الحُکم – اللہ الحُکم – قرآن و حدیث کی روشنی میں اللہ کے حکم کی حقیقت

الحُکم کا اسلامی تصور، قرآن و حدیث کی روشنی میں۔ جانیں کہ اسلام میں فیصلہ اور اختیار کس کا ہے، اور ایک مومن کے لیے اللہ کے حکم کو ماننا کیوں ضروری ہے۔


 اسلام میں الحُکم ایک بنیادی اور نہایت گہرا تصور ہے۔ عربی زبان میں “الحُکم” کا معنی ہے فیصلہ کرنا، اختیار رکھنا، قانون نافذ کرنا اور کسی معاملے میں آخری بات کہنا۔ قرآنِ کریم میں یہ لفظ بار بار آیا ہے تاکہ انسان یہ بات سمجھ لے کہ کائنات میں اصل اختیار اور حتمی فیصلہ صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔

آج کے دور میں جب انسان اپنے فیصلوں، خواہشات اور عقل کو سب سے بڑا معیار سمجھنے لگا ہے، “الحُکم” کا قرآنی تصور ہمیں دوبارہ یاد دلاتا ہے کہ انسان کا کام اطاعت ہے، نہ کہ اپنی مرضی کو قانون بنانا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حکم دینا صرف اسی کا حق ہے کیونکہ وہی خالق ہے، وہی ہر چیز کے انجام کو جانتا ہے، اور وہی کامل انصاف کرنے والا ہے۔ انسان کا علم محدود ہے، اس کی سوچ خواہشات سے متاثر ہوتی ہے، اسی لیے اسے مطلق اختیار نہیں دیا گیا۔

قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ انبیاء علیہم السلام کا بنیادی مشن یہی تھا کہ وہ لوگوں کو اللہ کے حکم کی طرف بلائیں، نہ کہ اپنی ذاتی رائے یا ثقافتی روایت کی طرف۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے قید خانے میں واضح اعلان کیا کہ حکم صرف اللہ کا ہے اور اسی نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کی جائے۔

یہ بات واضح کرتی ہے کہ “الحُکم” صرف عدالت یا حکومت کا مسئلہ نہیں بلکہ عقیدہ، عبادت، اخلاق، معاملات اور زندگی کے ہر پہلو سے جڑا ہوا ہے۔ جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ فیصلہ اللہ کا ہے تو پھر وہ حلال و حرام میں، صحیح و غلط میں اور عدل و ظلم میں اپنی خواہش کو معیار نہیں بناتا۔

نبی کریم ﷺ کی زندگی اس بات کی عملی مثال ہے کہ اللہ کے حکم کے سامنے مکمل سرِ تسلیم خم کیا جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے کبھی ذاتی فائدے، قبیلے یا طاقت کو قانون نہیں بنایا بلکہ ہر معاملے میں وحی کی پیروی کی۔

اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ جب مسلمانوں نے اللہ کے حکم کو بالادست رکھا تو عدل قائم ہوا، کمزور محفوظ ہوا اور معاشرہ متوازن رہا۔ اور جب انسانوں کے بنائے ہوئے فیصلے اللہ کے حکم پر غالب آئے تو فساد، ناانصافی اور بے سکونی پھیلی۔

یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ “الحُکم” کا مطلب سختی یا جبر نہیں بلکہ عدل، حکمت اور رحمت ہے۔ اللہ کا ہر حکم انسان کی فطرت کے مطابق ہے، اسی لیے وہ شفا بھی ہے اور رہنمائی بھی۔

آج بہت سے لوگ دین کو صرف عبادات تک محدود کرنا چاہتے ہیں، جبکہ قرآن واضح کرتا ہے کہ اللہ کا حکم زندگی کے ہر شعبے میں نافذ ہونا چاہیے۔ چاہے وہ تجارت ہو، خاندانی نظام ہو، اخلاق ہو یا سماجی انصاف۔

الحُکم کا انکار دراصل اللہ کی ربوبیت کے ایک حصے کا انکار ہے۔ اسی لیے قرآن ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی اسی میں ہے کہ انسان اللہ کے فیصلے کو قبول کرے، چاہے وہ اس کی خواہش کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

ایک مومن کا مقام یہی ہے کہ وہ کہے:

“ہم نے سنا اور ہم نے مان لیا۔”

حوالہ جات (قرآن و حدیث)

قرآنِ کریم:

“اِنِ الْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ ۚ اَمَرَ اَلَّا تَعْبُدُوْا اِلَّاۤ اِيَّاهُ”

(سورۃ یوسف: 40)

“کیا وہ جاہلیت کا حکم چاہتے ہیں؟ اللہ سے بہتر حکم کس کا ہو سکتا ہے؟”

(سورۃ المائدہ: 50)

حدیث:

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

“تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اس کی خواہش اس چیز کے تابع نہ ہو جائے جو میں لے کر آیا ہوں۔”

(مفہوم حدیث)

ڈسکلیمر

یہ پوسٹ صرف اسلامی تعلیمات کی وضاحت اور دینی آگاہی کے لیے ہے۔

یہ کسی فرد، گروہ یا نظام کے خلاف فتوٰی یا قانونی رائے نہیں۔

عملی معاملات میں مستند علماء اور اہلِ علم سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

کاپی رائٹ

© 2026 | All Rights Reserved

اس تحریر کو اجازت کے بغیر نقل یا کمرشل استعمال کرنا منع ہے۔