الْمُجِيب — اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام، معنی، فضیلت اور دعاؤں کی قبولیت
اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں ایک نہایت دل کو سکون دینے والا اور امید جگانے والا نام الْمُجِيب ہے۔ یہ نام ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ ہمارا رب سننے والا ہی نہیں بلکہ جواب دینے والا بھی ہے۔ انسان جب مشکلات میں گھرا ہوتا ہے، دل بوجھل ہوتا ہے، راستے بند نظر آتے ہیں، تب وہ اپنے رب کو پکارتا ہے۔ ایسے وقت میں الْمُجِيب کا تصور بندے کے دل میں نئی روشنی پیدا کرتا ہے۔
لفظ الْمُجِيب عربی کے لفظ “اجابت” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں: پکار کا جواب دینا، قبول کرنا، سن کر ردِعمل ظاہر کرنا۔ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو ہر پکار سننے کے ساتھ ساتھ حکمت کے مطابق اس کا جواب بھی دیتا ہے۔ کبھی فوراً، کبھی تاخیر سے، اور کبھی کسی بہتر صورت میں۔
یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کا جواب دینا ہمیشہ ہماری خواہش کے عین مطابق نہیں ہوتا، بلکہ ہمارے حق میں بہتر ہوتا ہے۔ بندہ کسی چیز کو اپنے لیے اچھا سمجھتا ہے، مگر اللہ جانتا ہے کہ اس میں نقصان ہے۔ اسی طرح کبھی کوئی چیز ہمیں ناپسند ہوتی ہے، مگر وہی ہمارے لیے بھلائی کا سبب بن جاتی ہے۔ یہی الْمُجِيب کی حکمت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے بندوں کو دعا کی اجازت ہی نہیں دی بلکہ دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔ دعا بندگی کی روح ہے، اور الْمُجِيب کا نام اس بات کی ضمانت ہے کہ کوئی دعا ضائع نہیں جاتی۔ اگر دنیا میں اس کا اثر نظر نہ آئے تو آخرت میں اس کا اجر ضرور ملے گا۔
جب بندہ اخلاص کے ساتھ، حلال رزق کے ساتھ، عاجزی اور یقین کے ساتھ دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس دعا کو رد نہیں فرماتا۔ بعض اوقات انسان یہ کہتا ہے کہ میں دعا کرتا ہوں مگر قبول نہیں ہوتی۔ درحقیقت، دعا قبول ہوتی ہے مگر اس کی شکل وہ نہیں ہوتی جو بندہ چاہ رہا ہوتا ہے۔
الْمُجِيب کا تصور انسان کو صبر سکھاتا ہے، مایوسی سے بچاتا ہے اور اللہ سے تعلق مضبوط کرتا ہے۔ جو شخص اس نام پر یقین رکھتا ہے وہ کبھی ناامید نہیں ہوتا۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی آواز خالی فضاء میں نہیں جا رہی بلکہ ایک سننے اور جواب دینے والے رب تک پہنچ رہی ہے۔
یہ نام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ دعا صرف مشکل وقت کے لیے نہیں بلکہ ہر حال میں ہونی چاہیے۔ شکر کی دعا، ہدایت کی دعا، ثابت قدمی کی دعا — سب الْمُجِيب سے تعلق کا حصہ ہیں۔
روحانی طور پر، اگر کوئی شخص کثرت سے “یَا مُجِيبُ” کا ورد کرے تو اس کے دل میں اللہ سے قربت بڑھتی ہے، بے چینی کم ہوتی ہے اور امید مضبوط ہوتی ہے۔ خاص طور پر فجر کے بعد اور تہجد کے وقت اس نام کا ورد انتہائی مؤثر سمجھا جاتا ہے۔
الْمُجِيب ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ ہمیں بھی دوسروں کی پکار پر ممکن حد تک جواب دینا چاہیے۔ بندہ جب اللہ کی اس صفت کو اپناتا ہے تو وہ معاشرے میں خیر کا ذریعہ بنتا ہے۔
حوالہ جات (قرآن و حدیث)
قرآن مجید سے:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ
(سورۃ البقرہ: 186)
ترجمہ: اور جب میرے بندے تم سے میرے بارے میں پوچھیں تو (کہہ دو) میں قریب ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔
إِنَّ رَبِّي قَرِيبٌ مُجِيبٌ
(سورۃ ہود: 61)
ترجمہ: بے شک میرا رب قریب ہے اور دعا قبول فرمانے والا ہے۔
حدیث شریف سے:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“تم اپنے رب سے دعا کرو اس حال میں کہ تمہیں قبولیت کا یقین ہو۔”
(سنن ترمذی)
ایک اور حدیث میں ہے:
“دعا ہی عبادت ہے۔”
(سنن ابوداؤد)
یہ احادیث واضح کرتی ہیں کہ دعا اور قبولیت کے درمیان گہرا تعلق ہے۔
Disclaimer
یہ مضمون صرف اسلامی معلومات اور روحانی رہنمائی کے مقصد سے تحریر کیا گیا ہے۔ اس میں بیان کردہ مواد کسی فقہی فتویٰ کا متبادل نہیں۔ شرعی مسائل میں مستند علماء کرام سے رجوع ضروری ہے۔
Copyright
© 2026 — The Muslim Way | Namaz, Wazu, Ahadees & Islamic Guidance
All rights reserved.
🔗 مزید اسلامی رہنمائی اور مستند اسلامی مواد
Allah Pak ke Asma ul Husna, Qurani Duain, Namaz, Wazu aur Ahadees Mubarakah parhne ke liye hamari official website visit karein:
👉 https://www.themuslimwayoffiicial.com

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔