الْقَابِضُ – اللہ تعالیٰ کا بابرکت نام، رزق اور حالات کو روکنے والا
مکمل اسلامی مضمون (قرآن و حدیث کی روشنی میں)
اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے الْقَابِضُ ایک ایسا بابرکت نام ہے جو انسان کو زندگی کی سختیوں، تنگیوں اور آزمائشوں کا صحیح مفہوم سمجھاتا ہے۔
الْقَابِضُ کا مطلب ہے روک لینے والا، سمیٹنے والا، تنگی پیدا کرنے والا۔
یہ نام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ زندگی میں جو کبھی رزق کی کمی، دل کی گھبراہٹ یا حالات کی تنگی آتی ہے، وہ کسی حادثے یا ظلم کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ کے علم اور حکمت کے تحت ہوتی ہے۔
الْقَابِضُ کا لغوی اور اصطلاحی معنی
عربی زبان میں قبض کا مطلب ہے:
کسی چیز کو تھام لینا
روک لینا
محدود کر دینا
الْقَابِضُ وہ ذات ہے جو:
رزق کو روک لیتی ہے
حالات میں تنگی پیدا کرتی ہے
آزمائش کے لیے دلوں کو سمیٹ لیتی ہے
لیکن یہ سب کچھ حکمت اور عدل کے ساتھ ہوتا ہے، ظلم کے ساتھ نہیں۔
قرآن مجید میں قبض اور بسط کا تصور
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾
(سورۃ البقرہ: 245)
ترجمہ:
“اور اللہ ہی تنگی کرتا ہے اور کشادگی دیتا ہے، اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔”
یہ آیت واضح کر دیتی ہے کہ رزق کی تنگی اور فراخی دونوں اللہ کے اختیار میں ہیں۔
الْقَابِضُ اور زندگی کی تنگیاں
جب انسان کی زندگی میں:
رزق کم ہو جائے
کاروبار رک جائے
دل میں گھبراہٹ آ جائے
حالات مشکل ہو جائیں
تو اکثر لوگ مایوس ہو جاتے ہیں۔ لیکن مومن جانتا ہے کہ یہ اللہ القابض کی طرف سے ایک مرحلہ ہے، جو اکثر:
گناہوں کی اصلاح کے لیے
صبر سکھانے کے لیے
اللہ کی طرف لوٹنے کے لیے
آتا ہے۔
حدیثِ مبارکہ میں رزق کی تنگی و فراخی
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“بے شک اللہ ہی دینے والا ہے، اور میں صرف تقسیم کرنے والا ہوں۔”
(صحیح بخاری)
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ رزق کا اصل مالک اللہ ہے، وہی قابض بھی ہے اور باسط بھی۔
الْقَابِضُ پر ایمان کے فوائد
اس نام پر ایمان رکھنے سے:
مایوسی ختم ہوتی ہے
شکوہ کم ہوتا ہے
صبر پیدا ہوتا ہے
اللہ پر توکل مضبوط ہوتا ہے
دل مطمئن رہتا ہے
کیونکہ بندہ جان لیتا ہے کہ یہ تنگی ہمیشہ کے لیے نہیں۔
الْقَابِضُ اور صبر
اللہ جب قبض کرتا ہے تو اس کے ساتھ صبر بھی سکھاتا ہے۔
اور جو بندہ صبر کرتا ہے، اللہ اس کے لیے:
کشادگی کے دروازے کھولتا ہے
دل کو مضبوط کرتا ہے
اجر عطا فرماتا ہے
اکثر دیکھا گیا ہے کہ تنگی کے بعد آنے والی آسانی پہلے سے زیادہ بابرکت ہوتی ہے۔
الْقَابِضُ اور تربیتِ بندہ
اللہ القابض بندے کو یہ سکھاتا ہے کہ:
ہر نعمت مستقل نہیں
انسان کمزور ہے
اصل سہارا صرف اللہ ہے
یہی تنگی بندے کو غرور سے نکال کر عاجزی کی طرف لے آتی ہے۔
الْقَابِضُ کا آسان وظیفہ
اگر کوئی شخص رزق کی تنگی، دل کی گھبراہٹ یا مسلسل پریشانی میں ہو تو:
فجر کے بعد
111 مرتبہ
یَا قَابِضُ
آخر میں دعا کرے
ان شاء اللہ دل کو سکون اور حالات میں بہتری نصیب ہو گی۔
الْقَابِضُ اور امید
اللہ القابض کے ساتھ ہی الْبَاسِطُ بھی ہے۔
یعنی جو آج روک رہا ہے، وہی کل کھولنے والا بھی ہے۔
اسی لیے مومن کبھی ناامید نہیں ہوتا۔
خلاصہ
الْقَابِضُ اللہ تعالیٰ کا وہ بابرکت نام ہے جو ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ زندگی کی ہر تنگی ایک مقصد کے تحت ہے۔
اللہ جب لیتا ہے تو کسی بڑی عطا کے لیے، اور جب آزماتا ہے تو کسی بہتری کے لیے۔
حوالہ جات (References)
قرآن مجید: سورۃ البقرہ، آیت 245
صحیح بخاری
تفسیر ابن کثیر
شرح اسماء الحسنیٰ
ڈسکلیمر
یہ مضمون صرف اسلامی معلومات اور روحانی رہنمائی کے لیے ہے۔ کسی بھی وظیفے یا عمل کو شرعی حدود میں رہ کر کرنا ضروری ہے۔
کاپی رائٹ
© The Muslim Way — All Rights Reserved

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔