السَّمِيع – اللہ تعالیٰ کا سب کچھ سننے والا نام | قرآن و حدیث کی روشنی میں مکمل رہنمائی

السَّمِيع اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے جس کا مطلب سب کچھ سننے والا ہے۔ اس مضمون میں السَّمِيع کے معنی، قرآن و حدیث کے حوالہ جات، دعا کی قبولیت اور اللہ


 السَّمِيع کا تعارف

اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں السَّمِيع نہایت گہرے معنی اور ایمان کو مضبوط کرنے والا نام ہے۔

السَّمِيع کا مطلب ہے: ہر آواز سننے والا، ہر پکار کو سننے والا، ظاہر و باطن کی ہر بات سننے والا۔

یہ نام ہمیں یقین دلاتا ہے کہ:

کوئی دعا ضائع نہیں جاتی

کوئی آہ بھی اللہ سے چھپی نہیں

کوئی بات، خواہ دل میں ہو یا زبان پر، اللہ سنتا ہے

السَّمِيع کے لغوی اور اصطلاحی معنی

لغوی معنی:

سَمْع سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں سننا، سماعت کرنا۔

اصطلاحی معنی:

وہ ذات جو:

بغیر کان کے سنتی ہے

قریب اور دور سب کی آواز سنتی ہے

آہستہ، بلند، چھپی ہوئی حتیٰ کہ دل کی بات بھی سنتی ہے

ایک وقت میں سب کی دعائیں سنتی ہے

قرآنِ مجید میں اسم السَّمِيع

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے بار بار اپنے آپ کو السَّمِيع فرمایا ہے:

"إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ"

(سورۃ النساء: 134)

ترجمہ:

بے شک اللہ خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ:

اللہ صرف دیکھتا ہی نہیں

بلکہ ہر بات کو سنتا بھی ہے

اس کی سماعت کسی حد میں محدود نہیں

اللہ سب کی دعائیں کیسے سنتا ہے؟

یہ سوال اکثر دل میں آتا ہے کہ:

لاکھوں لوگ ایک ساتھ دعا کریں تو اللہ کیسے سنتا ہے؟

اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ:

اللہ انسان کی طرح محدود نہیں

اس کی سماعت مخلوق جیسی نہیں

وہ سب کی آوازیں ایک ساتھ سنتا ہے

کسی کی دعا دوسری دعا میں رکاوٹ نہیں بنتی

حضرت خولہؓ کا واقعہ – السَّمِيع کی زندہ مثال

قرآنِ مجید میں ایک عظیم مثال موجود ہے:

حضرت خولہؓ نبی ﷺ کے پاس اپنے شوہر کی شکایت لے کر آئیں۔

وہ آہستہ آواز میں بات کر رہی تھیں، مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ"

(سورۃ المجادلہ: 1)

ترجمہ:

اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو آپ سے جھگڑ رہی تھی۔

یہ آیت اعلان ہے کہ:

اللہ آہستہ آواز بھی سنتا ہے

مظلوم کی فریاد کبھی ضائع نہیں ہوتی

حدیثِ نبوی ﷺ اور اللہ کی سماعت

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

"تم اللہ کو پکارو اس یقین کے ساتھ کہ وہ سنتا ہے"

(ترمذی)

یہ حدیث ہمیں سکھاتی ہے:

دعا صرف رسم نہیں

بلکہ اللہ سے براہِ راست گفتگو ہے

اور اللہ پوری توجہ سے سنتا ہے

السَّمِيع اور گناہوں کا تصور

السَّمِيع کا نام ہمیں صرف دعا ہی نہیں سکھاتا بلکہ احتیاط بھی سکھاتا ہے:

غیبت اللہ سنتا ہے

جھوٹ اللہ سنتا ہے

بدزبانی اللہ سنتا ہے

دل کی نیت اللہ سنتا ہے

اگر انسان یہ یقین رکھ لے کہ:

میری ہر بات اللہ سن رہا ہے

تو زبان خود بخود سنبھل جاتی ہے۔

السَّمِيع اور مومن کا دل

مومن کے لیے السَّمِيع ایک عظیم تسلی ہے:

تنہائی میں بھی اللہ سنتا ہے

آنسوؤں کی آواز بھی سنتا ہے

وہ فریاد جو لفظوں میں نہ ڈھلے، وہ بھی سنتا ہے

اسی لیے قرآن میں آیا:

"اُدْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ"

(سورۃ غافر: 60)

اسم السَّمِيع کا ورد

اگر کوئی شخص:

دل کی گھبراہٹ میں ہو

دعا قبول نہ ہونے کا وسوسہ ہو

اللہ سے قرب چاہتا ہو

تو نیت کے ساتھ: "یَا سَمِيعُ"

کثرت سے پڑھے، خاص طور پر دعا سے پہلے۔

یہ ورد:

یقین کو مضبوط کرتا ہے

دعا میں دل لگاتا ہے

مایوسی ختم کرتا ہے

السَّمِيع ہمیں کیا سکھاتا ہے؟

اللہ سے کبھی بدظن نہ ہوں

دعا میں جلدی نہ کریں

زبان کی حفاظت کریں

مظلوم کی آواز کو سنیں کیونکہ اللہ سنتا ہے

کیونکہ:

جو رب سنتا ہے

وہ نظر انداز نہیں کرتا

حوالہ جات (References)

قرآن مجید – سورۃ النساء: 134

قرآن مجید – سورۃ المجادلہ: 1

قرآن مجید – سورۃ غافر: 60

سنن ترمذی – باب الدعاء

تفسیر ابن کثیر

ڈسکلیمر

یہ مضمون قرآن و حدیث اور مستند تفاسیر کی روشنی میں تیار کیا گیا ہے۔ اذکار کو علاج یا ضمانت نہ سمجھا جائے بلکہ اللہ پر ایمان اور عملِ صالح اصل بنیاد ہے۔

Copyright © 2026 The Muslim Way — All Rights Reserved