المُعِزّ – اللہ تعالیٰ کا عزت دینے والا نام | قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی

المُعِزّ اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے جس کا مطلب عزت عطا کرنے والا ہے۔ اس مضمون میں المُعِزّ کے معنی، قرآن و حدیث کے حوالہ جات اور روحانی فوائد بیان کی


 المُعِزّ کا تعارف

اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں المُعِزّ ایک نہایت عظیم اور حقیقت پر مبنی نام ہے۔

المُعِزّ کا مطلب ہے: عزت عطا کرنے والا، سربلندی دینے والا، وقار اور شان بخشنے والا۔

یہ نام ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دنیا میں حقیقی عزت نہ مال سے ملتی ہے، نہ طاقت سے اور نہ ہی عہدے سے، بلکہ عزت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

المُعِزّ کے لغوی اور اصطلاحی معنی

لغوی معنی:

عِزّ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں قوت، غلبہ، شان اور احترام۔

اصطلاحی معنی:

وہ ذات جو:

جسے چاہے عزت دے

جسے چاہے لوگوں کے دلوں میں مقام دے

ایمان والوں کو دنیا و آخرت میں سربلند کرے

نیک بندوں کو ذلت سے نکال کر عزت عطا فرمائے

قرآنِ مجید میں عزت کا مالک کون؟

اللہ تعالیٰ صاف الفاظ میں فرماتا ہے:

"قُلِ اللَّهُمَّ مَالِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَن تَشَاءُ وَتَنزِعُ الْمُلْكَ مِمَّن تَشَاءُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ"

(سورۃ آلِ عمران: 26)

ترجمہ:

اے اللہ! تو ہی بادشاہی کا مالک ہے، جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔

یہ آیت واضح اعلان ہے کہ:

عزت کا سرچشمہ صرف اللہ ہے

کوئی انسان کسی کو عزت یا ذلت نہیں دے سکتا

دنیا کے فیصلے وقتی ہیں، اللہ کا فیصلہ دائمی ہے

حدیثِ نبوی ﷺ اور حقیقی عزت

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"جس نے اللہ کے لیے عاجزی اختیار کی، اللہ نے اسے عزت عطا فرمائی"

(مسلم)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ:

عاجزی عزت کا راستہ ہے

تکبر ذلت کا سبب ہے

جو اللہ کے سامنے جھکتا ہے، وہ لوگوں کے سامنے بلند ہوتا ہے

المُعِزّ اور دنیاوی عزت

دنیا میں لوگ عزت کو ان چیزوں میں تلاش کرتے ہیں:

دولت

طاقت

شہرت

عہدہ

لیکن حقیقت یہ ہے کہ:

بہت سے مالدار بے عزت ہیں

کئی طاقتور لوگ خوف میں مبتلا ہیں

اور کئی سادہ لوگ اللہ کے فضل سے عزت والے ہیں

المُعِزّ ہمیں سکھاتا ہے:

اگر اللہ عزت دے دے تو کوئی چھین نہیں سکتا،

اور اگر اللہ نہ دے تو کوئی دلوا نہیں سکتا۔

المُعِزّ اور ایمان کی عزت

اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو خاص عزت عطا فرماتا ہے:

دل کا سکون

زبان کی سچائی

کردار کی مضبوطی

لوگوں کے دلوں میں وقار

یہ عزت وقتی نہیں بلکہ:

دنیا میں بھی فائدہ دیتی ہے

قبر میں بھی

اور آخرت میں ہمیشہ کے لیے

اسم المُعِزّ کا ورد اور روحانی فوائد

اگر کوئی شخص:

روزانہ فجر یا عشاء کے بعد

"یَا مُعِزُّ"

41 یا 100 مرتبہ پڑھے تو ان شاء اللہ:

ذلت سے نجات ملتی ہے

لوگوں کے دلوں میں عزت پیدا ہوتی ہے

خوف اور کمزوری ختم ہوتی ہے

رزق اور معاملات میں بہتری آتی ہے

(یہ تجرباتی فوائد ہیں، شریعت میں لازم نہیں)

المُعِزّ ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

عزت کے لیے گناہ نہ کرو

لوگوں کے سامنے جھکنے کے بجائے اللہ کے سامنے جھکو

حرام ذریعہ عزت کو ذلت میں بدل دیتا ہے

حلال راستہ تھوڑا ہو مگر باعزت ہوتا ہے

کیونکہ:

عزت وہی ہے جو اللہ دے

باقی سب فریب ہے

حوالہ جات (References)

قرآن مجید – سورۃ آلِ عمران: 26

صحیح مسلم – عاجزی اور عزت کی حدیث

تفسیر ابن کثیر

ڈسکلیمر

یہ مضمون قرآن و حدیث اور مستند اسلامی تفاسیر کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ روحانی اذکار کو لازم سمجھنا درست نہیں، اصل نجات ایمان، تقویٰ اور عملِ صالح میں ہے۔

کاپی رائٹ

© The Muslim Way — All Rights Reserved