الْقَهَّار – اللہ پاک کا صفاتی نام | معنی، فضیلت اور قرآن و حدیث کی روشنی میں
Allah Pak ka Ism Mubarak Al-Qahhar – معنی، فضیلت، قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل اسلامی رہنمائی۔ جانئے اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت اور غلبہ۔
اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ ایمان کو مضبوط کرنے، دل کو اللہ کی عظمت سے آشنا کرنے اور انسان کو اس کی حقیقت یاد دلانے کا ذریعہ ہیں۔ انہی بابرکت ناموں میں ایک عظیم اور جلال والا نام الْقَهَّار ہے۔ یہ نام اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت، غلبہ اور کامل اختیار کو ظاہر کرتا ہے۔
الْقَهَّار انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ کائنات میں کوئی طاقت، کوئی بادشاہ، کوئی اختیار اللہ کے مقابلے میں کچھ نہیں۔ انسان خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، آخرکار وہ اللہ کے حکم کے تابع ہے۔
الْقَهَّار کا لغوی معنی
عربی زبان میں لفظ قہر کا معنی ہے:
دبانا، مغلوب کرنا، مکمل اختیار میں لینا
الْقَهَّار کا مطلب ہے:
“وہ ذات جو ہر چیز پر مکمل غلبہ رکھنے والی ہے، جس کے حکم کے آگے ہر طاقت بے بس ہے۔”
یہ صرف زبردستی نہیں بلکہ کامل عدل اور حکمت کے ساتھ غلبہ ہے۔
اللہ تعالیٰ کا غلبہ اور قدرت
اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا، جو زندگی اور موت دیتا ہے، جو بادشاہوں کو بادشاہی دیتا ہے اور چھین بھی لیتا ہے۔ انسان جب طاقت، دولت یا اختیار کے نشے میں آ جاتا ہے تو الْقَهَّار کا نام اسے اس کی حقیقت یاد دلاتا ہے۔
دنیا کے بڑے بڑے ظالم، جابر اور متکبر لوگ آئے اور چلے گئے، لیکن اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ہمیشہ باقی رہی۔ یہ اسی صفت الْقَهَّار کا مظہر ہے۔
الْقَهَّار اور عدلِ الٰہی
اللہ تعالیٰ کا قہر اندھا نہیں ہوتا۔ وہ:
مظلوم کی مدد کرتا ہے
ظالم کو مہلت دیتا ہے
اور وقت آنے پر انصاف کے ساتھ پکڑتا ہے
اللہ تعالیٰ کا قہر دراصل عدل کا دوسرا رخ ہے۔ اگر اللہ صرف مغفرت ہی فرماتا اور ظلم کو نہ روکتا تو دنیا میں انصاف باقی نہ رہتا۔
انسان کے لیے سبق
الْقَهَّار کا نام انسان کو تین بڑے سبق دیتا ہے:
تکبر سے بچاؤ
جو اللہ کے مقابلے میں خود کو بڑا سمجھے، وہ گمراہی میں ہے۔
ظلم سے دوری
جو ظلم کرتا ہے وہ یہ بھول جاتا ہے کہ اللہ اس پر قادر ہے۔
اللہ پر مکمل بھروسا
مومن جانتا ہے کہ اگر ساری دنیا اس کے خلاف ہو جائے، تب بھی اللہ کافی ہے۔
الْقَهَّار کو پکارنے کی فضیلت
جب انسان کسی طاقتور دشمن، ظالم نظام یا شدید مشکل میں گھِر جائے تو یَا قَهَّارُ کا ورد دل کو سکون دیتا ہے۔ یہ نام مومن کو یقین دلاتا ہے کہ:
اصل طاقت اللہ کے پاس ہے۔
کئی بزرگانِ دین نے لکھا ہے کہ جو شخص خوف، دشمنی یا ظلم کے وقت الْقَهَّار کو یاد کرتا ہے، اللہ اس کے لیے راستے کھول دیتا ہے۔
روحانی فوائد
دل میں اللہ کی عظمت پیدا ہوتی ہے
خوف صرف اللہ کا رہ جاتا ہے
باطل طاقتوں سے ڈر ختم ہوتا ہے
ایمان مضبوط ہوتا ہے
دنیا اور آخرت کا توازن
اللہ تعالیٰ الْقَهَّار بھی ہے اور الْغَفَّار بھی۔
وہ مغفرت بھی فرماتا ہے اور گرفت بھی کرتا ہے۔ یہی توازن انسان کو سیدھا راستہ دکھاتا ہے۔
حوالہ جات (قرآن و حدیث)
قرآن مجید:
“وہی اللہ ہے، واحد ہے، سب پر غالب (الْقَهَّار) ہے۔”
(سورۃ یوسف: 39)
“آج کس کی بادشاہی ہے؟ ایک اللہ کی، جو سب پر غالب ہے۔”
(سورۃ غافر: 16)
حدیثِ مبارکہ:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا ہے، یہاں تک کہ جب پکڑتا ہے تو پھر چھوڑتا نہیں۔”
(صحیح بخاری)
Disclaimer
یہ مضمون صرف دینی معلومات اور اصلاحی مقصد کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ کسی بھی شرعی یا فقہی مسئلے میں مستند عالمِ دین سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
Copyright
© The Muslim Way – All Rights Reserved

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔