الخبیر – اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام | معنی، فضیلت، قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی
الخبیر اللہ تعالیٰ کے مبارک اسماء الحسنیٰ میں سے ایک عظیم نام ہے۔
یہ نام اللہ تعالیٰ کے علمِ کامل، باریک بینی اور ہر ظاہر و پوشیدہ چیز سے مکمل باخبر ہونے کی صفت کو ظاہر کرتا ہے۔ انسان کا علم محدود ہے، وہ صرف ظاہری چیزوں کو جان سکتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ الخبیر ہے جو دلوں کے بھید، نیتوں کے ارادے، چھپی ہوئی سوچوں اور آنے والے انجام تک سے پوری طرح واقف ہے۔
الخبیر کا مطلب ہے:
“ہر چیز کی گہرائی تک جاننے والا، باطن اور ظاہر سے مکمل باخبر”۔
یہ صفت ہمیں یہ احساس دلاتی ہے کہ دنیا میں کوئی عمل، کوئی بات، کوئی نیت ایسی نہیں جو اللہ تعالیٰ سے چھپی ہو۔ ہم لوگوں کو دھوکہ دے سکتے ہیں، مگر اللہ کو نہیں، کیونکہ وہ الخبیر ہے۔
الخبیر کا لغوی اور اصطلاحی معنی
عربی زبان میں “خبر” کا مطلب ہے کسی چیز کی حقیقت، اندرونی کیفیت اور اصل حال جاننا۔
الخبیر وہ ہے جو کسی بھی چیز کو صرف اوپر سے نہیں بلکہ اس کے اندر تک جانتا ہو۔
اصطلاحی طور پر:
الخبیر وہ ذات ہے جو مخلوق کے ہر عمل، ہر نیت، ہر خیال اور ہر راز سے پوری طرح واقف ہو، چاہے وہ چیز کتنی ہی باریک اور مخفی کیوں نہ ہو۔
قرآن مجید میں اسم الخبیر
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر اپنے نام الخبیر کا ذکر فرمایا ہے تاکہ بندوں کو متنبہ کیا جا سکے کہ اللہ سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ
(کیا وہ نہیں جانتا جس نے پیدا کیا؟ اور وہی باریک بین، خوب خبر رکھنے والا ہے)
— (سورۃ الملک: 14)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ واضح طور پر فرما رہا ہے کہ جس نے انسان کو پیدا کیا، وہ اس کے ظاہر و باطن کو کیسے نہیں جان سکتا؟
ایک اور مقام پر فرمایا:
وَاللّٰهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
(اور اللہ تمہارے تمام اعمال سے پوری طرح باخبر ہے)
— (سورۃ الحجرات: 13)
یہ آیت انسان کو تقویٰ کی دعوت دیتی ہے کہ اللہ تمہارے ہر عمل کو دیکھ اور جان رہا ہے۔
حدیث نبوی ﷺ میں الخبیر کا تصور
نبی کریم ﷺ نے بار بار ہمیں یہ تعلیم دی کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور نیتوں کو جاننے والا صرف اللہ ہے۔
نبی ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ
(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے)
— (صحیح بخاری)
یہ حدیث دراصل اسم الخبیر کی عملی تفسیر ہے، کیونکہ نیت دل میں ہوتی ہے اور دل کے حال سے صرف اللہ ہی پوری طرح واقف ہے۔
الخبیر پر ایمان کے اثرات
جب بندہ یہ یقین کر لیتا ہے کہ اللہ الخبیر ہے تو اس کی زندگی میں کئی مثبت تبدیلیاں آتی ہیں:
اخلاص پیدا ہوتا ہے
انسان دکھاوے کے بجائے خالص اللہ کے لیے عمل کرنے لگتا ہے۔
گناہوں سے بچاؤ
تنہائی میں بھی گناہ کرنے سے ڈر لگتا ہے کیونکہ اللہ دیکھ رہا ہے۔
عدل و انصاف
انسان کسی پر ظلم کرنے سے رک جاتا ہے، کیونکہ انجام اللہ کے علم میں ہے۔
دل کا اطمینان
اگر کوئی حق مار لے یا ظلم کرے تو بندہ جانتا ہے کہ اللہ سب جانتا ہے اور انصاف کرے گا۔
الخبیر کا ذکر اور دعا
اللہ کے اس نام کا ذکر کرنے سے انسان کو دل کی پاکیزگی اور نیت کی اصلاح میں مدد ملتی ہے۔
ایک سادہ دعا:
يَا خَبِيرُ أَصْلِحْ نِيَّتِي وَاجْعَلْ أَعْمَالِي خَالِصَةً لَكَ
ترجمہ:
اے ہر چیز سے باخبر اللہ! میری نیت کو درست فرما اور میرے اعمال کو خالص اپنے لیے بنا دے۔
ہماری عملی زندگی میں الخبیر
سوشل میڈیا پر ہو یا تنہائی میں
کاروبار ہو یا عبادت
بات چھوٹی ہو یا بڑی
ہر حال میں یہ یاد رکھنا کہ اللہ الخبیر ہے، انسان کو گناہوں سے بچاتا اور نیکی کی طرف راغب کرتا ہے۔
حوالہ جات (Qur’an & Hadith References)
سورۃ الملک: 14
سورۃ الحجرات: 13
سورۃ الاحزاب: 2
صحیح بخاری – کتاب الایمان
تفسیر ابن کثیر (اسماء الحسنیٰ)
ڈسکلیمر
یہ مضمون اسلامی تعلیمات، قرآن و حدیث اور مستند تفاسیر کی روشنی میں عام فہم انداز میں لکھا گیا ہے۔ کسی بھی فقہی یا شرعی مسئلے میں حتمی رہنمائی کے لیے مستند علماء کرام سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
Copyright
Copyright © 2026 The Muslim Way.
All Rights Reserved.

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔