العظیم – اللہ تعالیٰ کا عظیم صفاتی نام | معنی، فضیلت، قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی
العظیم اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نہایت جلال والا اور عظمت سے بھرپور نام ہے۔
یہ نام ہمیں اللہ کی بے مثال بزرگی، شان، قدرت اور کبریائی کا احساس دلاتا ہے۔ انسان جتنا بھی بڑا ہو، جتنا بھی طاقتور یا علم والا ہو، وہ اللہ کی عظمت کے سامنے کچھ بھی نہیں۔
اللہ تعالیٰ العظیم ہے، یعنی وہ ذات جو ہر نقص، کمزوری اور محتاجی سے پاک ہے، جس کی عظمت کی کوئی حد نہیں، اور جس کی بڑائی کا کوئی مقابلہ نہیں۔
العظیم کا لغوی اور اصطلاحی معنی
عربی زبان میں “عَظَمَ” کا مطلب ہے: بہت بڑا ہونا، عظمت والا ہونا، شان و شوکت میں بلند ہونا۔
اصطلاحی طور پر:
العظیم وہ ذات ہے جو اپنی ذات، صفات، قدرت، علم اور حکمت میں انتہائی عظمت والی ہے، جس جیسا کوئی نہیں۔
اللہ کی عظمت نہ صرف نظر آنے والی کائنات میں ہے بلکہ اس کی حکمت، فیصلوں اور نظام میں بھی ظاہر ہے۔
قرآن مجید میں اسم العظیم
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کئی مقامات پر اپنے اسم العظیم کا ذکر فرمایا ہے تاکہ انسان اپنی حیثیت پہچانے اور اللہ کی بڑائی کو تسلیم کرے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۗ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
(یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہے عطا کرتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے)
— (سورۃ الجمعہ: 4)
ایک اور مقام پر فرمایا:
سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْعَظِيمِ
(اپنے عظمت والے رب کے نام کی تسبیح کرو)
— (سورۃ الواقعہ: 74)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ کی عظمت کا تقاضا ہے کہ اس کی تسبیح، اطاعت اور تعظیم کی جائے۔
حدیث نبوی ﷺ میں العظیم
نبی کریم ﷺ ہمیں اللہ کی عظمت کو پہچاننے اور اس کا اقرار کرنے کی تعلیم دیتے تھے۔
ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
كَلِمَتَانِ خَفِيفَتَانِ عَلَى اللِّسَانِ، ثَقِيلَتَانِ فِي الْمِيزَانِ: سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ
— (صحیح بخاری، صحیح مسلم)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ “سبحان اللہ العظیم” کہنا اللہ کی عظمت کو ماننے کا بہترین ذریعہ ہے۔
اللہ العظیم کی عظمت کی نشانیاں
آسمان و زمین کا بغیر ستونوں کے قائم ہونا
سورج، چاند اور ستاروں کا مقررہ نظام
انسان کا ایک قطرے سے مکمل وجود میں آ جانا
دن اور رات کا باقاعدہ بدلنا
یہ سب اللہ العظیم کی قدرت اور عظمت کی زندہ نشانیاں ہیں۔
العظیم پر ایمان کے اثرات
جب انسان دل سے مان لیتا ہے کہ اللہ ہی العظیم ہے تو اس کی زندگی بدل جاتی ہے:
تکبر ختم ہو جاتا ہے
انسان اپنی حیثیت پہچان لیتا ہے۔
عاجزی اور انکساری پیدا ہوتی ہے
بندہ خود کو بڑا نہیں سمجھتا۔
عبادت میں خشوع پیدا ہوتا ہے
نماز محض رسم نہیں رہتی بلکہ اللہ کی عظمت کا اظہار بن جاتی ہے۔
اللہ پر مکمل بھروسہ
کیونکہ عظیم رب کے فیصلے بھی عظیم ہوتے ہیں۔
العظیم اور نماز
نماز میں ہم بار بار کہتے ہیں:
سبحان ربی العظیم (رکوع میں)
سبحان ربی الاعلیٰ (سجدے میں)
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:
رکوع میں اللہ کی عظمت
سجدے میں اللہ کی بلندی
بندہ جتنا جھکتا ہے، اللہ اتنا ہی بلند کرتا ہے۔
العظیم کا ذکر اور دعا
اللہ کے اس نام کا ورد دل میں اللہ کی ہیبت اور عظمت پیدا کرتا ہے۔
ایک بامعنی دعا:
يَا عَظِيمُ أَنْتَ الْعَظِيمُ فَعَظِّمْ شَأْنَنَا بِطَاعَتِكَ
ترجمہ:
اے عظمت والے اللہ! تو ہی عظیم ہے، ہمیں اپنی اطاعت کے ذریعے عزت اور بلندی عطا فرما۔
عملی زندگی میں العظیم
مشکل حالات میں اللہ کی عظمت یاد رکھنا
دنیا کی طاقتوں سے نہ ڈرنا
اللہ کے حکم کو ہر چیز پر مقدم رکھنا
فیصلوں میں اللہ کی رضا تلاش کرنا
یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ بندہ واقعی اللہ کو العظیم مانتا ہے۔
حوالہ جات (Qur’an & Hadith References)
سورۃ الواقعہ: 74
سورۃ الجمعہ: 4
سورۃ الحاقہ: 52
صحیح بخاری – کتاب الدعوات
صحیح مسلم – باب الذکر
ڈسکلیمر
یہ مضمون قرآن مجید، احادیث نبوی ﷺ اور مستند اسلامی تفاسیر کی روشنی میں عام فہم انداز میں تحریر کیا گیا ہے۔ کسی بھی شرعی یا فقہی مسئلے میں مستند علماء کرام سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
Copyright
Copyright © 2026 The Muslim Way.
All Rights Reserved.

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔