الكَبِير – اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام | معنی، فضیلت اور قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی

الكَبِير اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے جس کا مطلب سب سے بڑا ہے۔ اس پوسٹ میں الكَبِير کے معنی، فضیلت، قرآن و حدیث کے حوالہ جات اور عملی زندگی میں اس کے ا


 الكَبِير اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک جلال اور ہیبت والا نام ہے۔

یہ نام اللہ تعالیٰ کی بے مثال بڑائی، عظمت اور شان کو ظاہر کرتا ہے۔

اللہ الكَبِير ہے، یعنی وہ ذات جو ہر چیز سے بڑی، ہر مخلوق سے بالا اور ہر حد سے ماورا ہے۔

دنیا میں انسان “بڑا” بننے کی کوشش کرتا ہے۔ کوئی دولت کو بڑائی سمجھتا ہے، کوئی طاقت کو، اور کوئی عہدے کو۔ لیکن یہ سب عارضی ہیں۔

حقیقی بڑائی صرف اللہ کے لیے ہے، کیونکہ وہی الكَبِير ہے۔

الكَبِير کا لغوی اور اصطلاحی معنی

عربی زبان میں كِبَر کا مطلب ہے:

بڑا ہونا

عظمت اور شان والا ہونا

مرتبے میں بلند ہونا

اصطلاحی طور پر:

الكَبِير وہ ذات ہے جو اپنی ذات، صفات، قدرت، علم اور اختیار میں ہر چیز سے بڑی ہے، اور جس کی بڑائی کی کوئی انتہا نہیں۔

اللہ کی بڑائی:

جسمانی نہیں

بلکہ شان، اختیار اور قدرت کی بڑائی ہے

قرآن مجید میں اسم الكَبِير

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر اپنے نام الكَبِير کا ذکر فرمایا ہے تاکہ انسان اپنی حیثیت پہچان لے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ

— (سورۃ الحج: 62)

ترجمہ:

یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے، اور اس کے سوا جنہیں وہ پکارتے ہیں وہ باطل ہیں، اور بے شک اللہ ہی سب سے بلند، سب سے بڑا ہے۔

ایک اور مقام پر فرمایا:

عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ

— (سورۃ الرعد: 9)

یہ آیت اللہ کی بڑائی کو ظاہر و باطن دونوں پر حاوی قرار دیتی ہے۔

حدیث نبوی ﷺ اور اللہ کی بڑائی

نبی کریم ﷺ نے اللہ کی بڑائی کو ایمان کی بنیاد قرار دیا۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

أفضل الذكر: لا إله إلا الله، وأفضل الدعاء: الحمد لله

— (سنن ترمذی)

اور نماز میں بار بار کہا جاتا ہے:

اللہ اکبر

یہ اعلان ہے کہ:

اللہ ہر چیز سے بڑا ہے

الكَبِير اور انسان کی حقیقت

جب انسان اللہ کو الكَبِير مان لیتا ہے تو:

وہ خود کو بڑا نہیں سمجھتا

وہ دوسروں کو حقیر نہیں جانتا

وہ اپنی کامیابی کو اللہ کی عطا مانتا ہے

یہی سوچ انسان کو عاجزی سکھاتی ہے، جو ایمان کی اصل روح ہے۔

الكَبِير اور تکبر کا فرق

اللہ کی بڑائی = حق

انسان کا تکبر = گناہ

جو انسان خود کو بڑا سمجھنے لگتا ہے، وہ دراصل اللہ کی صفت میں دخل دیتا ہے، اور یہی تکبر کی جڑ ہے۔

نبی ﷺ نے فرمایا:

“جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا، وہ جنت میں داخل نہ ہوگا”

— (صحیح مسلم)

الكَبِير اور عبادت

نماز میں:

تکبیرِ تحریمہ

رکوع

سجدہ

سب اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ:

اللہ بڑا ہے

بندہ چھوٹا ہے

جتنا بندہ جھکتا ہے، اتنا ہی اللہ کے قریب ہوتا ہے۔

الكَبِير کا ذکر اور اس کے اثرات

اللہ کے اس نام کا ذکر:

دل سے خوفِ غیر اللہ نکال دیتا ہے

توکل کو مضبوط کرتا ہے

دنیاوی طاقتوں کا رعب ختم کرتا ہے

ایک سادہ ذکر:

يَا كَبِيرُ أَنْتَ الْكَبِيرُ فَكَبِّرْ شَأْنَنَا بِطَاعَتِكَ

ترجمہ:

اے سب سے بڑے اللہ! تو ہی بڑا ہے، ہمیں اپنی اطاعت کے ذریعے عزت عطا فرما۔

عملی زندگی میں الكَبِير

مشکل حالات میں اللہ کی بڑائی یاد رکھنا

فیصلوں میں اللہ کے حکم کو مقدم رکھنا

انسانوں سے نہ ڈرنا

حق بات کہنے میں ثابت قدم رہنا

یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ بندہ اللہ کو واقعی الكَبِير مانتا ہے۔

خلاصہ

الكَبِير اللہ تعالیٰ کا وہ صفاتی نام ہے جو انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ حقیقی بڑائی صرف اللہ کے لیے ہے۔

جو اللہ کو بڑا مان لیتا ہے، وہ دنیا کی جھوٹی بڑائیوں سے آزاد ہو جاتا ہے۔

حوالہ جات (Qur’an & Hadith References)

سورۃ الحج: 62

سورۃ الرعد: 9

سورۃ سبأ: 23

صحیح مسلم – کتاب الایمان

سنن ترمذی – باب الذکر

تفسیر ابن کثیر (اسماء الحسنیٰ)

ڈسکلیمر

یہ مضمون قرآن مجید، احادیث نبوی ﷺ اور مستند اسلامی تفاسیر کی روشنی میں تحریر کیا گیا ہے۔ کسی بھی فقہی یا شرعی مسئلے میں حتمی رہنمائی کے لیے مستند علماء کرام سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

Copyright © 2026 The Muslim Way — All Rights Reserved