الْجَلِيل — اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام | جلال، عظمت اور شانِ الٰہی کی مکمل وضاحت
الْجَلِيل اللہ تعالیٰ کا عظیم نام ہے جو اس کی شان، عظمت اور جلال کو ظاہر کرتا ہے۔ اس مضمون میں اسمِ الْجَلِيل کے معنی، فضیلت اور قرآن و حدیث کے حوالہ
الْجَلِيل اللہ تعالیٰ کے عظیم اور جلالی اسمائے حسنیٰ میں سے ایک نہایت باوقار نام ہے۔
یہ نام اللہ تعالیٰ کی عظمت، شان، بزرگی، ہیبت اور جلال کو ظاہر کرتا ہے۔ اللہ وہ ذات ہے جس کا جلال ہر مخلوق پر غالب ہے اور جس کی عظمت کے سامنے عقلیں عاجز اور دل جھک جاتے ہیں۔
الْجَلِيل کے لغوی اور اصطلاحی معنی
عربی لفظ جلال کے معنی ہیں:
عظمت
بزرگی
شان و وقار
رعب اور ہیبت
الْجَلِيل کے معنی ہیں:
بے حد عظمت والا
کامل شان و شوکت والا
وہ ذات جس کا جلال ہر چیز پر حاوی ہو
یعنی اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات اور افعال میں کامل جلال والا ہے، اس جیسی عظمت کسی اور میں نہیں۔
قرآنِ مجید میں جلالِ الٰہی
اگرچہ لفظ الْجَلِيل صراحتاً قرآن میں بطور اسم نہیں آیا، مگر اللہ تعالیٰ کی صفتِ جلال متعدد مقامات پر بیان ہوئی ہے:
وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
(سورۃ الرحمن: 27)
ترجمہ:
اور باقی رہنے والی ہے تیرے رب کی ذات جو جلال اور اکرام والی ہے۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات جلال اور عزت کی کامل مالک ہے۔
الْجَلِيل اور اللہ کی عظمت
اللہ تعالیٰ کا جلال:
اس کی قدرت میں ظاہر ہوتا ہے
اس کے فیصلوں میں جھلکتا ہے
اس کے عذاب میں بھی ہے
اور اس کی رحمت میں بھی وقار کے ساتھ موجود ہے
اللہ الْجَلِيل ہے، اس لیے:
کوئی اس کے حکم کو رد نہیں کر سکتا
کوئی اس کی مشیت سے باہر نہیں
کوئی اس کی عظمت کا احاطہ نہیں کر سکتا
الْجَلِيل اور بندے کا رویہ
جب بندہ یہ مان لیتا ہے کہ:
میرا رب جلیل ہے
اس کی عظمت کامل ہے
تو اس کے دل میں:
عاجزی پیدا ہوتی ہے
غرور ٹوٹ جاتا ہے
گناہوں سے حیا آتی ہے
عبادت میں خشوع بڑھ جاتا ہے
جلالِ الٰہی کا شعور بندے کو سیدھا کر دیتا ہے۔
الْجَلِيل اور خوف و امید کا توازن
اسلام میں بندے کی زندگی خوف اور امید کے درمیان ہونی چاہیے۔
الْجَلِيل بندے کو خوف سکھاتا ہے
الرَّحِيم بندے کو امید دیتا ہے
جو شخص صرف رحمت دیکھے اور جلال کو بھول جائے وہ بے خوف ہو جاتا ہے،
اور جو صرف جلال دیکھے اور رحمت کو بھول جائے وہ مایوس ہو جاتا ہے۔
اسلام ہمیں دونوں کا توازن سکھاتا ہے۔
اسمِ الْجَلِيل کا ذکر اور اس کی فضیلت
اہلِ علم کے مطابق:
“یا جَلِيل” کا ذکر
دل میں اللہ کی عظمت بٹھاتا ہے
نفس کی سرکشی توڑ دیتا ہے
عبادت میں وقار پیدا کرتا ہے
خاص طور پر نماز میں جب بندہ یہ سمجھے کہ وہ الْجَلِيل کے سامنے کھڑا ہے، تو نماز محض عمل نہیں بلکہ حاضری بن جاتی ہے۔
الْجَلِيل اور تکبر کا علاج
انسان کا سب سے بڑا مرض تکبر ہے۔
اللہ کا اسم الْجَلِيل انسان کو یاد دلاتا ہے کہ:
اصل عظمت صرف اللہ کے لیے ہے
انسان کمزور اور محتاج ہے
علم، طاقت اور دولت سب عارضی ہیں
جو شخص اللہ کے جلال کو پہچان لیتا ہے، وہ خود کو بڑا سمجھنا چھوڑ دیتا ہے۔
عملی زندگی میں الْجَلِيل کا اثر
اسمِ الْجَلِيل ہمیں سکھاتا ہے کہ:
بات کرتے وقت وقار اختیار کریں
فیصلے میں انصاف کریں
عبادت میں سنجیدگی رکھیں
گناہ کرتے وقت اللہ کے جلال کو یاد رکھیں
یہ نام انسان کی پوری شخصیت کو باوقار اور متوازن بنا دیتا ہے۔
یا اللہ! اے الْجَلِيل
ہمیں اپنی عظمت کا سچا شعور عطا فرما
ہمارے دلوں سے تکبر نکال دے
اور ہمیں اپنی بارگاہ میں عاجزی نصیب فرما۔
حوالہ جات (Qur’an & Hadith References)
سورۃ الرحمن: 27
سورۃ الحشر: 23
سورۃ الطور: 28
تفسیر ابن کثیر (اسماء الحسنیٰ)
شرح اسماء اللہ الحسنیٰ — امام غزالیؒ
ڈسکلیمر
یہ مضمون قرآنِ مجید، احادیثِ نبوی ﷺ اور مستند اسلامی تفاسیر کی روشنی میں تحریر کیا گیا ہے۔
کسی فقہی یا مسلکی اختلاف کی صورت میں مستند علماءِ کرام سے رجوع کرنا بہتر ہے۔
Copyright
Copyright © 2026 The Muslim Way — All Rights Reserved
🔗 مزید اسلامی رہنمائی اور مستند اسلامی مواد
Allah Pak ke Asma ul Husna, Qurani Duain, Namaz, Wazu aur Ahadees Mubarakah parhne ke liye hamari official website visit karein:
👉 https://www.themuslimwayoffiicial.com

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔