الحلیم – اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام | معنی، فضیلت، قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی
الحلیم اللہ تعالیٰ کے مبارک اسماء الحسنیٰ میں سے ایک نہایت عظیم اور دل کو سکون دینے والا نام ہے۔
یہ نام اللہ تعالیٰ کی اس صفت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ انتہائی بردبار، صبر کرنے والا اور فوراً پکڑ نہ کرنے والا ہے، حالانکہ وہ ہر چیز پر مکمل قدرت رکھتا ہے۔
انسان کمزور ہے، غصہ جلد آتا ہے، برداشت کم ہوتی ہے، مگر اللہ الحلیم ہے۔ وہ بندوں کی نافرمانیوں، گناہوں اور کوتاہیوں کے باوجود فوراً سزا نہیں دیتا بلکہ مہلت دیتا ہے، توبہ کا موقع عطا کرتا ہے اور اصلاح کی راہ کھولتا ہے۔
الحلیم کا لغوی اور اصطلاحی معنی
عربی زبان میں “حِلم” کا مطلب ہے: بردباری، تحمل، غصے پر قابو اور طاقت کے باوجود درگزر کرنا۔
اصطلاحی طور پر:
الحلیم وہ ذات ہے جو سزا دینے پر قادر ہونے کے باوجود جلدی سزا نہیں دیتی، بلکہ نرمی، صبر اور مہلت سے کام لیتی ہے۔
یہ صفت اللہ تعالیٰ کی بے پناہ رحمت اور شفقت کو ظاہر کرتی ہے۔
قرآن مجید میں اسم الحلیم
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر اپنے نام الحلیم کا ذکر فرمایا ہے تاکہ انسان یہ سمجھے کہ اللہ فوراً گرفت نہیں کرتا بلکہ مہربانی سے کام لیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَاللّٰهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ
(اور اللہ بہت بخشنے والا، بڑا بردبار ہے)
— (سورۃ البقرہ: 225)
ایک اور مقام پر فرمایا:
إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِيمًا حَلِيمًا
(بے شک اللہ خوب جاننے والا، بڑا بردبار ہے)
— (سورۃ النساء: 12)
ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ علم اور حلم دونوں صفات کا مالک ہے، یعنی وہ سب جانتے ہوئے بھی فوراً سزا نہیں دیتا۔
حدیث نبوی ﷺ میں حلم کی تعلیم
نبی کریم ﷺ کی سیرت حلم و بردباری کا بہترین نمونہ ہے، کیونکہ آپ ﷺ اللہ الحلیم کی صفات کا عملی عکس تھے۔
ایک حدیث میں نبی ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ حَلِيمٌ يُحِبُّ الْحِلْمَ
(بے شک اللہ بردبار ہے اور بردباری کو پسند کرتا ہے)
— (مسند احمد)
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ حلم صرف اللہ کی صفت نہیں بلکہ بندوں کو بھی اس کو اپنانے کی ترغیب دی گئی ہے۔
اللہ الحلیم کی بردباری کی مثالیں
انسان گناہ کرتا ہے، مگر اللہ فوراً سزا نہیں دیتا
بندہ نماز چھوڑ دیتا ہے، مگر اللہ رزق بند نہیں کرتا
انسان نافرمانی کرتا ہے، مگر اللہ توبہ کا دروازہ بند نہیں کرتا
یہ سب اللہ کے حلیم ہونے کی واضح نشانیاں ہیں۔
الحلیم پر ایمان کے اثرات
جب انسان دل سے مان لیتا ہے کہ اللہ الحلیم ہے تو اس کی شخصیت میں نمایاں تبدیلی آتی ہے:
صبر اور برداشت پیدا ہوتی ہے
انسان جلد غصہ نہیں کرتا۔
لوگوں کو معاف کرنے کی عادت بنتی ہے
کیونکہ بندہ جانتا ہے کہ اللہ بھی معاف کرتا ہے۔
گناہوں پر شرمندگی
یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کی نرمی کا ناجائز فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
اخلاقی بہتری
انسان سختی کے بجائے نرمی اختیار کرتا ہے۔
اللہ الحلیم اور توبہ کا تعلق
اللہ کا حلیم ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ:
توبہ کبھی دیر نہیں ہوتی
گناہ خواہ کتنے ہی بڑے ہوں، اللہ مہلت دیتا ہے
موت سے پہلے دروازہ بند نہیں ہوتا
یہی وجہ ہے کہ قرآن میں بار بار صبر، حلم اور توبہ کی تلقین کی گئی ہے۔
الحلیم کا ذکر اور دعا
اللہ کے اس نام کا ذکر دل کو سکون اور غصے پر قابو عطا کرتا ہے۔
ایک مسنون مفہوم والی دعا:
يَا حَلِيمُ أَلْهِمْنِي الصَّبْرَ وَالْحِلْمَ وَاغْفِرْ لِي زَلَّاتِي
ترجمہ:
اے بردبار اللہ! مجھے صبر اور حلم عطا فرما اور میری لغزشوں کو معاف فرما۔
ہماری عملی زندگی میں الحلیم
گھریلو جھگڑوں میں
سوشل میڈیا پر بحث کے دوران
کاروبار اور لین دین میں
بچوں کی تربیت میں
اگر ہم الحلیم کو یاد رکھیں تو ہمارے رویے نرم، بااخلاق اور اسلامی بن سکتے ہیں۔
حوالہ جات (Qur’an & Hadith References)
سورۃ البقرہ: 225
سورۃ النساء: 12
سورۃ الحج: 59
مسند احمد – باب الحلم
تفسیر ابن کثیر (اسماء الحسنیٰ)
ڈسکلیمر
یہ مضمون قرآن مجید، احادیث نبوی ﷺ اور مستند اسلامی تفاسیر کی روشنی میں عام فہم انداز میں تحریر کیا گیا ہے۔ کسی بھی شرعی یا فقہی مسئلے میں مستند علماء کرام سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
Copyright
Copyright © 2026 The Muslim Way.
All Rights Reserved.

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔