العَلِيّ – اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام | معنی، فضیلت اور قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی
العَلِيّ اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نہایت جلال اور عظمت والا نام ہے۔
یہ نام اللہ تعالیٰ کی بلندی، شان، مرتبہ اور بے مثال فوقیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اللہ العلیّ ہے، یعنی وہ ہر چیز سے بلند، ہر مخلوق سے بالا اور ہر نقص سے پاک ہے۔
دنیا میں انسان بلندی کو طاقت، دولت، عہدے یا شہرت سے جوڑتا ہے، مگر حقیقی بلندی صرف اور صرف اللہ کے لیے ہے۔ جو ذات زمین و آسمان کی محتاج نہیں، جو ہر حال میں غالب اور بلند ہے، وہی العلیّ ہے۔
العَلِيّ کا لغوی اور اصطلاحی معنی
عربی زبان میں عُلُوّ کے معنی ہیں:
بلند ہونا
بالا ہونا
مرتبے میں اعلیٰ ہونا
اصطلاحی طور پر:
العلیّ وہ ذات ہے جو اپنی ذات، صفات، قدرت، علم اور شان میں ہر چیز سے بلند ہے، اور جس سے اوپر کوئی نہیں۔
اللہ کی بلندی:
جسمانی نہیں
بلکہ شان، قدرت، اختیار اور مقام کی بلندی ہے
قرآن مجید میں اسم العلیّ
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر اپنے نام العلیّ کا ذکر فرمایا ہے:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
(اور وہی سب سے بلند، سب سے عظمت والا ہے)
— (سورۃ البقرہ: 255)
یہ آیت آیت الکرسی کا حصہ ہے، جو اللہ کی بلندی، عظمت اور اقتدار کا جامع بیان ہے۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
ذَٰلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْحَقُّ وَأَنَّ مَا يَدْعُونَ مِن دُونِهِ هُوَ الْبَاطِلُ وَأَنَّ اللَّهَ هُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ
— (سورۃ الحج: 62)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ:
اللہ ہی حق ہے
اور وہی سب سے بلند اور بڑا ہے
حدیث نبوی ﷺ اور اللہ کی بلندی
نبی کریم ﷺ اللہ کی بلندی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے:
“سب سے افضل ذکر یہ ہے:
سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ”
— (صحیح مسلم)
یہ اذکار اللہ کی بلندی، پاکیزگی اور عظمت کا عملی اقرار ہیں۔
العَلِيّ اور انسان کی حقیقت
جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ اللہ العلیّ ہے تو وہ اپنی حقیقت پہچان لیتا ہے:
انسان کمزور ہے
محتاج ہے
محدود ہے
اور:
اللہ بے نیاز ہے
بلند ہے
ہر چیز پر غالب ہے
یہ شعور انسان کے اندر عاجزی پیدا کرتا ہے، جو ایمان کی بنیاد ہے۔
العَلِيّ اور تکبر کا خاتمہ
تکبر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان خود کو بلند سمجھنے لگتا ہے۔
لیکن جو شخص اللہ کو العلیّ مانتا ہے:
وہ خود کو بڑا نہیں سمجھتا
وہ دوسروں کو حقیر نہیں جانتا
وہ نعمتوں کو اللہ کی عطا سمجھتا ہے
اسی لیے اسلام میں تکبر کو سخت ناپسند کیا گیا ہے۔
العَلِيّ اور دعا
جب بندہ دعا میں ہاتھ اٹھاتا ہے تو اس کا دل جانتا ہے کہ:
وہ زمین پر ہے
اور جسے وہ پکار رہا ہے وہ العلیّ ہے
یہی یقین دعا میں عاجزی، اخلاص اور قبولیت کی امید پیدا کرتا ہے۔
العَلِيّ کا ذکر اور اس کے اثرات
اللہ کے اس نام کا ذکر:
دل کو مضبوط کرتا ہے
خوف کو کم کرتا ہے
توکل کو بڑھاتا ہے
دنیاوی طاقتوں کا ڈر ختم کرتا ہے
ایک سادہ ذکر:
يَا عَلِيُّ ارْفَعْ دَرَجَاتِنَا بِطَاعَتِكَ
ترجمہ:
اے سب سے بلند اللہ! ہمیں اپنی اطاعت کے ذریعے بلندی عطا فرما۔
نماز اور اسم العلیّ
سجدے میں ہم کہتے ہیں:
سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:
بندہ جتنا جھکتا ہے
اللہ اتنا ہی بلند ہے
اور:
عاجزی بلندی کا راستہ ہے
العَلِيّ اور آزمائشیں
جب حالات مشکل ہوں، دشمن طاقتور نظر آئیں یا دل کمزور پڑ جائے تو:
اللہ العلیّ کو یاد کرنا
بندے کو حوصلہ دیتا ہے
کیونکہ:
جو رب سب سے بلند ہے
اس کے فیصلے بھی سب سے بلند حکمت والے ہوتے ہیں
خلاصہ
العَلِيّ اللہ تعالیٰ کا وہ صفاتی نام ہے جو انسان کو یاد دلاتا ہے کہ حقیقی بلندی صرف اللہ کے لیے ہے۔
جو اللہ کو العلیّ مان لیتا ہے، وہ دنیا کی بلندیوں سے دھوکہ نہیں کھاتا اور عاجزی کو اختیار کرتا ہے۔
حوالہ جات (Qur’an & Hadith References)
سورۃ البقرہ: 255
سورۃ الحج: 62
سورۃ سبأ: 23
صحیح مسلم – کتاب الذکر
تفسیر ابن کثیر (اسماء الحسنیٰ)
ڈسکلیمر
یہ مضمون قرآن مجید، احادیث نبوی ﷺ اور مستند اسلامی تفاسیر کی روشنی میں تحریر کیا گیا ہے۔ کسی بھی شرعی یا فقہی مسئلے میں مستند علماء کرام سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
Copyright © 2026 The Muslim Way — All Rights Reserved

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔