی فقہی یا ذاتی مسئلے میں مستند عالمِ دین سے رجوع کریں۔

© Copyright

© The Muslim Way | All Rights Reserved