الـرَّحِيمُ معنی، فضائل اور فوائد قرآن و حدیث کی روشنی میں

اسمائے حسنیٰ میں اسمِ مبارک “الرحیم” کے معنی، قرآنی آیات، احادیث، فضائل اور روحانی فوائد تفصیل سے جانیں۔


 🟢 تعارف

اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام انسان کو اللہ کی پہچان، اس کی صفات اور اس کی رحمت کی وسعت سمجھاتے ہیں۔ اسمِ مبارک “الرحیم” اللہ تعالیٰ کی اس خاص صفت کو ظاہر کرتا ہے جو مومن بندوں کے ساتھ دنیا اور آخرت میں خاص رحمت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔

اگرچہ “الرحمٰن” اور “الرحیم” دونوں رحمت سے متعلق ہیں، لیکن ان کے مفہوم اور دائرہ کار میں باریک مگر نہایت اہم فرق ہے، جسے سمجھنا ایمان میں گہرائی پیدا کرتا ہے۔

🔵 اسمِ مبارک: الـرَّحِيمُ

معنی:

بار بار رحم فرمانے والا، خاص رحمت کرنے والا

لغوی وضاحت:

“رحیم” اس ہستی کو کہتے ہیں جو بار بار، مسلسل اور خاص طور پر رحم کرے۔

یہ وہ رحمت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے نیک اور ایمان والے بندوں کے لیے مخصوص فرماتا ہے۔

📖 قرآنِ کریم میں اسم “الرحیم”

اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں “الرحیم” کا ذکر متعدد مقامات پر فرمایا ہے:

﴿وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِينَ رَحِيمًا﴾

“اور اللہ مومنوں پر بہت مہربان ہے”

📖 (سورۃ الاحزاب: 43)

ایک اور مقام پر فرمایا:

﴿إِنَّ اللّٰهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ﴾

“بے شک اللہ بہت بخشنے والا، نہایت رحم کرنے والا ہے”

📖 (سورۃ البقرہ: 173)

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ اللہ کی صفتِ رحیم خاص طور پر ایمان والوں کے لیے ہے۔

🟠 الرحمٰن اور الرحیم میں فرق

الرحمٰن

الرحیم

عام رحمت

خاص رحمت

مومن و کافر سب کے لیے

صرف مومنوں کے لیے

دنیا میں ظاہر

آخرت میں خاص طور پر

زندگی، رزق، ہوا، پانی

مغفرت، جنت، نجات

یہ فرق سمجھنا اللہ کی معرفت میں بہت اہم ہے۔

🌿 اسمِ “الرحیم” کے روحانی فوائد

علما اور بزرگانِ دین کے مطابق:

جو شخص کثرت سے “یا رحیم” پڑھتا ہے:

اس کے دل میں نرمی پیدا ہوتی ہے

غصہ کم ہوتا ہے

لوگوں کے لیے ہمدردی بڑھتی ہے

سخت دل انسان کے لیے یہ اسم بہت مفید ہے

گھریلو ناچاقیوں میں رحمت اور محبت پیدا ہوتی ہے

🤲 عملی وظیفہ

وظیفہ:

فجر کی نماز کے بعد

100 مرتبہ “یا رحیم”

آخر میں درود شریف

فائدہ:

دل کا سکون، ذہنی پریشانی میں کمی اور اللہ کی خاص رحمت کا حصول۔

⚠️ نوٹ: وظیفہ عبادت ہے، علاج کا نعم البدل نہیں۔

🕌 حدیثِ مبارکہ

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“اللہ تعالیٰ رحم کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا”

📚 (سنن ترمذی: 1924)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ جو بندہ اللہ کی صفت “الرحیم” کو اپناتا ہے، اللہ اس پر خاص رحم فرماتا ہے۔

🌼 ہماری زندگی میں اسم “الرحیم” کا عملی اثر

والدین بچوں پر رحم کریں

شوہر بیوی کے ساتھ نرمی اختیار کریں

طاقتور کمزور پر ظلم نہ کرے

دین میں سختی کے بجائے آسانی اپنائی جائے

یہی “الرحیم” کا عملی پیغام ہے۔


⚠️ مختصر Disclaimer

یہ تحریر اسلامی تعلیم اور عمومی دینی معلومات کے لیے ہے۔ کسی بھی روحانی عمل کو دنیاوی یا طبی علاج کا متبادل نہ سمجھا جائے۔

© Copyright

© 2026 The Muslim Way – All Rights Reserved