المقدم (Al-Muqaddim) – آگے بڑھانے والا اور عزت دینے والا رب | قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل وضاحت

المقدم (Al-Muqaddim) اللہ تعالیٰ کا بابرکت نام ہے جس کا مطلب ہے آگے بڑھانے والا۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں المقدم کی مکمل وضاحت، فضیلت اور عملی اثرات ج


 تعارف: المقدم کا مفہوم

اللہ تعالیٰ کے اسماءِ حسنیٰ میں سے ایک جلیل القدر نام المقدم ہے۔ “المقدم” کا مطلب ہے: وہ ذات جو جسے چاہے آگے بڑھائے، عزت دے، مرتبہ بلند کرے اور فضیلت عطا کرے۔

یہ نام اللہ تعالیٰ کی حکمت، عدل اور قدرت کو ظاہر کرتا ہے۔ دنیا اور آخرت میں بلندی، کامیابی اور فضیلت کا اصل فیصلہ کرنے والا اللہ ہی ہے۔ کوئی انسان اپنی طاقت سے مستقل طور پر آگے نہیں بڑھ سکتا، بلکہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہوتا ہے۔

✦ لغوی معنی

“مقدم” عربی لفظ “قدّم” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں:

آگے بڑھانا

ترجیح دینا

بلند کرنا

پہلے مقام پر رکھنا

جب یہ صفت اللہ کے لیے استعمال ہو تو اس کا مطلب ہوتا ہے:

جو چاہے عزت دے

جسے چاہے مقام عطا کرے

جسے چاہے دوسروں پر فضیلت دے

✦ قرآن مجید میں مفہوم

لفظ “المقدم” بطورِ اسم قرآن میں براہِ راست نہیں آیا، لیکن اس کا مفہوم کئی آیات میں بیان ہوا ہے۔

1️⃣ سورۃ آل عمران

قُلِ اللّٰهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ

(آل عمران 3:26)

ترجمہ: اے اللہ! تو جسے چاہے بادشاہی دے اور جس سے چاہے چھین لے، جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کر دے۔

یہ آیت المقدم کے مفہوم کو واضح کرتی ہے کہ عزت و فضیلت کا مالک صرف اللہ ہے۔

2️⃣ سورۃ الانعام

وَرَبُّكَ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ وَيَخْتَارُ

(القصص 28:68)

اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے منتخب کرتا ہے۔

یہ اختیار اور انتخاب بھی المقدم کی صفت کا حصہ ہے۔

✦ حدیث کی روشنی میں

نبی کریم ﷺ کی دعا میں آتا ہے:

اللهم اغفر لي ما قدمت وما أخرت

(صحیح مسلم)

ترجمہ: اے اللہ! میرے اگلے اور پچھلے گناہ معاف فرما۔

اسی دعا میں “أنت المقدم وأنت المؤخر” بھی آتا ہے:

“تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے۔”

یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اللہ جسے چاہے آگے بڑھا دے اور جسے چاہے مؤخر کر دے۔

✦ المقدم اور دنیا کی حقیقت

دنیا میں ہم دیکھتے ہیں:

کوئی غریب سے امیر بن جاتا ہے

کوئی عام شخص بڑا عالم بن جاتا ہے

کوئی کمزور قوم طاقتور بن جاتی ہے

یہ سب اللہ المقدم کے فیصلے سے ہوتا ہے۔

✦ آخرت میں المقدم کی شان

قیامت کے دن اللہ فیصلہ کرے گا کہ:

کون جنت میں پہلے داخل ہوگا

کس کا درجہ بلند ہوگا

کس کا حساب آسان ہوگا

یہ سب اللہ کے اختیار میں ہے۔

✦ ایمان پر اثرات

✔ حسد ختم ہوتا ہے

جب یقین ہو کہ اللہ ہی آگے بڑھاتا ہے، تو دوسروں سے حسد کم ہو جاتا ہے۔

✔ عاجزی پیدا ہوتی ہے

انسان سمجھتا ہے کہ اس کی کامیابی اس کی اپنی طاقت سے نہیں۔

✔ دعا میں یقین آتا ہے

اگر اللہ چاہے تو وہ ایک لمحے میں حالات بدل سکتا ہے۔

✦ عملی زندگی میں اپنائیں

کامیابی پر غرور نہ کریں

ناکامی پر مایوس نہ ہوں

اللہ سے عزت اور بلندی کی دعا کریں

تقویٰ اختیار کریں، کیونکہ اصل بلندی تقویٰ میں ہے

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللّٰهِ أَتْقَاكُمْ

(الحجرات 49:13)

✦ المقدم اور تقدیر

اللہ نے ہر انسان کا مقام، وقت اور حالات مقرر کیے ہیں۔ انسان کوشش کرتا ہے، لیکن اصل فیصلہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

✦ خلاصہ

المقدم ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ:

عزت و فضیلت اللہ کے ہاتھ میں ہے

وہ جسے چاہے آگے بڑھائے

انسان کو تکبر سے بچنا چاہیے

دعا اور تقویٰ کامیابی کا راستہ ہیں

جو بندہ المقدم کو پہچان لیتا ہے، وہ دنیاوی مقابلے کے بجائے اللہ کی رضا کی فکر کرتا ہے۔

📚 حوالہ جات

قرآن مجید:

آل عمران 3:26

القصص 28:68

الحجرات 49:13

حدیث:

صحیح مسلم

⚠️ ڈسکلیمر

یہ مضمون قرآن و حدیث کی روشنی میں دینی معلومات فراہم کرنے کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ مزید تفصیلی شرعی رہنمائی کے لیے مستند علماء کرام سے رجوع کریں۔

© کاپی رائٹ

© 2026 The Muslim Way – All Rights Reserved

🔗 مزید اسلامی رہنمائی اور مستند اسلامی مواد

Allah Pak ke Asma ul Husna, Qurani Duain, Namaz, Wazu aur Ahadees Mubarakah parhne ke liye hamari official website visit karein:

👉 https://www.themuslimwayoffiicial.com�