الحی (Al-Hayy) – ہمیشہ زندہ رہنے والا | حیاتِ حقیقی، توحید اور کامل اعتماد کی بنیاد

الحی (Al-Hayy) اللہ تعالیٰ کا عظیم نام ہے جس کا مطلب ہے ہمیشہ زندہ رہنے والا۔ اس مضمون میں قرآن و حدیث کی روشنی میں اللہ کی ابدی حیات اور توحید کی وضا


 تعارف: الحی کا ایمان سے تعلق

اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ میں سے ایک نہایت جلالی اور بنیادی نام الحی ہے۔ یہ اسم اللہ تعالیٰ کی کامل اور ازلی و ابدی زندگی کو ظاہر کرتا ہے۔ الحی کا مطلب ہے:

“ہمیشہ زندہ رہنے والا، جسے کبھی موت نہیں”

یہ نام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ حقیقی زندگی صرف اللہ کی ہے، باقی سب زندگی عارضی اور محتاج ہے۔ ہمارا وجود، ہماری سانسیں، ہماری طاقت — سب عطائی ہیں، جبکہ اللہ کی حیات ذاتی، کامل اور غیر فانی ہے۔

✦ الحی کا لغوی و اعتقادی معنی

عربی مادہ “حَيِيَ” سے نکلا ہوا لفظ “الحی” اس ذات کو بیان کرتا ہے:

جس کی زندگی ابدی ہو

جس کی حیات میں کمی نہ ہو

جو نہ سوتا ہو، نہ غافل ہوتا ہو

جس پر موت طاری نہ ہو

اسلامی عقیدہ کے مطابق اللہ کی حیات:

ازلی ہے (ہمیشہ سے ہے)

ابدی ہے (ہمیشہ رہے گی)

کامل ہے (کسی نقص سے پاک ہے)

✦ قرآن مجید میں الحی کی شان

1️⃣ سورۃ البقرہ (آیۃ الکرسی)

اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ

(البقرہ: 255)

ترجمہ:

اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ ہے، سب کو قائم رکھنے والا ہے۔

یہ آیت الحی کی سب سے عظیم دلیل ہے۔ یہاں اللہ کی حیات کے ساتھ اس کی قیومیت (سب کو قائم رکھنے کی صفت) بھی بیان ہوئی۔

2️⃣ سورۃ آلِ عمران

اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ

(آلِ عمران: 2)

یہ آیت بھی اللہ کی دائمی زندگی کو ثابت کرتی ہے۔

3️⃣ سورۃ الفرقان

وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ

(الفرقان: 58)

ترجمہ:

اور اس زندہ ذات پر بھروسہ کرو جو کبھی نہیں مرے گی۔

یہ آیت ایمان والوں کو سکھاتی ہے کہ اصل توکل صرف الحی پر ہونا چاہیے۔

✦ حدیث مبارکہ میں الحی

رسول اللہ ﷺ کی ایک دعا میں آتا ہے:

"يا حي يا قيوم برحمتك أستغيث"

(سنن ترمذی)

ترجمہ:

اے زندہ اور قائم رکھنے والے! میں تیری رحمت کے ذریعے مدد طلب کرتا ہوں۔

یہ دعا اس بات کی دلیل ہے کہ الحی کو پکارنا سنت ہے اور اللہ کی حیات کامل ہے۔

✦ اللہ کی حیات اور مخلوق کی زندگی میں فرق

انسان:

پیدا ہوتا ہے

جوان ہوتا ہے

بوڑھا ہوتا ہے

مر جاتا ہے

اللہ:

نہ پیدا ہوا

نہ بوڑھا ہوتا ہے

نہ سوتا ہے

نہ مرتا ہے

لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ

(البقرہ: 255)

اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔

✦ الحی اور توحید

الحی کا ایمان ہمیں سکھاتا ہے کہ:

کسی مخلوق پر مکمل بھروسہ نہ کریں

اصل سہارا صرف اللہ ہے

دنیاوی طاقتیں عارضی ہیں

جب بندہ جان لیتا ہے کہ اس کا رب ہمیشہ زندہ ہے تو وہ مایوس نہیں ہوتا۔

✦ الحی اور دل کی زندگی

قرآن کہتا ہے:

أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ

(الأنعام: 122)

یہاں موت سے مراد گمراہی اور حیات سے مراد ہدایت ہے۔

الحی صرف جسمانی نہیں بلکہ روحانی زندگی بھی عطا کرتا ہے۔

✦ عملی زندگی میں الحی کا اثر

✔ 1. مکمل توکل

جب اللہ ہمیشہ زندہ ہے تو اس پر بھروسہ کرنا سب سے محفوظ راستہ ہے۔

✔ 2. خوف کا خاتمہ

اگر رب زندہ اور قائم ہے تو ہمیں کسی باطل طاقت سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔

✔ 3. عبادت میں خشوع

الحی جانتا ہے، سنتا ہے، دیکھتا ہے — اس لیے عبادت میں اخلاص بڑھتا ہے۔

✦ الحی اور قیامت

اللہ الحی ہے، اسی لیے قیامت قائم کرے گا۔

وہی ہمیشہ زندہ ہے اور باقی سب فنا ہو جائیں گے۔

كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ۝ وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ

(الرحمن: 26-27)

ترجمہ:

زمین پر جو کچھ ہے سب فنا ہو جائے گا، اور صرف تیرے رب کی ذات باقی رہے گی۔

✦ نتیجہ

الحی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:

زندگی کی اصل حقیقت اللہ ہے

دنیا عارضی ہے

اصل سہارا اللہ ہے

کامل اعتماد اسی پر ہونا چاہیے

جو ہمیشہ زندہ ہے، وہی عبادت کے لائق ہے۔

حوالہ جات

قرآن کریم:

البقرہ: 255

آل عمران: 2

الفرقان: 58

الأنعام: 122

الرحمن: 26-27

حدیث:

سنن ترمذی

Disclaimer

یہ مضمون قرآن و سنت کی مستند تعلیمات کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ مزید علمی رہنمائی کے لیے مستند علماء کرام سے رجوع کریں۔

Copyright

© 2026 The Muslim Way – All Rights Reserved.

🔗 مزید اسلامی رہنمائی اور مستند اسلامی مواد

Allah Pak ke Asma ul Husna, Qurani Duain, Namaz, Wazu aur Ahadees Mubarakah parhne ke liye hamari official website visit karein:

👉 https://www.themuslimwayoffiicial.com