الشَّہِیْد — اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام، ہر شے پر گواہ اور کامل نگرانی
اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں الشَّہِیْد ایک نہایت بامعنی اور انسان کو جواب دہی کا احساس دلانے والا نام ہے۔ یہ نام ہمیں یہ یقین عطا کرتا ہے کہ اس کائنات میں کوئی لمحہ، کوئی عمل، کوئی نیت اور کوئی خیال بھی اللہ تعالیٰ کی نگاہ سے اوجھل نہیں۔ الشَّہِیْد وہ ذات ہے جو ہر چیز پر حاضر و ناظر ہے، ہر بات کی گواہ ہے اور ہر عمل کو جاننے والی ہے۔
عربی زبان میں “شَہِدَ” کا مطلب ہے: حاضر ہونا، دیکھنا، گواہی دینا۔
الشَّہِیْد کے معنی ہیں:
وہ ذات جو ہر جگہ موجود ہو، ہر حال کو دیکھ رہی ہو، اور ہر شے کی سچی گواہ ہو۔
اللہ تعالیٰ الشَّہِیْد ہے کیونکہ اس کا علم اور اس کی نگرانی کسی حد میں قید نہیں۔ انسان لوگوں سے چھپ سکتا ہے، اندھیروں میں گناہ کر سکتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی شہادت سے کوئی چیز باہر نہیں۔ یہی حقیقت بندے کو گناہوں سے روکتی اور نیکی کی طرف راغب کرتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی صفتِ شہادت ہمیں یہ بھی سمجھاتی ہے کہ وہ صرف ہمارے ظاہری اعمال ہی نہیں بلکہ نیتوں اور دل کے خیالات تک کو جانتا ہے۔ انسان کبھی اچھا عمل دکھاوے کے لیے کرتا ہے، مگر اللہ الشَّہِیْد ہے، وہ جانتا ہے کہ دل میں کیا ہے۔ اسی لیے اسلام میں اخلاص کو بہت بڑی اہمیت دی گئی ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ بار بار اپنی صفتِ شہادت کا ذکر کرتا ہے تاکہ انسان یہ جان لے کہ قیامت کے دن کسی بھی قسم کی ناانصافی نہیں ہوگی۔ اس دن اللہ خود گواہ ہوگا، فرشتے گواہ ہوں گے، اور حتیٰ کہ انسان کے اپنے اعضاء بھی اس کے خلاف یا اس کے حق میں گواہی دیں گے۔
الشَّہِیْد کا تصور انسان کو خود احتسابی سکھاتا ہے۔ جب بندہ یہ مان لیتا ہے کہ اللہ ہر لمحہ دیکھ رہا ہے، تو وہ تنہائی میں بھی گناہ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی تقویٰ ہے اور یہی ایمان کی اصل روح ہے۔
یہ نام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ دنیا میں اگر کسی کے ساتھ ناانصافی ہو جائے، حق دب جائے، یا سچ کو جھٹلایا جائے، تو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ اللہ الشَّہِیْد ہے، وہ ہر ظلم کا گواہ ہے، اور قیامت کے دن مکمل انصاف قائم کرے گا۔
اللہ تعالیٰ کی شہادت صرف سزا کے لیے نہیں بلکہ رحمت کے لیے بھی ہے۔ وہ اپنے بندوں کی چھپی ہوئی نیکیاں بھی دیکھتا ہے، وہ آنسو بھی دیکھتا ہے جو بندہ کسی کو دکھائے بغیر بہا دیتا ہے، وہ صدقہ بھی جانتا ہے جو خاموشی سے دیا گیا ہو۔ یہ سب الشَّہِیْد کی گواہی میں محفوظ ہے۔
روحانی طور پر “یَا شَهِيدُ” کا ذکر انسان کے دل میں اللہ کی نگرانی کا احساس زندہ رکھتا ہے۔ جو شخص اس نام کا ورد کرتا ہے، وہ جھوٹ، خیانت اور دکھاوے سے بچنے لگتا ہے۔ خاص طور پر معاملات، وعدوں اور امانتوں میں یہ نام انسان کو مضبوط بناتا ہے۔
الشَّہِیْد ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ہمیں سچ کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، چاہے حالات مشکل ہی کیوں نہ ہوں۔ کیونکہ اللہ سچ کا گواہ ہے اور سچ بولنے والوں کا ساتھ دیتا ہے۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اللہ کی شہادت کسی بندے پر بوجھ نہیں بلکہ تحفظ ہے۔ جو شخص جان لیتا ہے کہ میرا رب میرے ساتھ ہے، مجھے دیکھ رہا ہے اور میرے اعمال سے واقف ہے، وہ دنیا میں باوقار اور آخرت میں کامیاب ہو جاتا ہے۔
حوالہ جات (قرآن و حدیث)
قرآن مجید سے حوالہ جات:
وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
(سورۃ المجادلہ: 6)
ترجمہ: اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا
(سورۃ النساء: 33)
ترجمہ: بے شک اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
(سورۃ ق: 18)
یہ آیت اللہ کی نگرانی اور شہادت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
حدیث شریف سے حوالہ جات:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اللہ سے اس طرح حیا کرو جیسے تم کسی معزز آدمی سے حیا کرتے ہو۔”
(سنن ترمذی)
ایک اور حدیث میں ہے:
“قیامت کے دن بندے کے اپنے اعضاء اس کے اعمال پر گواہی دیں گے۔”
(صحیح مسلم)
یہ احادیث اللہ تعالیٰ کی شہادت اور جواب دہی کی حقیقت کو واضح کرتی ہیں۔
Disclaimer
یہ مضمون قرآن و سنت کی روشنی میں تعلیمی اور اصلاحی مقصد کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ کسی فقہی یا شرعی مسئلے میں حتمی رہنمائی کے لیے مستند علماء کرام سے رجوع کریں۔
Copyright
© 2026 — The Muslim Way | Namaz, Wazu, Ahadees & Islamic Guidance
All rights reserved.
🔗 مزید اسلامی رہنمائی اور مستند اسلامی مواد
Allah Pak ke Asma ul Husna, Qurani Duain, Namaz, Wazu aur Ahadees Mubarakah parhne ke liye hamari official website visit karein:
👉 https://www.themuslimwayoffiicial.com

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔