الشَّكُور – اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام | معنی، فضیلت اور قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی

یہ مضمون قرآن مجید، احادیث نبوی ﷺ اور مستند اسلامی تفاسیر کی روشنی میں تحریر کیا گیا ہے۔ روحانی اذکار کو لازم نہ سمجھا جائے، اصل نجات ایمان، اخلاص اور


 الشَّكُور اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نہایت پیارا، امید افزا اور بندے کے دل کو مضبوط کرنے والا نام ہے۔

یہ نام ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس پر بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔
الشکور کا مطلب ہے:
بہت زیادہ قدر کرنے والا، تھوڑے عمل پر بڑا اجر دینے والا، بندے کی نیکی کو قبول فرما کر بڑھا دینے والا۔
انسان اکثر یہ سوچتا ہے کہ اس کی نیکیاں بہت کم ہیں، اس کی عبادت میں کمی ہے، اس کا عمل ناقص ہے۔ مگر اللہ الشَّكُور ہے۔ وہ نیت دیکھتا ہے، کوشش دیکھتا ہے، اور بندے کے تھوڑے سے عمل کو بھی ضائع نہیں کرتا۔
الشَّكُور کا لغوی اور اصطلاحی معنی
عربی زبان میں شُكر کا مطلب ہے:
قدردانی کرنا
احسان کو تسلیم کرنا
نیکی کا بدلہ دینا
اصطلاحی طور پر:
الشَّكُور وہ ذات ہے جو بندے کی معمولی نیکی کو بھی قبول فرما کر اس پر بڑا اجر عطا کرتی ہے، اور بندے کی کوشش کو ضائع نہیں ہونے دیتی۔
یہ اللہ کی شانِ رحمت ہے کہ وہ بندے کے عمل سے بے نیاز ہونے کے باوجود اس کی قدر فرماتا ہے۔
قرآن مجید میں اسم الشَّكُور
اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں اپنے اسم الشَّكُور کا ذکر فرما کر بندوں کو نیکی پر ابھارتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
إِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ
(بے شک اللہ قدر کرنے والا، خوب جاننے والا ہے)
— (سورۃ البقرہ: 158)
ایک اور مقام پر فرمایا:
وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ
(اور جو شخص خوش دلی سے نیکی کرے تو بے شک اللہ قدر کرنے والا، خوب جاننے والا ہے)
— (سورۃ البقرہ: 158)
اسی طرح فرمایا:
إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ
(بے شک ہمارا رب بہت بخشنے والا، بڑی قدر کرنے والا ہے)
— (سورۃ فاطر: 34)
یہ آیات ہمیں یقین دلاتی ہیں کہ اللہ بندے کی نیکی کو کبھی ضائع نہیں کرتا۔
حدیث نبوی ﷺ اور اللہ کا شکر
نبی کریم ﷺ نے اللہ کے شکر اور نیکی کی قدر کو بار بار بیان فرمایا۔
آپ ﷺ نے فرمایا:
“جو شخص لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا، وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔”
— (سنن ترمذی)
یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے کہ:
شکر صرف زبان سے نہیں
بلکہ دل اور عمل سے ہوتا ہے
اور اللہ شکر گزار بندے کو پسند فرماتا ہے
الشَّكُور اور بندے کی نیت
اللہ الشکور بندے کے عمل سے پہلے نیت دیکھتا ہے۔
اگر نیت خالص ہو تو:
تھوڑا عمل بھی بڑا بن جاتا ہے
معمولی صدقہ بھی وزن دار ہو جاتا ہے
چھپی ہوئی نیکی بھی قبول ہو جاتی ہے
اسی لیے اسلام میں نیت کو اعمال کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
اللہ الشَّكُور اور معمولی نیکیاں
نبی ﷺ نے فرمایا:
“آگ سے بچو، چاہے کھجور کے ایک ٹکڑے کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔”
— (صحیح بخاری)
یہ حدیث اس بات کی واضح دلیل ہے کہ:
کوئی نیکی چھوٹی نہیں
اللہ الشکور ہر نیکی کی قدر فرماتا ہے
الشَّكُور پر ایمان کے اثرات
جب بندہ دل سے مان لیتا ہے کہ اللہ الشكور ہے تو:
نیکی میں حوصلہ بڑھتا ہے
مایوسی ختم ہو جاتی ہے
چھوٹے اعمال کی بھی اہمیت سمجھ آتی ہے
اخلاص پیدا ہوتا ہے
کیونکہ بندہ جان لیتا ہے کہ اس کا رب قدردان ہے۔
الشَّكُور اور آزمائش
بعض اوقات بندہ نیکی کرتا ہے مگر بدلے میں مشکل دیکھتا ہے۔
یہاں الشكور کا یقین کام آتا ہے:
اگر دنیا میں بدلہ نہ ملا
تو آخرت میں ضرور ملے گا
اور کئی گنا بڑھ کر ملے گا
اللہ کسی نیکی کو ضائع نہیں کرتا۔
الشَّكُور کا ذکر اور دعا
اللہ کے اس نام کا ذکر انسان کو شکر گزار بناتا ہے۔
ایک بامعنی دعا:
يَا شَكُورُ تَقَبَّلْ مِنِّي عَمَلِي وَاجْعَلْنِي مِنَ الشَّاكِرِينَ
ترجمہ:
اے بہت قدر کرنے والے اللہ! میرے عمل کو قبول فرما اور مجھے شکر گزار بندوں میں شامل فرما۔
ہماری عملی زندگی میں الشَّكُور
نیکی کو معمولی نہ سمجھیں
شکر کی عادت اپنائیں
دوسروں کی نیکی کی قدر کریں
مایوسی سے بچیں
یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ ہم اللہ کو الشَّكُور مانتے ہیں۔
خلاصہ
الشَّكُور اللہ تعالیٰ کا وہ عظیم نام ہے جو بندے کو یہ یقین دلاتا ہے کہ اس کی کوئی نیکی ضائع نہیں جائے گی۔
اللہ تھوڑے عمل پر بھی بڑا اجر دیتا ہے، بس نیت خالص ہونی چاہیے۔
حوالہ جات (Qur’an & Hadith References)
سورۃ البقرہ: 158
سورۃ فاطر: 34
سورۃ النساء: 147
صحیح بخاری – کتاب الزکوٰۃ
سنن ترمذی – باب الشکر
تفسیر ابن کثیر (اسماء الحسنیٰ)
ڈسکلیمر
یہ مضمون قرآن مجید، احادیث نبوی ﷺ اور مستند اسلامی تفاسیر کی روشنی میں تحریر کیا گیا ہے۔ روحانی اذکار کو لازم نہ سمجھا جائے، اصل نجات ایمان، اخلاص اور عملِ صالح میں ہے۔

Copyright © 2026 The Muslim Way — All Rights Reserved

© 2026 The Muslim Way — All Rights Reserved