الْبَاسِطُ – اللہ تعالیٰ کا بابرکت نام، کشادگی اور فراخی عطا کرنے والا
مکمل اسلامی مضمون (قرآن و حدیث کی روشنی میں)
اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ انسان کو زندگی کا توازن سکھاتے ہیں۔ جہاں اللہ تعالیٰ الْقَابِضُ ہے جو تنگی پیدا کرتا ہے، وہیں وہی رب الْبَاسِطُ بھی ہے جو کشادگی، فراخی اور وسعت عطا فرماتا ہے۔
الْبَاسِطُ کا تصور مومن کے دل میں امید، سکون اور یقین پیدا کرتا ہے کہ مشکلات ہمیشہ کے لیے نہیں ہوتیں۔ جو ذات رزق، دل اور حالات کو سمیٹتی ہے، وہی ذات انہیں کھولنے کی مکمل قدرت بھی رکھتی ہے۔
الْبَاسِطُ کا لغوی اور اصطلاحی معنی
عربی زبان میں بَسْط کا مطلب ہے:
پھیلانا
کھول دینا
وسعت دینا
کشادگی عطا کرنا
الْبَاسِطُ وہ ذات ہے جو:
رزق میں فراخی دیتی ہے
دل کو سکون عطا کرتی ہے
حالات میں آسانی پیدا کرتی ہے
بندے کی زندگی میں وسعت لاتی ہے
یہ کشادگی کبھی مال میں، کبھی وقت میں، کبھی صحت میں اور کبھی دل کے اطمینان میں ہوتی ہے۔
قرآن مجید میں قبض اور بسط کا ذکر
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ﴾
(سورۃ البقرہ: 245)
ترجمہ:
“اور اللہ ہی تنگی کرتا ہے اور وہی کشادگی دیتا ہے، اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ تنگی اور فراخی دونوں اللہ کے اختیار میں ہیں، اور دونوں کسی حکمت کے تحت ہوتی ہیں۔
الْبَاسِطُ اور رزق کی فراخی
رزق صرف مال کا نام نہیں بلکہ اس میں شامل ہیں:
حلال کمائی
دل کا اطمینان
وقت کی برکت
اولاد کی نیکی
علم کی وسعت
جب اللہ کسی پر مہربان ہوتا ہے تو الْبَاسِطُ بن کر اس کی زندگی میں ایسی وسعت پیدا کرتا ہے جو محض دولت سے حاصل نہیں ہوتی۔
حدیث مبارکہ میں رزق کی کشادگی
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اللہ جس کے لیے بھلائی کا ارادہ کرتا ہے، اس کے دل کو اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔”
(صحیح بخاری)
دل کا کھل جانا بھی بسط ہے، اور یہ سب سے بڑی نعمت ہے۔
الْبَاسِطُ اور دل کا سکون
اکثر انسان کے پاس سب کچھ ہونے کے باوجود دل بے چین رہتا ہے، اور بعض اوقات کم وسائل کے باوجود دل مطمئن ہوتا ہے۔
یہ فرق الْبَاسِطُ کی عطا سے ہوتا ہے۔
جب اللہ دل کو بسط عطا کرتا ہے تو:
غم ہلکے ہو جاتے ہیں
پریشانیاں قابلِ برداشت بن جاتی ہیں
بندہ شکر گزار بن جاتا ہے
الْبَاسِطُ اور آزمائش کے بعد آسانی
اسلام ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ:
ہر تنگی کے بعد آسانی ہے
ہر قبض کے بعد بسط ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَإِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا﴾
(سورۃ الشرح: 6)
یہی بسط ہے، جو اللہ ہر آزمائش کے بعد عطا فرماتا ہے۔
الْبَاسِطُ پر ایمان کے فوائد
جو بندہ اس نام پر ایمان رکھتا ہے:
کبھی مایوس نہیں ہوتا
رزق کی کمی پر گھبراتا نہیں
اللہ سے اچھا گمان رکھتا ہے
صبر کے بعد کشادگی کی امید رکھتا ہے
یہی ایمان انسان کو مضبوط بناتا ہے۔
الْبَاسِطُ کا آسان وظیفہ
اگر کوئی شخص رزق میں رکاوٹ، دل کی گھبراہٹ یا مسلسل دباؤ محسوس کرے تو:
فجر یا عشاء کے بعد
111 مرتبہ
یَا بَاسِطُ
آخر میں دعا کرے
ان شاء اللہ دل کو سکون اور حالات میں وسعت نصیب ہو گی۔
الْبَاسِطُ اور شکر
جب اللہ وسعت عطا کرے تو شکر ضروری ہے، کیونکہ شکر سے:
نعمت بڑھتی ہے
بسط قائم رہتی ہے
دل عاجز رہتا ہے
ناشکری وسعت کو تنگی میں بدل سکتی ہے۔
الْبَاسِطُ اور توازنِ زندگی
اللہ تعالیٰ نے قبض اور بسط دونوں کو زندگی کا حصہ بنایا ہے تاکہ:
انسان غرور میں نہ آئے
آزمائش میں ٹوٹ نہ جائے
ہر حال میں اللہ کی طرف رجوع کرے
یہی کامل تربیت ہے۔
خلاصہ
الْبَاسِطُ اللہ تعالیٰ کا وہ بابرکت نام ہے جو ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ ہر تنگی کے بعد کشادگی ہے۔
جو رب آج روک رہا ہے، وہی کل کھولنے والا بھی ہے۔
مومن کا کام صبر اور شکر کے درمیان توازن رکھنا ہے۔
حوالہ جات (References)
قرآن مجید: سورۃ البقرہ (245)، سورۃ الشرح
صحیح بخاری
تفسیر ابن کثیر
شرح اسماء الحسنیٰ
ڈسکلیمر
یہ مضمون صرف اسلامی معلومات اور روحانی رہنمائی کے لیے ہے۔ کسی بھی وظیفے یا عمل کو شرعی حدود میں رہ کر انجام دینا ضروری ہے۔
کاپی رائٹ
© The Muslim Way — All Rights Reserved

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔