الْبَصِير – اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام، ہر ظاہر و باطن کو دیکھنے والا
اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں الْبَصِير ایک نہایت عظیم اور ایمان کو مضبوط کرنے والا نام ہے۔ یہ نام انسان کو اس حقیقت کا احساس دلاتا ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی لمحہ، کوئی عمل، کوئی نیت اور کوئی خیال اللہ کی نظر سے اوجھل نہیں۔
الْبَصِير کا مطلب ہے ہر چیز کو دیکھنے والا، چاہے وہ کھلے عام ہو یا پوشیدہ، ظاہر ہو یا دل کے اندر چھپی ہوئی نیت۔
انسان کی نظر محدود ہے۔ وہ صرف وہی دیکھ سکتا ہے جو اس کے سامنے ہو اور وہ بھی دھوکے میں آ سکتا ہے۔ لیکن اللہ کی بصیرت کامل ہے، اس میں نہ کوئی کمی ہے، نہ حد، نہ دھوکا۔ اللہ تعالیٰ ہر شے کو اس کی حقیقت کے ساتھ دیکھتا ہے۔
الْبَصِير کے لغوی اور اصطلاحی معنی
عربی زبان میں لفظ بصر دیکھنے، مشاہدہ کرنے اور کسی چیز کی حقیقت کو پہچاننے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
الْبَصِير کا مطلب ہے:
ہر ظاہر کو دیکھنے والا
ہر پوشیدہ کو جاننے والا
نیتوں، ارادوں اور دلوں کے حال کو دیکھنے والا
ماضی، حال اور مستقبل کو ایک ساتھ دیکھنے والا
اللہ تعالیٰ کا دیکھنا انسان کے دیکھنے جیسا نہیں۔ وہ آنکھ، روشنی یا فاصلے کا محتاج نہیں۔
قرآنِ مجید میں اسمِ البصیر
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں بار بار اپنے اسمائے صفات کے ساتھ الْبَصِير کا ذکر فرماتا ہے:
﴿إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا﴾
(سورۃ النساء: 134)
ترجمہ:
بے شک اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ انسان جو کچھ کرتا ہے، چاہے وہ کسی کو نظر آئے یا نہ آئے، اللہ اسے دیکھ رہا ہوتا ہے۔
الْبَصِير اور انسان کے اعمال
جب انسان اس بات پر یقین رکھ لیتا ہے کہ اللہ ہر وقت اسے دیکھ رہا ہے تو اس کی زندگی میں ایک بڑا انقلاب آ جاتا ہے۔ وہ:
گناہ کرتے وقت رک جاتا ہے
نیکی چھپ کر بھی کرتا ہے
دکھاوے سے بچتا ہے
نیت کو صاف رکھنے کی کوشش کرتا ہے
کیونکہ وہ جانتا ہے کہ اللہ صرف عمل نہیں بلکہ عمل کے پیچھے چھپی نیت کو بھی دیکھ رہا ہے۔
حدیثِ نبوی ﷺ اور اللہ کی بصیرت
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
“اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اور تمہارے مال کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں اور اعمال کو دیکھتا ہے۔”
(صحیح مسلم)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ اللہ کی نظر ظاہری شکل و صورت پر نہیں بلکہ دل کی کیفیت اور عمل کے اخلاص پر ہوتی ہے۔
الْبَصِير اور نیت کی اہمیت
بعض اوقات انسان اچھا کام کرتا ہے لیکن نیت غلط ہوتی ہے، اور کبھی چھوٹا سا عمل خالص نیت کی وجہ سے بہت بڑا بن جاتا ہے۔
اللہ البصیر:
نیت کی گہرائی کو دیکھتا ہے
دکھاوے کو پہچانتا ہے
اخلاص کو قبول فرماتا ہے
اسی لیے اسلام میں نیت کو اعمال کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔
الْبَصِير اور مظلوم کی حالت
یہ نام مظلوموں کے لیے بہت بڑی تسلی ہے۔ جب کوئی انسان ظلم کرتا ہے اور دنیا خاموش رہتی ہے، تب بھی:
اللہ ظلم کو دیکھ رہا ہوتا ہے
آنسوؤں کو دیکھ رہا ہوتا ہے
صبر کو دیکھ رہا ہوتا ہے
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا يَعْمَلُونَ﴾
(سورۃ البقرہ: 237)
یعنی اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے، کوئی چیز اس سے چھپی نہیں۔
الْبَصِير اور روزمرہ زندگی
اگر انسان روزمرہ زندگی میں یہ سوچ لے کہ:
“اللہ مجھے دیکھ رہا ہے”
تو:
زبان جھوٹ سے بچ جاتی ہے
ہاتھ ظلم سے رک جاتا ہے
آنکھ حرام سے جھک جاتی ہے
دل کینہ سے پاک ہونے لگتا ہے
یہی شعور انسان کو تقویٰ کی طرف لے جاتا ہے۔
الْبَصِير کا روحانی اثر
اللہ البصیر پر یقین رکھنے سے:
دل میں اللہ کا خوف پیدا ہوتا ہے
اخلاص مضبوط ہوتا ہے
تنہائی میں بھی گناہ سے بچاؤ ہوتا ہے
عبادت میں خشوع آتا ہے
یہی وہ کیفیت ہے جسے اسلام میں احسان کہا گیا ہے، یعنی اللہ کی عبادت اس طرح کرنا گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم از کم یہ یقین ہو کہ وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔
الْبَصِير کا آسان ذکر
اگر کوئی شخص اپنی نیتوں کی اصلاح، اخلاص اور دل کی پاکیزگی چاہتا ہو تو:
روزانہ کسی بھی وقت
100 مرتبہ
یَا بَصِيرُ
پڑھے اور اللہ سے دل کی اصلاح کی دعا کرے۔
یہ ذکر انسان کو باطن کی اصلاح کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
خلاصہ
الْبَصِير اللہ تعالیٰ کا وہ بابرکت نام ہے جو انسان کو یاد دلاتا ہے کہ اس کی زندگی کا کوئی پہلو اللہ کی نظر سے چھپا نہیں۔
یہ نام مومن کو محتاط، بااخلاق اور مخلص بناتا ہے۔
جو شخص اللہ کو البصیر مان لیتا ہے، وہ گناہ میں دلیر اور نیکی میں سست نہیں رہتا۔
حوالہ جات
قرآن مجید: سورۃ النساء، آیت 134
قرآن مجید: سورۃ البقرہ، آیت 237
صحیح مسلم: کتاب البر والصلۃ
تفسیر ابن کثیر
ڈسکلیمر
یہ مضمون صرف اسلامی معلومات اور دینی رہنمائی کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ کسی بھی روحانی عمل یا ذکر کو لازم یا ضمانت نہ سمجھا جائے، اصل نجات ایمان، اخلاص اور عملِ صالح میں ہے۔
Copyright © 2026 The Muslim Way — All Rights Reserved
© 2026 The Muslim Way — All Rights Reserved

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔