الْعَلِيمُ – اللہ تعالیٰ کا بابرکت نام، ہر ظاہر و باطن کو جاننے والا

اللہ العلیم ہر ظاہر و باطن کو جاننے والا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اسم العلیم کے معنی، فضیلت اور فوائد تفصیل سے پڑھیں۔


 مکمل اسلامی مضمون (قرآن و حدیث کی روشنی میں)

اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے الْعَلِيمُ ایک نہایت جامع، گہرے معنی رکھنے والا اور ایمان کو مضبوط کرنے والا نام ہے۔ العلیم کا مطلب ہے ہر چیز کو جاننے والا۔ ایسا جاننے والا جس سے نہ کوئی بات چھپی ہے، نہ کوئی خیال، نہ نیت، نہ دل کا راز، اور نہ ہی مستقبل و ماضی کا کوئی لمحہ۔

انسان کا علم محدود ہے، وہ صرف وہی جانتا ہے جو اس کے سامنے ہو یا جو اسے سکھایا جائے۔ لیکن اللہ العلیم ہے، جس کا علم کامل، قدیم، لا محدود اور ہر شے پر محیط ہے۔

الْعَلِيمُ کا لغوی اور اصطلاحی معنی

لفظ علم عربی زبان میں جاننے، پہچاننے اور حقیقت تک پہنچنے کے معنی میں آتا ہے۔

الْعَلِيمُ کا مطلب ہے:

جو ہر چیز کو جانتا ہو

جس کا علم ظاہر و باطن پر محیط ہو

جو دلوں کے راز، نیتیں اور خیالات جانتا ہو

جو ماضی، حال اور مستقبل سب کو جانتا ہو

اللہ تعالیٰ کا علم کسی تجربے یا مشاہدے پر مبنی نہیں بلکہ وہ پیدائش سے پہلے ہی ہر چیز کو جانتا ہے۔

قرآن مجید میں اسمِ العلیم

اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں بار بار اپنے علم کا ذکر فرماتا ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ﴾

(سورۃ البقرہ: 231)

ترجمہ:

“بے شک اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔”

یہ آیت ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ ہماری زندگی میں پیش آنے والا کوئی لمحہ، کوئی آنسو، کوئی دعا اور کوئی مشکل اللہ کے علم سے باہر نہیں۔

اللہ العلیم اور انسان کی زندگی

جب بندہ یہ سمجھ لیتا ہے کہ اللہ العلیم ہے تو اس کی زندگی بدل جاتی ہے، کیونکہ:

وہ گناہ کرتے ہوئے شرم محسوس کرتا ہے

وہ نیکی چھپ کر بھی کرتا ہے

وہ لوگوں کے ظلم پر صبر کرتا ہے

وہ دل کے درد اللہ کے سامنے رکھ دیتا ہے

کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ سب جانتا ہے، چاہے دنیا نہ جانے۔

حدیثِ مبارکہ میں اللہ کے علم کا ذکر

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔”

(صحیح مسلم)

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اللہ العلیم صرف ظاہری چیزوں کو نہیں بلکہ دلوں کے حال کو بھی جانتا ہے۔

الْعَلِيمُ پر ایمان کے فوائد

اللہ کے اس نام پر یقین رکھنے کے کئی فوائد ہیں:

دل میں تقویٰ پیدا ہوتا ہے

ریاکاری ختم ہوتی ہے

نیتوں کی اصلاح ہوتی ہے

صبر اور برداشت میں اضافہ ہوتا ہے

گناہوں سے بچنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے

جب بندہ جان لیتا ہے کہ اللہ اس کی نیت بھی جانتا ہے، تو وہ دکھاوے کے بجائے اخلاص کو اختیار کرتا ہے۔

اللہ العلیم اور آزمائشیں

اکثر انسان کہتا ہے:

“میری حالت کوئی نہیں سمجھتا”

لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ العلیم تمہاری حالت تم سے بھی زیادہ جانتا ہے۔

وہ جانتا ہے:

تم کس حد تک برداشت کر سکتے ہو

تمہیں کب آزمائش سے نکالنا ہے

تمہارے لیے کیا بہتر ہے

اسی لیے ہر فیصلہ فوراً سمجھ نہیں آتا، لیکن وہ فیصلہ علم پر مبنی ہوتا ہے۔

الْعَلِيمُ کا روحانی پہلو

اللہ العلیم صرف علم رکھنے والا نہیں بلکہ حکمت کے ساتھ علم رکھنے والا ہے۔

وہ ہمیں وہی دیتا ہے جو ہمارے لیے بہتر ہو، چاہے ہمیں وقتی طور پر ناگوار لگے۔

دل کی بے چینی، وسوسے، اور ذہنی الجھنیں اکثر اس وقت ختم ہوتی ہیں جب بندہ یہ مان لیتا ہے کہ اللہ سب جانتا ہے۔

الْعَلِيمُ کا آسان وظیفہ

اگر کوئی شخص الجھن، فیصلوں کی مشکل یا ذہنی پریشانی میں ہو تو یہ عمل کرے:

عشاء کے بعد

100 مرتبہ

یَا عَلِيمُ

آخر میں دعا کرے

یہ وظیفہ دل کو سکون اور فیصلوں میں رہنمائی عطا کرتا ہے، ان شاء اللہ۔

الْعَلِيمُ اور اخلاص

اللہ العلیم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:

نیت درست رکھو

لوگوں کی تعریف کی فکر نہ کرو

عمل اللہ کے لیے کرو

کیونکہ اللہ وہ واحد ذات ہے جو نیت اور عمل دونوں کو جانتا ہے۔

خلاصہ

الْعَلِيمُ اللہ تعالیٰ کا وہ بابرکت نام ہے جو ہمیں یقین دلاتا ہے کہ ہماری کوئی بات، کوئی درد، کوئی دعا اور کوئی آنسو ضائع نہیں جاتا۔

اللہ سب جانتا ہے، اور اسی علم کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے۔

حوالہ جات (References)

قرآن مجید: سورۃ البقرہ، آیت 231

صحیح مسلم، کتاب البر

تفسیر ابن کثیر

شرح اسماء الحسنیٰ

ڈسکلیمر

یہ مضمون صرف اسلامی معلومات اور رہنمائی کے لیے ہے۔ کسی بھی روحانی عمل کو صحیح عقیدے اور شریعت کے مطابق کرنا ضروری ہے۔

کاپی رائٹ

© The Muslim Way — All Rights Reserved