اسمِ مبارک: الْجَبَّار — معنی، فضیلت اور روحانی اثرات
اللہ تعالیٰ کا اسمِ مبارک الْجَبَّار کے معنی، فضیلت، قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت، عملی زندگی میں اثرات اور روحانی فوائد اس جامع اسلامی مضمون میں پڑ
اسمائے حُسنیٰ اللہ تعالیٰ کی وہ مبارک صفات ہیں جن کے ذریعے بندہ اپنے رب کو پہچانتا، اس پر ایمان مضبوط کرتا اور اپنی عملی زندگی کو سنوارتا ہے۔ الْجَبَّار اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم نام ہے جو اس کی کامل قدرت، غلبہ اور حکمت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ نام ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اصل میں ٹوٹے دلوں کو جوڑنے والا، کمزوروں کو سہارا دینے والا اور ظلم و بغاوت کو اپنی قدرت سے ختم کرنے والا ہے۔
لغوی و اصطلاحی معنی
الْجَبَّار کا مادہ “ج ب ر” ہے۔ عربی لغت میں اس کے بنیادی معنی ہیں:
ٹوٹی ہوئی چیز کو جوڑ دینا
کمزور کو سہارا دینا
زبردست قدرت اور غلبہ رکھنا
اصطلاحی طور پر الْجَبَّار وہ ہستی ہے:
جس کی مرضی کے خلاف کچھ نہیں ہو سکتا
جو ہر کمی کو پورا کرنے والا ہے
جو مظلوم کو انصاف اور کمزور کو طاقت عطا کرتا ہے
اللہ تعالیٰ کا جبر ظلم کے معنی میں نہیں بلکہ کامل عدل، حکمت اور رحمت کے ساتھ ہوتا ہے۔
قرآنِ کریم میں ذکر
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
هُوَ اللَّهُ الَّذِي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْمَلِكُ الْقُدُّوسُ السَّلَامُ الْمُؤْمِنُ الْمُهَيْمِنُ الْعَزِيزُ الْجَبَّارُ الْمُتَكَبِّرُ
(سورۃ الحشر: 23)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے کئی عظیم اسماء کے ساتھ الْجَبَّار کو ذکر فرمایا، جو اس کے اقتدار اور کامل اختیار کی دلیل ہے۔
اللہ تعالیٰ کے جبار ہونے کے پہلو
1) ٹوٹے دلوں کا سہارا
اللہ تعالیٰ دلوں کی ٹوٹ پھوٹ کو جانتا ہے۔ جو انسان مایوسی، غم یا ناکامی میں ہوتا ہے، اللہ الْجَبَّار بن کر اس کے دل کو جوڑ دیتا ہے، اسے امید عطا کرتا ہے اور نئی راہیں دکھاتا ہے۔
2) کمزوروں کی مدد
دنیا میں کمزور انسان اکثر ظلم کا شکار ہو جاتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے مظلوم کو عزت اور ظالم کو پکڑ میں لے آتا ہے۔
3) کائنات پر کامل غلبہ
کائنات کا ہر نظام اللہ کے حکم سے چل رہا ہے۔ سورج، چاند، ہوائیں، بارش اور انسان کی زندگی کا ہر لمحہ اس کے قبضے میں ہے۔
ایمان پر اثر
جب بندہ الْجَبَّار پر ایمان لاتا ہے تو:
وہ مخلوق کے خوف سے آزاد ہو جاتا ہے
مشکلات میں اللہ پر بھروسا مضبوط ہوتا ہے
دل میں سکون اور اعتماد پیدا ہوتا ہے
ایسا ایمان انسان کو باطنی طاقت عطا کرتا ہے۔
عملی زندگی میں رہنمائی
صبر اور توکل
مشکل حالات میں یہ یقین رکھنا کہ اللہ الْجَبَّار ہے، انسان کو صبر اور توکل سکھاتا ہے۔
تکبر سے بچاؤ
اللہ کے جبار ہونے کا یقین انسان کو عاجزی سکھاتا ہے کیونکہ اصل طاقت صرف اللہ کے پاس ہے۔
دعا میں یقین
جو شخص ٹوٹے دل سے دعا کرے، اللہ الْجَبَّار اس کی حالت بدلنے پر قادر ہے۔
ذکر اور دعا
روزانہ دل کی توجہ کے ساتھ یہ ذکر کریں:
یَا جَبَّارُ، یَا اللّٰهُ
یہ ذکر دل کے خوف، کمزوری اور بے چینی کو کم کرتا ہے اور روحانی طاقت عطا کرتا ہے۔
مثال
ایک شخص شدید مالی یا گھریلو مشکلات میں مبتلا ہے۔ وہ دنیا کے سہاروں سے مایوس ہو چکا ہے۔ جب وہ اللہ کو الْجَبَّار جان کر دعا کرتا ہے تو اللہ اس کے لیے ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔
سبق
اصل طاقت صرف اللہ کے پاس ہے
اللہ ٹوٹے دلوں کو جوڑنے والا ہے
بندے کو ہر حال میں اللہ سے جڑنا چاہیے
حوالہ جات
قرآنِ کریم، سورۃ الحشر (59:23)
تفسیر ابن کثیر
شرح اسمائے حسنیٰ – امام غزالیؒ
Disclaimer
یہ مضمون صرف اسلامی تعلیم و رہنمائی کے مقصد سے تحریر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد کسی قسم کی فقہی یا قانونی فتویٰ دینا نہیں۔
Copyright
© 2026 The Muslim Way — All rights reserved.

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔