پردہ: غلط فہمیاں اور حقیقت — اسلام کی روشنی میں
پردہ اسلام کا ایک اہم حکم ہے، مگر بدقسمتی سے آج کے دور میں اس کے بارے میں بے شمار غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ پردے کو عورت کی آزادی پر پابندی سمجھتے ہیں، تو کچھ اسے صرف ایک ثقافتی روایت قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ اسلام میں پردہ نہ تو جبر ہے اور نہ ہی پسماندگی کی علامت، بلکہ یہ عزت، وقار اور تحفظ کا ذریعہ ہے۔
اسلام نے عورت کو جو مقام عطا کیا ہے، وہ دنیا کے کسی اور نظام میں نہیں ملتا۔ پردہ اسی عزت کی حفاظت کے لیے دیا گیا ایک اصول ہے، نہ کہ عورت کو معاشرے سے کاٹنے کے لیے۔
پردے کے بارے میں عام غلط فہمیاں
❌ غلط فہمی 1: پردہ عورت کو محدود کر دیتا ہے
یہ سب سے عام غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام عورت کو تعلیم، تجارت اور سماجی زندگی کی اجازت دیتا ہے، مگر وقار اور حدود کے ساتھ۔ پردہ عورت کی صلاحیتوں کو نہیں روکتا بلکہ اسے بے جا نظروں اور استحصال سے محفوظ رکھتا ہے۔
❌ غلط فہمی 2: پردہ صرف لباس کا نام ہے
پردہ صرف کپڑوں تک محدود نہیں۔ اسلام میں پردہ:
نگاہ کا
گفتگو کا
چال ڈھال کا
سوشل رویّے کا
سب کو شامل کرتا ہے۔ صرف دوپٹہ اوڑھ لینا پردے کی مکمل شکل نہیں، بلکہ کردار اور نیت بھی پردے کا حصہ ہیں۔
❌ غلط فہمی 3: پردہ صرف عورت کے لیے ہے
اسلام میں حیا اور نگاہ کی پابندی مرد اور عورت دونوں کے لیے ہے۔ قرآن سب سے پہلے مردوں کو نگاہ نیچی رکھنے کا حکم دیتا ہے، پھر عورتوں کو۔
پردے کی حقیقت قرآن کی روشنی میں
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتے ہیں:
﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ﴾
“مومن مردوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔”
(سورۃ النور: 30)
اس کے بعد فرمایا:
﴿وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ﴾
“اور مومن عورتوں سے کہہ دو کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔”
(سورۃ النور: 31)
یہ آیات واضح کرتی ہیں کہ پردہ ایک مشترکہ اخلاقی نظام ہے، صرف عورت کے لیے مخصوص پابندی نہیں۔
پردہ عزت اور تحفظ کیوں ہے؟
اسلام عورت کو ایک قیمتی موتی کی طرح دیکھتا ہے۔ جس طرح قیمتی چیز کو محفوظ رکھا جاتا ہے، اسی طرح پردہ عورت کی عزت اور شخصیت کی حفاظت کرتا ہے۔ پردہ عورت کو اس کی خوبصورتی کے بجائے اس کے کردار سے پہچان دیتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“دنیا متاع ہے، اور دنیا کی سب سے بہترین متاع نیک عورت ہے۔”
(صحیح مسلم: 1467)
یہ حدیث عورت کے مقام اور عزت کو واضح کرتی ہے۔
جدید دور اور پردہ
آج کے دور میں میڈیا اور فیشن انڈسٹری نے بے حیائی کو آزادی کا نام دے دیا ہے۔ ایسے ماحول میں پردہ اختیار کرنا آسان نہیں، مگر یہی اصل آزمائش ہے۔ جو عورت پردہ اختیار کرتی ہے، وہ دراصل اپنے ایمان، خودداری اور اللہ پر اعتماد کا اعلان کرتی ہے۔
پردہ عورت کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتا ہے، کیونکہ وہ خود فیصلہ کرتی ہے کہ اسے کس حد تک خود کو ظاہر کرنا ہے۔
والدین اور معاشرے کی ذمہ داری
پردے کے معاملے میں جبر کے بجائے سمجھ، محبت اور تربیت ضروری ہے۔ بچیوں کو یہ بتایا جائے کہ پردہ سزا نہیں بلکہ تحفظ ہے۔ اگر والدین خود اسلامی اقدار پر عمل کریں تو اولاد بھی آسانی سے اپناتی ہے۔
نتیجہ
پردہ اسلام میں قید نہیں بلکہ عزت ہے۔ یہ عورت کی شخصیت کو نکھارتا ہے، اسے باوقار بناتا ہے اور معاشرے کو بے حیائی سے محفوظ رکھتا ہے۔ پردے کے بارے میں پائی جانے والی غلط فہمیاں دراصل اسلام کی اصل تعلیمات سے دوری کا نتیجہ ہیں۔ اگر ہم قرآن و سنت کی روشنی میں پردے کو سمجھیں تو اس کی حقیقت خود واضح ہو جاتی ہے۔
📖 حوالہ جات:
قرآن مجید: سورۃ النور، آیات 30–31
صحیح مسلم: حدیث 1467
📌 Disclaimer: یہ مضمون اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عمومی رہنمائی کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ کسی مخصوص دینی یا سماجی مسئلے میں مستند عالمِ دین سے رجوع کرنا بہتر ہے۔
© Copyright: © 2026 The Muslim Way. All rights reserved.

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔