المُذِلّ – اللہ تعالیٰ کا ذلت دینے والا نام | قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی
المُذِلّ کا تعارف
اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں المُذِلّ ایک نہایت حقیقت پسند اور انسان کو جھنجھوڑ دینے والا نام ہے۔
المُذِلّ کا مطلب ہے: ذلت دینے والا، پست کرنے والا، غرور توڑ دینے والا۔
یہ نام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جس طرح عزت اللہ کے ہاتھ میں ہے، اسی طرح ذلت بھی صرف اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔
یہ نام انسان کے غرور، تکبر اور خود پسندی کو ختم کرتا ہے اور اسے اس کی اصل حقیقت یاد دلاتا ہے۔
المُذِلّ کے لغوی اور اصطلاحی معنی
لغوی معنی:
ذِلّ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں پستی، کمزوری، بے وقعتی اور رسوائی۔
اصطلاحی معنی:
وہ ذات جو:
جسے چاہے ذلیل کر دے
متکبر اور سرکش لوگوں کو پست کر دے
نافرمانی پر انسان کی شان ختم کر دے
طاقت اور غرور کو خاک میں ملا دے
قرآنِ مجید میں ذلت کا اختیار
اللہ تعالیٰ قرآن میں واضح طور پر فرماتا ہے:
"وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ"
(سورۃ آلِ عمران: 26)
ترجمہ:
تو جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے۔
یہ آیت ہمیں دو ٹوک حقیقت بتاتی ہے:
عزت اور ذلت انسان کے اختیار میں نہیں
اللہ کے فیصلے عدل پر مبنی ہوتے ہیں
ذلت اکثر نافرمانی، تکبر اور ظلم کا انجام ہوتی ہے
ذلت کے اسباب – قرآن کی روشنی میں
قرآنِ مجید میں کئی مقامات پر ذلت کے اسباب بیان کیے گئے ہیں، جیسے:
اللہ کی نافرمانی
تکبر اور غرور
حق کا انکار
ظلم اور ناانصافی
دین سے دوری
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اِنَّ الَّذِينَ يَسْتَكْبِرُونَ عَنْ عِبَادَتِي سَيَدْخُلُونَ جَهَنَّمَ دَاخِرِينَ"
(سورۃ غافر: 60)
ترجمہ:
جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔
حدیثِ نبوی ﷺ اور ذلت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"جو شخص اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلند کرتا ہے،
اور جو تکبر کرتا ہے اللہ اسے پست کر دیتا ہے"
(مسلم)
یہ حدیث ہمیں واضح سبق دیتی ہے:
تکبر کا انجام ذلت ہے
عاجزی عزت کا راستہ ہے
اللہ کے سامنے جھکنے سے ہی انسان بچتا ہے
المُذِلّ اور دنیا کی حقیقت
دنیا میں ہم دیکھتے ہیں:
بڑے بڑے بادشاہ ذلیل ہو گئے
طاقتور حکمران رسوا ہوئے
مالدار لوگ بے وقعت ہو گئے
یہ سب ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:
جب اللہ کسی کو ذلیل کرنے کا فیصلہ کر لے
تو نہ طاقت بچا سکتی ہے
نہ دولت
نہ تعلقات
ایمان والوں کے لیے سبق
المُذِلّ کا نام ایمان والوں کے لیے خوف بھی ہے اور رحمت بھی:
خوف اس لیے:
کہ کہیں نافرمانی ہمیں ذلت میں نہ ڈال دے
رحمت اس لیے:
کہ اللہ مومن کو مستقل ذلت میں نہیں رکھتا،
توبہ پر دوبارہ عزت عطا فرماتا ہے
ذلت سے بچنے کا راستہ
اسلام ہمیں ذلت سے بچنے کے واضح اصول دیتا ہے:
نماز کی پابندی
حلال رزق
سچائی
عاجزی
اللہ پر توکل
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ"
(سورۃ المنافقون: 8)
ترجمہ:
عزت اللہ، اس کے رسول اور ایمان والوں کے لیے ہے۔
اسم المُذِلّ کا ورد اور اس کا مقصد
اگر کوئی شخص:
غرور سے نجات چاہتا ہو
نفس کی اصلاح چاہتا ہو
اللہ کے خوف کو دل میں بٹھانا چاہتا ہو
تو وہ:
روزانہ کچھ وقت
"یَا مُذِلُّ"
دل کی اصلاح کی نیت سے پڑھے
⚠️ یہ ورد کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے نفس کو جھکانے کے لیے ہے۔
المُذِلّ ہمیں کیا سکھاتا ہے؟
انسان جتنا بڑا ہو، اتنا ہی عاجز رہے
طاقت پر گھمنڈ نہ کرے
اللہ کی نافرمانی سے بچے
ذلت سے پہلے توبہ کر لے
کیونکہ:
عزت بھی اللہ دیتا ہے
اور ذلت بھی اللہ
عقل مند وہ ہے جو انجام سے پہلے سنبھل جائے
حوالہ جات (References)
قرآن مجید – سورۃ آلِ عمران: 26
قرآن مجید – سورۃ غافر: 60
صحیح مسلم – تکبر اور عاجزی سے متعلق احادیث
تفسیر ابن کثیر
ڈسکلیمر
یہ مضمون قرآن و حدیث اور مستند اسلامی کتب کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ اذکار کو لازم سمجھنا درست نہیں، اصل مقصد ایمان، عملِ صالح اور اصلاحِ نفس ہے۔
کاپی رائٹ
© The Muslim Way — All Rights Reserved

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔