الْخَافِضُ – اللہ تعالیٰ کا بابرکت نام، تکبر کو پست اور عاجزی کو بلند کرنے والا مکمل اسلامی مضمون
اللہ الخافض تکبر کرنے والوں کو پست کرنے والا ہے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں اسم الخافض کے معنی، فضیلت اور روحانی اثرات جانیں۔
مکمل اسلامی مضمون (قرآن و حدیث کی روشنی میں)
اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ انسان کو صرف عقیدہ ہی نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں۔
انہی اسماء میں سے ایک نہایت بامعنی اور فکر انگیز نام الْخَافِضُ ہے۔
الْخَافِضُ وہ ذات ہے جو غرور کرنے والوں کو پست کر دیتی ہے اور جو خود کو کچھ سمجھنے لگے، اسے اس کی حقیقت یاد دلا دیتی ہے۔ یہ نام ہمیں بتاتا ہے کہ عزت اور ذلت کا اصل مالک اللہ ہے، انسان نہیں۔
الْخَافِضُ کا لغوی اور اصطلاحی معنی
عربی زبان میں خَفْض کے معنی ہیں:
نیچا کرنا
پست کر دینا
جھکا دینا
الْخَافِضُ سے مراد وہ ذات ہے جو:
تکبر کرنے والوں کو ذلیل کر دے
ظالموں کی شان گھٹا دے
غرور کو خاک میں ملا دے
انسان کو اس کی حقیقت دکھا دے
یہ خفض کبھی مال میں ہوتا ہے، کبھی رتبے میں، اور کبھی دل کے سکون میں۔
قرآن مجید میں عزت و ذلت کا اختیار
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتا ہے:
﴿تُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ﴾
(سورۃ آل عمران: 26)
ترجمہ:
“تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کر دے۔”
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کسی انسان کا بلند یا پست ہونا محض حالات کا نتیجہ نہیں بلکہ اللہ الخافض کے فیصلے کا نتیجہ ہوتا ہے۔
الْخَافِضُ اور تکبر
اسلام میں تکبر کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا وہ جنت میں داخل نہ ہوگا۔”
(صحیح مسلم)
اللہ الخافض کا کام یہی ہے کہ وہ تکبر کو توڑ دے، چاہے وہ:
علم کا ہو
مال کا ہو
طاقت کا ہو
یا نسب کا ہو
تکبر انسان کو گراتا ہے، اور اللہ اسے مزید گرا دیتا ہے۔
الْخَافِضُ اور دنیاوی زوال
اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ:
طاقتور کمزور ہو جاتے ہیں
دولت مند محتاج بن جاتے ہیں
نامور لوگ گمنام ہو جاتے ہیں
یہ سب اللہ الخافض کی قدرت کی نشانیاں ہیں، تاکہ انسان سمجھ لے کہ:
“جو آج اوپر ہے، وہ کل نیچے بھی ہو سکتا ہے”
الْخَافِضُ اور مومن کا رویہ
جو بندہ اللہ کو الخافض مان لیتا ہے:
وہ غرور نہیں کرتا
وہ عاجزی اختیار کرتا ہے
وہ لوگوں کو حقیر نہیں سمجھتا
وہ اپنی کامیابی کو اللہ کی عطا سمجھتا ہے
کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جو ذات بلند کرتی ہے، وہی پست بھی کر سکتی ہے۔
حدیث مبارکہ میں عاجزی اور بلندی
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلند کر دیتا ہے۔”
(صحیح مسلم)
یہی اللہ کے نظام کا توازن ہے:
خفض → پھر رفع
الْخَافِضُ اور آزمائش
بعض اوقات انسان کہتا ہے:
“میں سب کچھ ٹھیک کر رہا ہوں، پھر بھی حالات خراب کیوں ہیں؟”
اکثر اس کا جواب یہ ہوتا ہے کہ:
دل میں غرور آ گیا
نعمت پر شکر کم ہو گیا
اللہ کی طرف رجوع کم ہو گیا
اللہ الخافض ایسی حالت میں انسان کو جھکا دیتا ہے، تاکہ وہ دوبارہ سیدھا ہو جائے۔
الْخَافِضُ کا روحانی اثر
یہ نام انسان کو:
نفس توڑنا سکھاتا ہے
عاجزی اپنانا سکھاتا ہے
حقیقت پسند بناتا ہے
جو شخص روزانہ اپنے آپ کو اللہ کے سامنے جھکا دیتا ہے، اللہ اسے دنیا کے سامنے نہیں جھکاتا۔
الْخَافِضُ کا آسان وظیفہ
اگر کسی شخص کو:
دل میں غرور محسوس ہو
غصہ اور انا غالب آ رہی ہو
نفس قابو میں نہ آ رہا ہو
تو وہ یہ عمل کرے:
عشاء کے بعد
100 مرتبہ
یَا خَافِضُ
آخر میں عاجزی کی دعا کرے
یہ عمل دل کو نرم اور نفس کو قابو میں لانے میں مدد دیتا ہے، ان شاء اللہ۔
الْخَافِضُ اور توازن
اللہ تعالیٰ نے اپنے اسماء میں توازن رکھا ہے:
الخافض → الرافع
القابض → الباسط
یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ زندگی میں ہر حال عارضی ہے۔
خلاصہ
الْخَافِضُ اللہ تعالیٰ کا وہ بابرکت نام ہے جو انسان کو یہ سبق دیتا ہے کہ تکبر زوال کی جڑ ہے اور عاجزی بلندی کی کنجی۔
جو خود کو اللہ کے سامنے جھکا دیتا ہے، اللہ اسے مخلوق کے سامنے ذلیل نہیں کرتا۔
حوالہ جات (References)
قرآن مجید: سورۃ آل عمران، آیت 26
صحیح مسلم
تفسیر ابن کثیر
شرح اسماء الحسنیٰ
ڈسکلیمر
یہ مضمون صرف اسلامی معلومات اور روحانی رہنمائی کے لیے ہے۔ کسی بھی وظیفے یا عمل کو شریعت کے مطابق انجام دینا ضروری ہے۔
کاپی رائٹ
© The Muslim Way — All Rights Reserved

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔