اسمِ مبارک: القادر (ٱلْقَادِرُ) — اللہ کی کامل قدرت اور اختیار

سمِ مبارک القادر کے معنی، قرآن و حدیث سے حوالہ جات، روحانی فوائد اور عملی زندگی میں اس کے اثرات۔ اللہ کی کامل قدرت کو سمجھنے کے لیے مکمل اسلامی رہنمائ


 تعارف

اسمِ مبارک القادر اللہ تعالیٰ کے اُن عظیم ناموں میں سے ہے جو اُس کی کامل قدرت، بے مثال اختیار اور ہر چیز پر مکمل کنٹرول کو ظاہر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ممکن اور ناممکن پر قادر ہے، اُس کی قدرت نہ وقت کی محتاج ہے اور نہ کسی سبب کی۔ کائنات کی تخلیق، اس کا نظم و ضبط، زندگی اور موت سب اسی کی قدرت کے مظاہر ہیں۔ ناظرہ قرآن اور اسلامی تعلیمات میں یہ اسم ایمان کو مضبوط کرتا ہے اور بندے کے دل میں توکل، صبر اور یقین پیدا کرتا ہے۔

القادر کے لغوی اور اصطلاحی معنی

لغوی معنی: قدرت رکھنے والا، طاقت والا، قادر۔

اصطلاحی معنی: وہ ذات جو ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتی ہے، جس کے لئے کوئی کام مشکل نہیں، جو جب چاہے جیسے چاہے کر دے۔

اللہ کی قدرت انسانی طاقت جیسی محدود نہیں بلکہ مطلق اور لا محدود ہے۔ انسان اسباب کا محتاج ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ سبب اور نتیجہ دونوں کا خالق ہے۔

قرآنِ کریم میں اسمِ القادر

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ذکر بار بار آیا ہے، جو انسان کو غور و فکر اور ایمان کی دعوت دیتا ہے۔

﴿إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ﴾

(بیشک اللہ ہر چیز پر قادر ہے)

— سورۃ البقرہ: 20

﴿أَوَلَيْسَ اللَّهُ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَنْ يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ﴾

(کیا اللہ مردوں کو زندہ کرنے پر قادر نہیں؟)

— سورۃ القیامہ: 40

یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ زندگی، موت، رزق، آزمائش اور نجات سب اللہ کی قدرت کے تحت ہیں۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں اللہ کی قدرت

نبی کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی قدرت کو پہچاننے اور اسی پر بھروسہ رکھنے کی تعلیم دی۔

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“اگر تمام لوگ جمع ہو کر تمہیں فائدہ پہنچانا چاہیں تو وہ تمہیں وہی فائدہ پہنچا سکتے ہیں جو اللہ نے لکھ دیا ہو، اور اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہیں تو وہ بھی وہی نقصان پہنچا سکتے ہیں جو اللہ نے لکھ دیا ہو۔”

— ترمذی

یہ حدیث بندے کو یہ یقین دلاتی ہے کہ اصل طاقت صرف اللہ کے پاس ہے۔

اسمِ القادر کا ہماری زندگی پر اثر

توکل میں اضافہ:

جب بندہ یہ جان لیتا ہے کہ ہر چیز اللہ کے اختیار میں ہے تو وہ مایوسی چھوڑ کر اللہ پر بھروسہ کرتا ہے۔

خوف اور پریشانی میں کمی:

مشکلات میں یہ یقین دل کو سکون دیتا ہے کہ اللہ ہر حال بدلنے پر قادر ہے۔

صبر اور شکر:

آزمائش میں صبر اور نعمت میں شکر، دونوں اسمِ القادر کی معرفت سے پیدا ہوتے ہیں۔

گناہوں سے بچاؤ:

اللہ کی قدرت کا یقین انسان کو گناہ سے روکتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ ہر چیز دیکھ اور کر سکتا ہے۔

القادر اور ناظرہ قرآن کی تعلیم

ناظرہ قرآن پڑھنے والا طالب علم جب اللہ کی قدرت پر ایمان رکھتا ہے تو وہ سیکھنے میں ثابت قدم رہتا ہے۔ حروف، مخارج اور تجوید میں مشکل آئے تو یہ یقین کہ “اللہ قادر ہے” حوصلہ دیتا ہے کہ محنت ضائع نہیں جائے گی۔

عملی نصیحتیں

روزانہ دعا میں اسمِ القادر کا ورد کریں

مشکل وقت میں “یا قادر” پڑھ کر اللہ سے مدد مانگیں

بچوں کو یہ سکھائیں کہ اصل طاقت اللہ کے پاس ہے

کامیابی کو اپنی طاقت نہیں بلکہ اللہ کی قدرت سمجھیں

روحانی فائدے

علمائے کرام کے مطابق اسمِ القادر کا ورد دل میں یقین پیدا کرتا ہے، وسوسوں کو کم کرتا ہے اور بندے کو اللہ کے قریب کرتا ہے۔ یہ اسم خاص طور پر کمزوری اور بے بسی کے احساس میں سکون دیتا ہے۔


حوالہ جات

قرآنِ کریم: سورۃ البقرہ (2:20)، سورۃ القیامہ (75:40)

حدیث: جامع ترمذی

Disclaimer

یہ تحریر صرف اسلامی تعلیم اور رہنمائی کے مقصد کے لیے ہے۔ اس کا مقصد کسی قسم کی فقہی یا ذاتی فتویٰ دینا نہیں۔

Copyright

© 2026 The Muslim Way — All rights reserved