✨ الآخر — وہ ذات جس کے بعد کچھ نہیں، جو ہمیشہ باقی رہنے والی ہے
اللہ تعالیٰ کے اسماء الحسنیٰ میں سے ایک عظیم اور عمیق نام الآخر ہے۔ یہ نام اللہ کی ابدیت (Eternity) اور بقاءِ مطلق کا اعلان ہے۔ اگر “الاول” ازلیت کو بیان کرتا ہے تو “الآخر” ابدیت کو واضح کرتا ہے۔
الآخر کا معنی ہے:
وہ ذات جس کے بعد کچھ نہ ہو، جو ہمیشہ باقی رہے۔
یہ تصور محض ایک صفت نہیں بلکہ اسلامی عقیدۂ توحید کی بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔
📖 قرآنی بنیاد
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
“هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ”
(سورۃ الحدید: 3)
اس آیت میں “الآخر” کو “الاول” کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ نہ صرف ابتدا سے پہلے ہے بلکہ انتہا کے بعد بھی باقی رہنے والا ہے۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
“كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ”
(القصص: 88)
ہر چیز فنا ہونے والی ہے سوائے اس کی ذات کے۔
یہ آیت “الآخر” کے معنی کو نہایت وضاحت سے بیان کرتی ہے۔
📜 حدیث کی تصریح
رسول اللہ ﷺ نے دعا میں فرمایا:
“اللَّهُمَّ أَنْتَ الْآخِرُ فَلَيْسَ بَعْدَكَ شَيْءٌ”
(صحیح مسلم)
ترجمہ: اے اللہ! تو ہی آخر ہے، تیرے بعد کچھ نہیں۔
یہ حدیث اسلامی عقیدۂ بقاءِ الٰہی کی قطعی دلیل ہے۔
🧠 عقیدۂ بقاء (Doctrine of Divine Permanence)
اہل سنت والجماعت کے مطابق:
اللہ ابدی ہے
اس پر فنا طاری نہیں ہوتی
قیامت کے بعد بھی وہ باقی رہے گا
جنت و جہنم بھی باقی رہیں گے مگر اللہ کی بقاء ذاتی ہے
امام طحاوی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
اللہ باقی ہے، اس پر فنا نہیں۔
یہ بقاء کسی حادث یا مخلوق کی طرح نہیں بلکہ حقیقی اور ذاتی بقاء ہے۔
⏳ فنا اور بقاء کا فلسفہ
کائنات کی ہر شے:
محدود ہے
فنا پذیر ہے
وقت کے تابع ہے
انسان، زمین، آسمان، فرشتے — سب فنا ہو جائیں گے۔
صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ قیامت کے دن اللہ فرمائے گا:
“لِمَنِ الْمُلْكُ الْيَوْمَ؟”
آج بادشاہی کس کی ہے؟
پھر خود جواب دے گا:
“لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ”
یہ “الآخر” کا عملی مظہر ہے۔
⚖️ کلامی اور فلسفیانہ پہلو
اسلامی علم الکلام میں بقاء کو “قدم” کے مقابل ذکر کیا جاتا ہے۔
قدم = ابتدا نہ ہونا
بقاء = انتہا نہ ہونا
اللہ تعالیٰ دونوں صفات کا حامل ہے۔
فلاسفہ نے بقاء کو مجرد تصور سمجھا،
مگر قرآن اسے ذاتی اور حقیقی بقاء قرار دیتا ہے۔
🌍 عملی زندگی میں اثر
الآخر پر ایمان رکھنے والا شخص:
دنیا کی فانی حقیقت کو سمجھتا ہے
مال و منصب کو دائمی نہیں سمجھتا
آخرت کو اصل زندگی مانتا ہے
اللہ فرماتے ہیں:
“وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ”
(الاعلیٰ: 17)
آخرت بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔
💎 روحانی اثرات
جب بندہ سمجھ لیتا ہے کہ:
دنیا ختم ہونے والی ہے
صرف اللہ باقی ہے
تو اس کا دل دنیا کی محبت سے آزاد ہو جاتا ہے۔
وہ جان لیتا ہے:
مصیبت دائمی نہیں
خوشی دائمی نہیں
صرف اللہ کی ذات باقی ہے
یہ یقین دل میں استقامت پیدا کرتا ہے۔
📚 کلاسیکل علماء کی تشریحات
امام ابن کثیر
“الآخر وہ ہے جس کے بعد کوئی نہیں، جب سب فنا ہو جائیں گے وہ باقی رہے گا۔”
امام قرطبی
یہ نام اللہ کی مطلق بقاء پر دلالت کرتا ہے، جو کسی اور کے لیے ثابت نہیں۔
🌟 الآخر اور آخرت کا تعلق
الآخر ہمیں آخرت کی یاد دلاتا ہے۔
کیونکہ جب سب ختم ہوگا، تب اللہ باقی ہوگا، اور اسی کے سامنے حساب ہوگا۔
📌 خلاصہ
الآخر کا مطلب:
اللہ ابدی ہے
اس پر فنا نہیں
ہر چیز ختم ہوگی مگر وہ باقی رہے گا
یہی عقیدہ دنیا سے بے رغبتی اور آخرت کی تیاری سکھاتا ہے
⚠️ ڈسکلیمر
یہ مضمون قرآن، حدیث اور مستند اہل سنت مصادر کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔
یہ کسی فرقہ وارانہ یا فلسفیانہ مناظرے کے لیے نہیں بلکہ دینی فہم کے لیے ہے۔
علمی اشکال کی صورت میں اہل علم سے رجوع کریں۔
© کاپی رائٹ
© 2026 The Muslim Way Official – All Rights Reserved
🔗 مزید اسلامی رہنمائی
Allah Pak ke Asma ul Husna, Qurani Duain, Namaz, Wazu aur Ahadees Mubarakah parhne ke liye hamari official website visit karein:
👉 https://www.themuslimwayoffiicial.com�

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔