القَوِيّ (Al-Qawiyy) – اللہ تعالیٰ کی بے پایاں قوت اور قدرت | قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی
اللہ تعالیٰ کے ننانوے صفاتی ناموں میں سے ایک عظیم اور جلال والا نام القَوِيّ (Al-Qawiyy) ہے۔ اس نام کا تعلق اللہ کی کامل طاقت، ناقابلِ شکست قدرت اور مطلق غلبے سے ہے۔ جب بندہ اس نام کو سمجھ لیتا ہے تو اس کے دل سے کمزوری، خوف اور مایوسی دور ہو جاتی ہے، کیونکہ وہ جان لیتا ہے کہ اس کا رب ہر چیز پر قادر اور سب سے زیادہ طاقتور ہے۔
آج کے دور میں انسان اپنی کمزوریوں، مسائل اور خوف میں گھرا رہتا ہے، مگر “القوي” کا فہم اسے یاد دلاتا ہے کہ اصل قوت اللہ کے پاس ہے۔ دنیا کی طاقتیں عارضی ہیں، مگر اللہ کی قوت ازلی و ابدی ہے۔
لغوی معنی اور مفہوم
“القوي” عربی لفظ “قوة” سے نکلا ہے، جس کا مطلب ہے طاقت، قوت اور مضبوطی۔
جب یہ لفظ اللہ تعالیٰ کے لیے استعمال ہو تو اس کے معنی ہوتے ہیں:
کامل اور مطلق طاقت والا
جو کبھی کمزور نہ ہو
جس کی قدرت کو کوئی چیلنج نہ کر سکے
جو ہر چیز پر غالب ہو
اللہ کی قوت نہ کم ہوتی ہے، نہ ختم ہوتی ہے، نہ کسی کی محتاج ہے۔
قرآن مجید میں “القوي” کا ذکر
1️⃣ سورۃ الحج
إِنَّ اللَّهَ لَقَوِيٌّ عَزِيزٌ
“بیشک اللہ طاقتور اور غالب ہے۔”
📖 (سورۃ الحج 22:40)
یہ آیت اللہ کی طاقت اور غلبے کو واضح کرتی ہے۔ جو اس پر ایمان رکھے، اسے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔
2️⃣ سورۃ الشوریٰ
إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينُ
“بیشک اللہ ہی رزق دینے والا، قوت والا اور مضبوط ہے۔”
📖 (سورۃ الذاریات 51:58)
یہ آیت بتاتی ہے کہ رزق دینے والا بھی وہی ہے اور طاقت والا بھی وہی ہے۔
3️⃣ سورۃ الانفال
إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ
“بیشک اللہ طاقتور ہے اور سخت سزا دینے والا ہے۔”
📖 (سورۃ الانفال 8:52)
یہ آیت ظاہر کرتی ہے کہ اللہ کی طاقت صرف رحمت میں نہیں بلکہ عدل میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔
احادیث مبارکہ میں اللہ کی قوت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مضبوط مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔
📚 (صحیح مسلم 2664)
یہاں “مضبوط” سے مراد ایمان اور ارادے کی قوت ہے، اور یہ قوت اللہ کی عطا سے ہوتی ہے۔
ایک دعا میں نبی کریم ﷺ فرماتے تھے:
“اے اللہ! میں تیری قوت کے ذریعے اپنی کمزوری سے بچتا ہوں…”
📚 (ابو داؤد)
یہ ظاہر کرتا ہے کہ اصل قوت اللہ ہی سے مانگی جاتی ہے۔
عقیدے کے اہم نکات
✔ اللہ کی قوت مکمل ہے
وہ بغیر کسی مدد کے پوری کائنات چلا رہا ہے۔
✔ اللہ کی طاقت کبھی کم نہیں ہوتی
انسان تھک جاتا ہے، مگر اللہ نہیں تھکتا۔
✔ اللہ سب پر غالب ہے
دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت بھی اللہ کے سامنے کچھ نہیں۔
عملی زندگی میں “القوي” کا اثر
1️⃣ خوف سے آزادی
جب بندہ جان لیتا ہے کہ اس کا رب سب سے زیادہ طاقتور ہے، تو وہ مخلوق سے نہیں ڈرتا۔
2️⃣ صبر میں مضبوطی
مشکل وقت میں اسے یقین ہوتا ہے کہ اللہ چاہے تو حالات بدل سکتا ہے۔
3️⃣ دعا میں یقین
وہ کمزور نہیں پڑتا کیونکہ اسے معلوم ہے کہ اللہ قادر ہے۔
4️⃣ گناہوں سے بچاؤ
وہ جانتا ہے کہ اللہ طاقتور ہے اور اس کی پکڑ سخت ہو سکتی ہے۔
روحانی فوائد
دل میں یقین پیدا ہوتا ہے
کمزوری ختم ہوتی ہے
اللہ پر اعتماد بڑھتا ہے
مایوسی ختم ہوتی ہے
القوي اور القادر میں فرق
“القوي” طاقت کی صفت بیان کرتا ہے، جبکہ “القادر” قدرت کے استعمال کی صفت بیان کرتا ہے۔
اللہ دونوں صفات کا کامل مالک ہے۔
دعا میں استعمال
آپ اپنی دعا میں کہہ سکتے ہیں:
اے القوي!
ہماری کمزوریوں کو دور فرما،
ہمیں ایمان کی طاقت عطا فرما،
اور ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔ آمین۔
📚 حوالہ جات
قرآن مجید – سورۃ الحج 22:40
قرآن مجید – سورۃ الذاریات 51:58
قرآن مجید – سورۃ الانفال 8:52
صحیح مسلم 2664
سنن ابو داؤد (دعاؤں کا باب)
⚠️ Disclaimer
یہ تحریر قرآن کریم اور مستند احادیث کی روشنی میں تیار کی گئی ہے۔ مزید تحقیق کے لیے معتبر تفاسیر اور کتب حدیث کا مطالعہ کریں۔
Copyright © 2026 The Muslim Way — All Rights Reserved
🔗 مزید اسلامی رہنمائی اور مستند اسلامی مواد
Allah Pak ke Asma ul Husna, Qurani Duain, Namaz, Wazu aur Ahadees Mubarakah parhne ke liye hamari official website visit karein:
👉 https://www.themuslimwayoffiicial.com

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔