المُقِيت — اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام | معنی، فضیلت، قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی

المُقِيت اللہ تعالیٰ کا عظیم نام ہے جو رزق، طاقت اور بقا کی ضمانت ہے۔ اس مضمون میں اسمِ المُقِيت کے معنی، فضیلت، قرآن و حدیث کے حوالہ جات اور عملی زند


 المُقِيت اللہ تعالیٰ کے عظیم اور بابرکت اسمائے حسنیٰ میں سے ایک ہے۔

یہ نام اللہ کی اس صفت کو ظاہر کرتا ہے کہ وہ ہر مخلوق کو رزق پہنچانے والا، سنبھالنے والا، طاقت دینے والا اور ہر چیز پر کامل نگہبان ہے۔ انسان ہو یا جانور، زمین ہو یا آسمان، جسمانی غذا ہو یا روحانی قوت، ہر شے کا قیام اللہ المُقِيت کے اختیار میں ہے۔

المُقِيت کے لغوی اور اصطلاحی معنی

عربی زبان میں “قوت” اس غذا یا طاقت کو کہتے ہیں جس سے زندگی برقرار رہے۔

المُقِيت کے معنی ہیں:

رزق پہنچانے والا

غذا فراہم کرنے والا

طاقت دینے والا

ہر چیز کو سنبھال کر رکھنے والا

مخلوق کی ضروریات پوری کرنے والا

یعنی اللہ تعالیٰ نہ صرف رزق دیتا ہے بلکہ اسی رزق کو نفع بخش بھی بناتا ہے۔

قرآنِ مجید میں اسمِ المُقِيت

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُّقِيتًا

(سورۃ النساء: 85)

ترجمہ:

بے شک اللہ ہر چیز پر پوری طرح قدرت رکھنے والا (اور اسے سنبھالنے والا) ہے۔

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ ہر ذرے کی بقا، ہر سانس کی طاقت اور ہر دل کی دھڑکن اللہ المُقِيت کے اختیار میں ہے۔

رزق صرف کھانا نہیں

اکثر لوگ رزق کو صرف روٹی، پانی یا مال سمجھتے ہیں، مگر حقیقت میں رزق کی کئی صورتیں ہیں:

جسمانی صحت

علم اور فہم

صبر اور حوصلہ

ایمان کی طاقت

دل کا سکون

یہ سب اللہ المُقِيت کی عطا ہیں۔ اگر رزق صرف مال ہوتا تو بہت سے امیر لوگ سکون سے محروم نہ ہوتے۔

اسمِ المُقِيت اور انسان کی زندگی

جب بندہ یہ یقین کر لیتا ہے کہ:

میرا رزق کسی انسان کے ہاتھ میں نہیں

میرا سہارا کسی نوکری یا ذریعہ پر نہیں

میری طاقت صرف اللہ سے ہے

تو اس کا دل لالچ، خوف اور حسد سے پاک ہو جاتا ہے۔

المُقِيت پر یقین انسان کو:

قناعت سکھاتا ہے

حرام سے بچاتا ہے

شکر گزار بناتا ہے

المُقِيت کا ذکر کرنے کی فضیلت

اسمِ المُقِيت کا ورد کرنے سے:

رزق میں برکت آتی ہے

دل مضبوط ہوتا ہے

خوف اور بے چینی کم ہوتی ہے

اللہ پر توکل بڑھتا ہے

بزرگانِ دین فرماتے ہیں کہ جو شخص فجر کے بعد یا مُقِيت کا ورد کرے، اللہ اس کے دل اور جسم کو طاقت عطا فرماتا ہے۔

اسمِ المُقِيت اور روحانی طاقت

اللہ تعالیٰ صرف جسم کو نہیں بلکہ روح کو بھی قوت دیتا ہے۔

ایمان کی مضبوطی، عبادت میں لذت، گناہوں سے نفرت — یہ سب روحانی رزق ہیں۔

جو بندہ یہ سمجھ لے کہ:

میری روح کی غذا بھی اللہ دیتا ہے

وہ کبھی گناہوں کو اپنی زندگی کی غذا نہیں بناتا۔

عملی زندگی میں المُقِيت کو اپنانا

اسمِ المُقِيت ہمیں سکھاتا ہے کہ:

رزق حلال پر قناعت کریں

کم پر شکر ادا کریں

دوسروں کے رزق سے حسد نہ کریں

کمزوروں کو کھانا اور سہارا دیں

جو بندہ مخلوق کو رزق پہنچانے کا ذریعہ بنتا ہے، اللہ اس کے رزق کا خود ذمہ لے لیتا ہے۔

یا اللہ! اے المُقِيت  

میرے جسم، میرے دل اور میری روح کو ایسی قوت عطا فرما  

جو مجھے تیری اطاعت میں مضبوط بنا دے  

اور مجھے کسی کے سامنے محتاج نہ ک


حوالہ جات (Qur’an & Hadith References)

سورۃ النساء: 85

سورۃ ہود: 6

سورۃ الذاریات: 58

سنن ترمذی — اسمائے حسنیٰ کی فضیلت

تفسیر ابن کثیر (اسماء الحسنیٰ)

ڈسکلیمر

یہ مضمون قرآنِ مجید، احادیثِ نبوی ﷺ اور مستند اسلامی تفاسیر کی روشنی میں تحریر کیا گیا ہے۔

کسی فقہی یا مسلکی اختلاف کی صورت میں مستند علماءِ کرام سے رجوع کرنا بہتر ہے۔

Copyright

Copyright © 2026 The Muslim Way — All Rights Reserved

🔗 مزید اسلامی رہنمائی اور مستند اسلامی مواد

Allah Pak ke Asma ul Husna, Qurani Duain, Namaz, Wazu aur Ahadees Mubarakah parhne ke liye hamari official website visit karein:

👉 https://www.themuslimwayofficiial.com

رے۔