الغَفُور – اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام | معنی، فضیلت اور قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی

الغفور اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے جس کا مطلب ہے بار بار معاف کرنے والا۔ اس پوسٹ میں الغفور کے معنی، فضیلت، قرآن و حدیث کے حوالہ جات اور توبہ و مغفرت


 الغَفُور اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نہایت امید افزا اور رحمت سے بھرپور نام ہے۔ یہ نام انسان کے دل میں امید، سکون اور اللہ کی رحمت پر یقین پیدا کرتا ہے۔

الغفور کا مطلب ہے بار بار معاف کرنے والا، ڈھانپ لینے والا، گناہوں کو چھپا دینے والا۔

انسان خطا کا پتلا ہے۔ اس سے دن رات غلطیاں ہوتی ہیں، گناہ سرزد ہوتے ہیں، کوتاہیاں ہو جاتی ہیں۔ اگر اللہ فوراً پکڑ کرتا تو شاید کوئی بھی باقی نہ بچتا، مگر اللہ الغفور ہے۔ وہ بندے کے گناہوں کو معاف فرماتا ہے، اس کی لغزشوں پر پردہ ڈالتا ہے اور بار بار توبہ کا موقع عطا کرتا ہے۔

الغفور کا لغوی اور اصطلاحی معنی

عربی زبان میں غَفْر کا مطلب ہے:

ڈھانپ لینا

چھپا دینا

معاف کر دینا

اصطلاحی طور پر:

الغفور وہ ذات ہے جو بندے کے گناہوں کو معاف بھی کرتی ہے اور انہیں ظاہر بھی نہیں ہونے دیتی، بلکہ ان پر پردہ ڈال دیتی ہے۔

یہ اللہ کی بے پناہ رحمت ہے کہ وہ نہ صرف معاف کرتا ہے بلکہ رسوا بھی نہیں کرتا۔

قرآن مجید میں اسم الغفور

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بے شمار مقامات پر اپنے نام الغفور کا ذکر فرمایا ہے تاکہ انسان کبھی مایوس نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

(بے شک اللہ بہت زیادہ معاف کرنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے)

— (سورۃ الزمر: 53)

ایک اور مقام پر فرمایا:

وَمَن يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَّحِيمًا

— (سورۃ النساء: 110)

یہ آیت واضح پیغام دیتی ہے کہ:

جو بھی گناہ کرے، پھر اللہ سے معافی مانگ لے، وہ اللہ کو غفور پائے گا۔

حدیث نبوی ﷺ اور اللہ کی مغفرت

نبی کریم ﷺ نے اللہ کی مغفرت کو سب سے بڑی نعمت قرار دیا۔

آپ ﷺ نے فرمایا:

“اللہ تعالیٰ رات کو اپنا ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ دن کا گناہگار توبہ کر لے،

اور دن کو ہاتھ پھیلاتا ہے تاکہ رات کا گناہگار توبہ کر لے۔”

— (صحیح مسلم)

یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ:

اللہ کی مغفرت ہر وقت دستیاب ہے

توبہ کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے

اللہ الغفور ہے، انتظار کرتا ہے

الغفور اور توبہ کا گہرا تعلق

الغفور کا نام توبہ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ بندہ:

اپنی غلطی تسلیم کرے

ندامت محسوس کرے

دوبارہ گناہ نہ کرنے کا عزم کرے

جب بندہ سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو:

اللہ گناہ معاف کر دیتا ہے

بعض اوقات گناہوں کو نیکیوں میں بدل دیتا ہے

یہ اللہ کی رحمت کی انتہا ہے۔

الغفور اور انسان کی نفسیات

انسان اکثر اپنے گناہوں کو دیکھ کر مایوس ہو جاتا ہے اور سوچتا ہے:

“اب میری معافی ممکن نہیں”

یہ سوچ شیطان کی طرف سے ہوتی ہے۔

اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے:

لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ

(اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو)

— (سورۃ الزمر: 53)

الغفور کا نام انسان کو مایوسی سے نکال کر امید کی طرف لے جاتا ہے۔

الغفور پر ایمان کے اثرات

جو شخص دل سے مان لیتا ہے کہ اللہ الغفور ہے، اس کی زندگی میں یہ تبدیلیاں آتی ہیں:

مایوسی ختم ہو جاتی ہے

توبہ کی عادت بنتی ہے

دوسروں کو معاف کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے

دل کا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے

کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اس کا رب معاف کرنے والا ہے۔

الغفور کا ذکر اور دعا

اللہ کے اس نام کا ذکر دل کو سکون اور روح کو پاکیزگی عطا کرتا ہے۔

ایک بامعنی دعا:

يَا غَفُورُ اغْفِرْ لِي ذُنُوبِي كُلَّهَا دِقَّهَا وَجِلَّهَا

ترجمہ:

اے بہت زیادہ معاف کرنے والے اللہ! میرے تمام گناہوں کو معاف فرما، چھوٹے ہوں یا بڑے۔

ہماری عملی زندگی میں الغفور

گناہ ہو جائے تو فوراً توبہ

خود کو کمتر نہ سمجھیں

دوسروں کی غلطیوں کو معاف کریں

اللہ کی رحمت پر بھروسہ رکھیں

یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ بندہ واقعی اللہ کو الغفور مانتا ہے۔

خلاصہ

الغفور اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم نام ہے جو انسان کو مایوسی کے اندھیروں سے نکال کر امید کی روشنی میں لے آتا ہے۔

یہ نام ہمیں سکھاتا ہے کہ گناہ کتنے ہی بڑے کیوں نہ ہوں، اللہ کی مغفرت ان سے کہیں زیادہ بڑی ہے۔

حوالہ جات (Qur’an & Hadith References)

سورۃ الزمر: 53

سورۃ النساء: 110

سورۃ آل عمران: 135

صحیح مسلم – کتاب التوبہ

تفسیر ابن کثیر (اسماء الحسنیٰ)

ڈسکلیمر

یہ مضمون قرآن مجید، احادیث نبوی ﷺ اور مستند اسلامی تفاسیر کی روشنی میں عام فہم انداز میں تحریر کیا گیا ہے۔ کسی بھی فقہی یا شرعی مسئلے میں حتمی رہنمائی کے لیے مستند علماء کرام سے رجوع کرنا ضروری ہے

Copyright © 2026 The Muslim Way — All Rights Reserved


© 2026 The Muslim Way — All Rights Reserved