المعید (Al-Mu‘eed) – دوبارہ زندہ کرنے والا | قیامت، حیاتِ بعد الموت اور عدلِ الٰہی کی مکمل وضاحت
المعید – تعارف اور بنیادی مفہوم
اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ میں سے ایک عظیم اور جلالی نام المعید ہے۔ یہ اسم اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ جس رب نے ہمیں پہلی بار پیدا کیا، وہی ہمیں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا۔
المعید کا مطلب ہے:
“دوبارہ لوٹانے والا، دوبارہ پیدا کرنے والا، مرنے کے بعد زندہ کرنے والا”
یہ نام ایمان بالآخرت کی بنیاد ہے۔ اگر المبدئ پہلی تخلیق کی دلیل ہے تو المعید قیامت اور حیات بعد الموت کی قطعی دلیل ہے۔
المعید کا لغوی معنی
المعید عربی مادہ “عاد” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں:
واپس کرنا
لوٹانا
دوبارہ پیدا کرنا
لہٰذا المعید وہ ذات ہے:
جو قبروں سے اٹھائے
جو بکھری ہڈیوں کو جمع کرے
جو ہر انسان کو حساب کے لیے دوبارہ زندہ کرے
قرآن مجید میں المعید کی صفت
قرآن کریم میں تخلیقِ اول اور تخلیقِ ثانی کا بار بار ذکر آتا ہے۔
1️⃣ سورۃ الروم
اللَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ
(الروم: 11)
ترجمہ:
اللہ ہی مخلوق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اسے دوبارہ لوٹائے گا۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ دوبارہ زندہ کرنا اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں۔
2️⃣ سورۃ یونس
إِنَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ
(یونس: 4)
اللہ تعالیٰ تخلیق کی ابتدا بھی کرتا ہے اور دوبارہ زندہ بھی کرے گا۔
3️⃣ سورۃ یٰس
کفار نے تعجب سے کہا:
“بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا؟”
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ
(یٰس: 79)
ترجمہ:
کہہ دو: انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلی بار پیدا کیا تھا۔
یہ المعید کی سب سے واضح دلیل ہے۔
4️⃣ سورۃ ق
قَدْ عَلِمْنَا مَا تَنقُصُ الْأَرْضُ مِنْهُمْ
(ق: 4)
ترجمہ:
ہم جانتے ہیں کہ زمین ان کے جسموں میں سے کیا کم کرتی ہے۔
یعنی جسم کے ذرات بھی اللہ کے علم سے باہر نہیں۔
حدیث مبارکہ میں دوبارہ زندہ ہونا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا"
(صحیح بخاری: 6527، صحیح مسلم: 2859)
ترجمہ:
قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں، ننگے جسم اور غیر مختون اٹھائے جائیں گے۔
یہ حدیث ثابت کرتی ہے کہ:
قیامت کے دن جسمانی طور پر اٹھایا جائے گا
ہر شخص حساب کے لیے حاضر ہوگا
المعید اور ایمان بالآخرت
ایمان کے بنیادی ارکان میں سے ایک ہے:
آخرت پر ایمان
المعید کا نام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:
موت فنا نہیں
قبر اختتام نہیں
اصل زندگی آخرت کی ہے
کفار کا انکار اور قرآن کا جواب
کفار کہا کرتے تھے:
أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا
(الصافات: 16)
کیا ہم مرنے کے بعد مٹی ہو کر دوبارہ زندہ ہوں گے؟
اللہ نے فرمایا:
جس نے پہلی بار پیدا کیا وہ دوبارہ بھی پیدا کرے گا۔
المعید اور عدلِ الٰہی
دنیا میں:
ظالم اکثر بچ نکلتا ہے
مظلوم انصاف کا انتظار کرتا رہتا ہے
لیکن المعید سب کو دوبارہ زندہ کرے گا، پھر مکمل انصاف ہوگا۔
فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ
وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ
(الزلزال: 7-8)
ذرہ برابر نیکی یا برائی بھی ظاہر ہو جائے گی۔
المعید ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
✔ ہر عمل کا حساب ہوگا
کوئی نیکی ضائع نہیں ہوگی
کوئی گناہ چھپ نہیں سکے گا
✔ موت سے خوف کم ہوتا ہے
مومن جانتا ہے کہ موت ایک مرحلہ ہے، انجام نہیں۔
✔ ذمہ دار زندگی
جب یقین ہو کہ دوبارہ زندہ ہونا ہے تو:
انسان ظلم سے بچتا ہے
گناہوں سے دور رہتا ہے
نیکی میں اضافہ کرتا ہے
المعید اور قدرتِ الٰہی
ہر سال ہم دیکھتے ہیں:
خشک زمین بارش سے زندہ ہو جاتی ہے
مردہ درخت سبز ہو جاتے ہیں
اللہ نے اسے قیامت کی مثال بنایا:
كَذَٰلِكَ النُّشُورُ
(فاطر: 9)
اسی طرح دوبارہ اٹھایا جائے گا۔
المبدئ اور المعید کا تعلق
المبدئ → پہلی تخلیق
المعید → دوسری تخلیق
یہ دونوں مل کر اللہ کی کامل قدرت کو ظاہر کرتے ہیں۔
نتیجہ
المعید ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:
زندگی عارضی ہے
موت کے بعد حساب ہے
عدلِ الٰہی یقینی ہے
جو ہمیں پہلی بار پیدا کر سکتا ہے، وہ دوبارہ بھی پیدا کرے گا۔
لہٰذا کامیاب وہی ہے جو آخرت کی تیاری کرے۔
حوالہ جات
قرآن کریم:
سورۃ الروم: 11
سورۃ یونس: 4
سورۃ یٰس: 79کذ
سورۃ ق: 4
سورۃ الزلزال: 7-8
سورۃ فاطر: 9
سورۃ الصافات: 16
حدیث:
صحیح بخاری: 6527
صحیح مسلم: 2859
Disclaimer
یہ مضمون قرآن کریم اور صحیح احادیث کی روشنی میں مستند اسلامی مصادر کے مطابق تیار کیا گیا ہے۔ مزید علمی رہنمائی کے لیے مستند علماء سے رجوع کریں۔
Copyright
© 2026 The Muslim Way – All Rights Reserved.
🔗 مزید اسلامی رہنمائی اور مستند اسلامی مواد
Allah Pak ke Asma ul Husna, Qurani Duain, Namaz, Wazu aur Ahadees Mubarakah parhne ke liye hamari official website visit karein:
👉 https://www.themuslimwayoffiicial.com

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔