الْوَاسِع — اللہ تعالیٰ کی وسعت، رحمت اور علم کا بے پایاں وصف

الْوَاسِع اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے جو اس کی بے پایاں رحمت، علم اور رزق کی وسعت کو بیان کرتا ہے۔ اس مضمون میں الْوَاسِع کا مفہوم، فضیلت، قرآنی آیات


 اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں الْوَاسِع ایک ایسا عظیم نام ہے جو انسان کو اللہ کی بے حد و حساب رحمت، علم، قدرت اور عطا کی وسعت کا احساس دلاتا ہے۔ یہ نام انسان کے دل سے تنگی، مایوسی اور خوف کو نکال کر امید، یقین اور توکل پیدا کرتا ہے۔ الْوَاسِع وہ ذات ہے جس کی رحمت محدود نہیں، جس کا علم ہر شے کو محیط ہے، اور جس کی عطا کسی حساب کتاب کی محتاج نہیں۔

عربی زبان میں “وسع” کا مطلب ہے کشادگی، فراخی، وسعت۔ الْوَاسِع کے معنی ہیں: وہ ذات جس کی وسعت کی کوئی حد نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی ذات، صفات، علم، رحمت، رزق اور مغفرت میں نہایت وسیع ہے۔ انسان محدود ہے، اس کی سوچ محدود ہے، مگر اللہ تعالیٰ کی وسعت انسان کے وہم و گمان سے بھی بالاتر ہے۔

جب انسان تنگی میں مبتلا ہوتا ہے، رزق میں کمی محسوس کرتا ہے، یا گناہوں کی وجہ سے مایوس ہو جاتا ہے، تو الْوَاسِع کا تصور اسے سہارا دیتا ہے۔ اللہ کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ بڑے سے بڑے گناہ کو بھی معاف فرما سکتا ہے اگر بندہ سچی توبہ کر لے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید میں بار بار اللہ کی وسعت کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ انسان ناامید نہ ہو۔

اللہ تعالیٰ کا علم بھی الْوَاسِع ہے۔ وہ ماضی، حال اور مستقبل سب کو جانتا ہے۔ انسان کے دل میں چھپی نیت، آنکھ کی خیانت اور دل کے راز بھی اللہ کے علم سے باہر نہیں۔ اس حقیقت کا شعور انسان کو گناہوں سے روکتا اور اخلاص کی طرف مائل کرتا ہے۔

الْوَاسِع کا ایک پہلو رزق سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اللہ جسے چاہے کشادگی عطا کرے اور جسے چاہے آزمائش میں ڈالے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ تنگی اللہ کی ناراضی ہے۔ بعض اوقات تنگی بھی اللہ کی رحمت ہوتی ہے تاکہ بندہ اس کی طرف پلٹ آئے۔

یہ نام ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ اللہ کی شریعت تنگ نہیں بلکہ آسان ہے۔ اسلام دینِ وسعت ہے، سختی کا نہیں۔ جہاں انسان واقعی مجبور ہو، وہاں شریعت میں رخصت موجود ہے۔ یہ بھی الْوَاسِع کی صفت کا عملی اظہار ہے۔

روحانی اعتبار سے “یَا وَاسِعُ” کا ورد دل کی گھٹن کو دور کرتا ہے۔ جو شخص دل کی تنگی، وسوسوں یا خوف میں مبتلا ہو، اگر وہ اخلاص کے ساتھ اس نام کو پکارتا ہے تو اللہ اس کے دل میں سکون اور وسعت پیدا فرما دیتا ہے۔

اللہ کی وسعت صرف دنیا تک محدود نہیں بلکہ آخرت میں بھی اس کی رحمت وسیع ہے۔ جنت کی نعمتیں، درجات اور راحتیں سب الْوَاسِع کی عطا ہیں۔ اگر انسان اللہ کی وسعت پر یقین رکھے تو وہ کبھی مایوس نہیں ہوتا، چاہے حالات کتنے ہی سخت کیوں نہ ہوں۔

یہی وجہ ہے کہ مومن کی پہچان امید ہے۔ وہ جانتا ہے کہ میرا رب الْوَاسِع ہے، اس کی رحمت میرے گناہوں سے بڑی ہے، اس کا علم میری کمزوریوں سے آگاہ ہے، اور اس کی عطا کسی حد میں قید نہیں۔

حوالہ جات (قرآن و حدیث)

قرآن مجید سے حوالہ جات:

وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ

(سورۃ البقرہ: 115)

ترجمہ: اور اللہ بڑی وسعت والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔

إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ

(سورۃ النجم: 32)

ترجمہ: بے شک تمہارا رب بہت وسیع مغفرت والا ہے۔

وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ

(سورۃ البقرہ: 143)

یہ آیت اللہ کی رحمت اور وسعت پر دلالت کرتی ہے۔

حدیث شریف سے حوالہ جات:

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

“اللہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔”

(صحیح بخاری)

ایک اور حدیث میں ہے:

“اگر تمہارے گناہ آسمان تک پہنچ جائیں پھر بھی تم اللہ سے مغفرت مانگو تو وہ معاف فرما دے گا۔”

(سنن ترمذی)

یہ احادیث اللہ تعالیٰ کی بے پایاں وسعتِ رحمت کو واضح کرتی ہیں۔

Disclaimer

یہ مضمون قرآن و سنت کی روشنی میں اصلاحی اور تعلیمی مقصد کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد کسی فقہی مسئلے میں حتمی فتویٰ دینا نہیں۔ شرعی مسائل میں مستند علماء سے رجوع کرنا ضروری ہے۔

Copyright

© 2026 — The Muslim Way | Namaz, Wazu, Ahadees & Islamic Guidance

All rights reserved.


🔗 مزید اسلامی رہنمائی اور مستند اسلامی مواد

Allah Pak ke Asma ul Husna, Qurani Duain, Namaz, Wazu aur Ahadees Mubarakah parhne ke liye hamari official website visit karein:

👉 https://www.themuslimwayoffiicial.com