الْمَجِيد — اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام، عظمت، بزرگی اور شانِ جلال
اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں الْمَجِيد ایک ایسا عظیم نام ہے جو اللہ کی شان، عظمت، بزرگی اور جلال کو بیان کرتا ہے۔ یہ نام انسان کے دل میں اللہ کی ہیبت، احترام اور تعظیم پیدا کرتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ جس رب کی عبادت وہ کر رہا ہے، وہ ہر لحاظ سے کامل، بلند مرتبہ اور بے مثال ہے۔ الْمَجِيد کا تصور بندے کو غرور سے بچاتا اور عاجزی سکھاتا ہے۔
عربی زبان میں “مَجْد” کا مطلب ہے:
عظمت، بزرگی، شرف، اعلیٰ مقام اور بلند شان۔
الْمَجِيد کے معنی ہیں:
وہ ذات جو ہر قسم کی عظمت اور بزرگی کی مالک ہو، جس کی شان کبھی کم نہ ہو، اور جس کی تعریف ہر حال میں کامل ہو۔
اللہ تعالیٰ الْمَجِيد ہے کیونکہ اس کی ذات بھی عظیم ہے، اس کی صفات بھی عظیم ہیں، اس کے افعال بھی عظیم ہیں اور اس کے احکام بھی حکمت اور شان سے بھرپور ہیں۔ انسان دنیا میں جس چیز کو عظمت سمجھتا ہے وہ وقتی ہوتی ہے، مگر اللہ کی عظمت ہمیشہ رہنے والی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی شانِ مجید کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو عزت عطا کرتا ہے۔ جو بندہ اللہ کی اطاعت اختیار کرتا ہے، اللہ اس کی عزت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے، چاہے وہ ظاہری طور پر کمزور ہی کیوں نہ ہو۔ اور جو شخص اللہ کی نافرمانی کرتا ہے، اللہ اس کی ظاہری شان کے باوجود اسے ذلیل کر دیتا ہے۔
الْمَجِيد ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اصل بزرگی دنیا کے مال، منصب یا شہرت میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا میں ہے۔ بہت سے لوگ دنیا میں بڑے سمجھے جاتے ہیں، مگر اللہ کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، جبکہ بہت سے گمنام لوگ اللہ کے ہاں نہایت بلند مرتبہ رکھتے ہیں۔
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی شانِ مجید کا بار بار ذکر کرتا ہے تاکہ انسان یہ سمجھے کہ وہ جس رب کو پکار رہا ہے، وہ ہر نقص سے پاک، ہر کمی سے بلند اور ہر تعریف کا حق دار ہے۔ اللہ کی عظمت کا تصور انسان کو گناہوں سے روکتا اور نیکی کی طرف راغب کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی شانِ مجید کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے وعدوں میں سچا ہے۔ وہ جس چیز کا وعدہ کرتا ہے اسے پورا کرتا ہے۔ اس کا وعدہ جنت کا ہو یا مدد کا، معافی کا ہو یا حساب کا، سب حق ہے۔ یہی اس کی شانِ مجید ہے کہ اس کے قول اور فعل میں کوئی تضاد نہیں۔
الْمَجِيد کا تصور بندے کو یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری کوئی معمولی بات نہیں۔ نماز، دعا اور عبادت دراصل ایک عظیم اور باوقار رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ جب بندہ یہ شعور رکھتا ہے تو اس کی عبادت میں خشوع، ادب اور اخلاص پیدا ہو جاتا ہے۔
روحانی اعتبار سے “یَا مَجِيدُ” کا ذکر دل میں اللہ کی عظمت کا احساس پیدا کرتا ہے۔ جو شخص تکبر، خود پسندی یا ریا میں مبتلا ہو، اگر وہ اس نام پر غور کرے تو اس کے دل میں عاجزی آتی ہے اور وہ اپنے رب کے سامنے جھکنا سیکھتا ہے۔
الْمَجِيد ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنی عزت کا معیار اللہ کی رضا کو بنانا چاہیے، نہ کہ لوگوں کی تعریف کو۔ جو بندہ اللہ کی عظمت کو پہچان لیتا ہے، وہ دنیا کی بے ثبات تعریفوں کے پیچھے نہیں بھاگتا۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شانِ مجید ابدی ہے۔ نہ وہ کم ہوتی ہے، نہ بڑھتی ہے، نہ اسے کسی کی محتاجی ہے۔ وہ خود بھی مجید ہے اور جسے چاہے مجد و شرف عطا کر دے۔ یہی ایمان کا حسن اور بندگی کی معراج ہے۔
حوالہ جات (قرآن و حدیث)
قرآن مجید سے حوالہ جات:
ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ
(سورۃ البروج: 15)
ترجمہ: عرش کا مالک، بڑی شان والا۔
إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
(سورۃ ہود: 73)
ترجمہ: بے شک وہ تعریف کے لائق، بڑی شان والا ہے۔
تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
(سورۃ الرحمن: 78)
یہ آیت اللہ کی عظمت اور شان کو واضح کرتی ہے۔
حدیث شریف سے حوالہ جات:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: عظمت میری چادر ہے اور بزرگی میرا لباس ہے۔”
(صحیح مسلم)
ایک اور حدیث میں ہے:
“جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلند کر دیتا ہے۔”
(صحیح مسلم)
یہ احادیث اللہ تعالیٰ کی شان اور بندے کے لیے عاجزی کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔
Disclaimer
یہ مضمون قرآن و سنت کی روشنی میں اصلاحی اور تعلیمی مقصد کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد کسی فقہی یا شرعی فتویٰ دینا نہیں۔ شرعی مسائل میں مستند علماء کرام سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
Copyright
© 2026 — The Muslim Way | Namaz, Wazu, Ahadees & Iاللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں الْمَجِيد ایک ایسا عظیم نام ہے جو اللہ کی شان، عظمت، بزرگی اور جلال کو بیان کرتا ہے۔ یہ نام انسان کے دل میں اللہ کی ہیبت، احترام اور تعظیم پیدا کرتا ہے اور اسے یہ احساس دلاتا ہے کہ جس رب کی عبادت وہ کر رہا ہے، وہ ہر لحاظ سے کامل، بلند مرتبہ اور بے مثال ہے۔ الْمَجِيد کا تصور بندے کو غرور سے بچاتا اور عاجزی سکھاتا ہے۔
عربی زبان میں “مَجْد” کا مطلب ہے:
عظمت، بزرگی، شرف، اعلیٰ مقام اور بلند شان۔
الْمَجِيد کے معنی ہیں:
وہ ذات جو ہر قسم کی عظمت اور بزرگی کی مالک ہو، جس کی شان کبھی کم نہ ہو، اور جس کی تعریف ہر حال میں کامل ہو۔
اللہ تعالیٰ الْمَجِيد ہے کیونکہ اس کی ذات بھی عظیم ہے، اس کی صفات بھی عظیم ہیں، اس کے افعال بھی عظیم ہیں اور اس کے احکام بھی حکمت اور شان سے بھرپور ہیں۔ انسان دنیا میں جس چیز کو عظمت سمجھتا ہے وہ وقتی ہوتی ہے، مگر اللہ کی عظمت ہمیشہ رہنے والی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی شانِ مجید کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کو عزت عطا کرتا ہے۔ جو بندہ اللہ کی اطاعت اختیار کرتا ہے، اللہ اس کی عزت لوگوں کے دلوں میں ڈال دیتا ہے، چاہے وہ ظاہری طور پر کمزور ہی کیوں نہ ہو۔ اور جو شخص اللہ کی نافرمانی کرتا ہے، اللہ اس کی ظاہری شان کے باوجود اسے ذلیل کر دیتا ہے۔
الْمَجِيد ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اصل بزرگی دنیا کے مال، منصب یا شہرت میں نہیں بلکہ اللہ کی رضا میں ہے۔ بہت سے لوگ دنیا میں بڑے سمجھے جاتے ہیں، مگر اللہ کے نزدیک ان کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، جبکہ بہت سے گمنام لوگ اللہ کے ہاں نہایت بلند مرتبہ رکھتے ہیں۔
قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی شانِ مجید کا بار بار ذکر کرتا ہے تاکہ انسان یہ سمجھے کہ وہ جس رب کو پکار رہا ہے، وہ ہر نقص سے پاک، ہر کمی سے بلند اور ہر تعریف کا حق دار ہے۔ اللہ کی عظمت کا تصور انسان کو گناہوں سے روکتا اور نیکی کی طرف راغب کرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی شانِ مجید کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے وعدوں میں سچا ہے۔ وہ جس چیز کا وعدہ کرتا ہے اسے پورا کرتا ہے۔ اس کا وعدہ جنت کا ہو یا مدد کا، معافی کا ہو یا حساب کا، سب حق ہے۔ یہی اس کی شانِ مجید ہے کہ اس کے قول اور فعل میں کوئی تضاد نہیں۔
الْمَجِيد کا تصور بندے کو یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں حاضری کوئی معمولی بات نہیں۔ نماز، دعا اور عبادت دراصل ایک عظیم اور باوقار رب کے سامنے کھڑا ہونا ہے۔ جب بندہ یہ شعور رکھتا ہے تو اس کی عبادت میں خشوع، ادب اور اخلاص پیدا ہو جاتا ہے۔
روحانی اعتبار سے “یَا مَجِيدُ” کا ذکر دل میں اللہ کی عظمت کا احساس پیدا کرتا ہے۔ جو شخص تکبر، خود پسندی یا ریا میں مبتلا ہو، اگر وہ اس نام پر غور کرے تو اس کے دل میں عاجزی آتی ہے اور وہ اپنے رب کے سامنے جھکنا سیکھتا ہے۔
الْمَجِيد ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنی عزت کا معیار اللہ کی رضا کو بنانا چاہیے، نہ کہ لوگوں کی تعریف کو۔ جو بندہ اللہ کی عظمت کو پہچان لیتا ہے، وہ دنیا کی بے ثبات تعریفوں کے پیچھے نہیں بھاگتا۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شانِ مجید ابدی ہے۔ نہ وہ کم ہوتی ہے، نہ بڑھتی ہے، نہ اسے کسی کی محتاجی ہے۔ وہ خود بھی مجید ہے اور جسے چاہے مجد و شرف عطا کر دے۔ یہی ایمان کا حسن اور بندگی کی معراج ہے۔
حوالہ جات (قرآن و حدیث)
قرآن مجید سے حوالہ جات:
ذُو الْعَرْشِ الْمَجِيدُ
(سورۃ البروج: 15)
ترجمہ: عرش کا مالک، بڑی شان والا۔
إِنَّهُ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
(سورۃ ہود: 73)
ترجمہ: بے شک وہ تعریف کے لائق، بڑی شان والا ہے۔
تَبَارَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِي الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
(سورۃ الرحمن: 78)
یہ آیت اللہ کی عظمت اور شان کو واضح کرتی ہے۔
حدیث شریف سے حوالہ جات:
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: عظمت میری چادر ہے اور بزرگی میرا لباس ہے۔”
(صحیح مسلم)
ایک اور حدیث میں ہے:
“جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے، اللہ اسے بلند کر دیتا ہے۔”
(صحیح مسلم)
یہ احادیث اللہ تعالیٰ کی شان اور بندے کے لیے عاجزی کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں۔
Disclaimer
یہ مضمون قرآن و سنت کی روشنی میں اصلاحی اور تعلیمی مقصد کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد کسی فقہی یا شرعی فتویٰ دینا نہیں۔ شرعی مسائل میں مستند علماء کرام سے رجوع کرنا ضروری ہے۔
Copyright
© 2026 — The Muslim Way | Namaz, Wazu, Ahadees & Islamic Guidance
All rights reserved.slamic Guidance
All rights reserved.
🔗 مزید اسلامی رہنمائی اور مستند اسلامی مواد
Allah Pak ke Asma ul Husna, Qurani Duain, Namaz, Wazu aur Ahadees Mubarakah parhne ke liye hamari official website visit karein:
👉 https://www.themuslimwayoffiicial.com

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔