المتين (Al-Mateen) – اللہ تعالیٰ کی مضبوط اور لازوال قوت | قرآن و حدیث کی روشنی میں جامع رہنمائی

المتين (Al-Mateen) اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے جس کا مطلب مضبوط اور ناقابلِ شکست ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اس نام کی مکمل تشریح اور عملی رہنمائی جا


 اللہ تعالیٰ کے ننانوے مبارک ناموں میں سے ایک جلیل القدر اور عظیم نام المتين (Al-Mateen) ہے۔ یہ نام اللہ تعالیٰ کی مضبوطی، پائیداری اور ناقابلِ شکست طاقت کو ظاہر کرتا ہے۔ “المتين” کا مفہوم صرف طاقت تک محدود نہیں بلکہ ایسی مضبوطی ہے جس میں کوئی کمزوری، زوال یا نقص نہ ہو۔

آج کی دنیا میں ہر طاقت کمزور پڑ سکتی ہے، ہر مضبوط چیز ٹوٹ سکتی ہے، مگر اللہ تعالیٰ “المتين” ہے — ہمیشہ سے مضبوط، ہمیشہ قائم اور ہر کمزوری سے پاک۔

لغوی معنی اور مفہوم

عربی لفظ “متين” کا مطلب ہے:

مضبوط

مستحکم

ثابت قدم

ناقابلِ شکست

جب یہ صفت اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہو تو اس کا مطلب ہوتا ہے:

ایسی قوت جو کبھی کمزور نہ ہو

ایسی مضبوطی جس میں کسی قسم کا نقص نہ ہو

ایسا اقتدار جو ہمیشہ قائم رہے

اللہ تعالیٰ کی مضبوطی مخلوق کی طرح محدود یا عارضی نہیں بلکہ ازلی و ابدی ہے۔

قرآن مجید میں “المتين” کا ذکر

1️⃣ سورۃ الذاریات

إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ

“بیشک اللہ ہی رزق دینے والا، قوت والا اور مضبوط ہے۔”

📖 (سورۃ الذاریات 51:58)

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف رزق دینے والا ہے بلکہ کامل طاقت اور مضبوطی کا مالک بھی ہے۔

2️⃣ اللہ کی قدرت کی وسعت

قرآن مجید بار بار اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اللہ کی قدرت اور قوت میں کوئی کمی نہیں آتی۔ آسمان و زمین کی تخلیق، نظامِ کائنات کی ترتیب اور انسان کی پیدائش سب اس کی مضبوط قدرت کا ثبوت ہیں۔

احادیثِ مبارکہ سے رہنمائی

اگرچہ “المتين” کا لفظ بطور خاص حدیث میں کم آیا ہے، مگر اللہ کی قوت اور مضبوطی کا ذکر متعدد احادیث میں موجود ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“اے اللہ! میں تیری قوت اور قدرت کے ذریعے اپنی کمزوری سے بچتا ہوں…”

📚 (سنن ابو داؤد)

یہ دعا اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ انسان کمزور ہے مگر اللہ مضبوط ہے۔

ایک اور حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر ہے۔

📚 (صحیح مسلم 2664)

یہ حدیث ظاہر کرتی ہے کہ اللہ مضبوطی کو پسند فرماتا ہے، اور حقیقی مضبوطی ایمان کی مضبوطی ہے۔

عقیدے کے اہم نکات

✔ اللہ کی مضبوطی میں کوئی زوال نہیں

دنیا کی ہر طاقت کمزور ہو سکتی ہے مگر اللہ کی قوت کبھی کم نہیں ہوتی۔

✔ اللہ ہر چیز کو سنبھالنے والا ہے

وہ پوری کائنات کو بغیر کسی تھکاوٹ کے قائم رکھے ہوئے ہے۔

✔ اللہ کی پکڑ مضبوط ہے

ظالم چاہے کتنا بھی طاقتور ہو، اللہ کی گرفت سے نہیں بچ سکتا۔

عملی زندگی میں “المتين” کا اثر

1️⃣ مشکلات میں ثابت قدمی

جب بندہ جان لیتا ہے کہ اس کا رب مضبوط ہے تو وہ بھی ہمت نہیں ہارتا۔

2️⃣ مایوسی سے نجات

زندگی کے حالات بدلتے رہتے ہیں مگر اللہ کی مدد ہمیشہ قائم رہتی ہے۔

3️⃣ اللہ پر مکمل اعتماد

انسان لوگوں کے سہاروں کے بجائے اللہ پر بھروسا کرتا ہے۔

4️⃣ ایمان کی مضبوطی

جو شخص “المتين” کو پہچان لے وہ دین پر مضبوط ہو جاتا ہے۔

اللہ کی مضبوطی اور انسان کی کمزوری

انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے:

وَخُلِقَ الْإِنسَانُ ضَعِيفًا

“اور انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔”

📖 (سورۃ النساء 4:28)

مگر یہی انسان جب اللہ “المتين” سے مدد مانگتا ہے تو اس کی کمزوری طاقت میں بدل جاتی ہے۔

روحانی فوائد

دل میں استقامت پیدا ہوتی ہے

خوف کم ہو جاتا ہے

اللہ پر یقین مضبوط ہوتا ہے

آزمائش میں صبر آسان ہو جاتا ہے

دعا میں “المتين” کا استعمال

آپ یوں دعا کر سکتے ہیں:

اے اللہ!

اے المتين!

ہمیں ایمان میں مضبوطی عطا فرما،

ہمیں آزمائش میں ثابت قدم رکھ،

اور ہمیں اپنی مضبوط حفاظت میں لے لے۔ آمین۔

خلاصہ

“المتين” ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل مضبوطی اللہ کے پاس ہے۔

دنیا کے سہارے ٹوٹ سکتے ہیں، مگر اللہ کا سہارا کبھی نہیں ٹوٹتا۔

جو شخص اللہ کو “المتين” مان لیتا ہے، وہ زندگی میں کمزور نہیں رہتا۔

📚 حوالہ جات

قرآن مجید – سورۃ الذاریات 51:58

قرآن مجید – سورۃ النساء 4:28

صحیح مسلم 2664

سنن ابو داؤد (دعاؤں کا باب)

⚠️ Disclaimer

یہ تحریر قرآن کریم اور مستند احادیث کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ مزید تحقیق کے لیے معتبر تفاسیر اور کتب حدیث کا مطالعہ کریں۔

Copyright © 2026 The Muslim Way — All Rights Reserved

🔗 مزید اسلامی رہنمائی اور مستند اسلامی مواد

Allah Pak ke Asma ul Husna, Qurani Duain, Namaz, Wazu aur Ahadees Mubarakah parhne ke liye hamari official website visit karein:

👉 https://www.themuslimwayoffiicial.com