الْبَاعِث — اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام، دوبارہ زندہ کرنے والا رب اور آخرت کی یاد دہانی
الْبَاعِث اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے جو قیامت کے دن مردوں کو دوبارہ زندہ کرنے اور دلوں کو بیدار کرنے کی صفت بیان کرتا ہے۔ اس مضمون میں الْبَاعِث کے م
اللہ تعالیٰ کے اسمائے حسنیٰ میں الْبَاعِث ایک نہایت اہم اور ایمان کو جھنجھوڑ دینے والا نام ہے۔ یہ نام انسان کو غفلت سے نکال کر آخرت کی حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے، اصل زندگی اس دن شروع ہوگی جب اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ الْبَاعِث وہ ذات ہے جو مردوں کو قبروں سے اٹھانے والی ہے اور ہر انسان کو اس کے اعمال کے حساب کے لیے اللہ کے حضور پیش کرے گی۔
عربی زبان میں “بعث” کا مطلب ہے: اٹھانا، زندہ کرنا، بھیجنا، حرکت دینا۔
الْبَاعِث کے معنی ہیں:
وہ ذات جو مردوں کو دوبارہ زندہ کرے، سوئی ہوئی روحوں کو جگائے، اور انسانوں کو نئی زندگی عطا کرے۔
اللہ تعالیٰ الْبَاعِث ہے کیونکہ وہ قیامت کے دن تمام مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا، چاہے وہ مٹی میں مل چکے ہوں، جل چکے ہوں یا صدیوں سے قبروں میں ہوں۔ یہ عقیدہ ایمان بالآخرت کی بنیاد ہے، اور جو شخص اس پر یقین رکھتا ہے وہ اپنی زندگی کو ذمہ داری کے ساتھ گزارتا ہے۔
الْبَاعِث کا تصور انسان کو یہ یاد دلاتا ہے کہ موت اختتام نہیں بلکہ ایک وقفہ ہے۔ اصل فیصلہ اس دن ہوگا جب اللہ تعالیٰ ہمیں دوبارہ زندہ کرے گا۔ اس دن کوئی سفارش بغیر اللہ کی اجازت کے کام نہیں آئے گی اور ہر انسان کو اپنے اعمال کا خود جواب دینا ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پہلی بار پیدا کیا، اور جو ذات پہلی بار پیدا کرنے پر قادر ہے وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بدرجہ اولیٰ قادر ہے۔ یہی دلیل قرآن مجید میں بار بار دی گئی ہے تاکہ انسان شک اور انکار میں نہ پڑے۔
الْبَاعِث صرف قیامت کے دن مردوں کو اٹھانے والا ہی نہیں بلکہ دلوں کو بھی زندہ کرنے والا ہے۔ بہت سے دل غفلت، گناہ اور دنیا کی محبت میں مردہ ہو جاتے ہیں، پھر اللہ تعالیٰ کسی آزمائش، نصیحت یا ہدایت کے ذریعے انہیں بیدار کر دیتا ہے۔ یہ بھی الْبَاعِث کی صفت کا ایک عملی مظہر ہے۔
یہ نام انسان کو خود احتسابی سکھاتا ہے۔ جو شخص جانتا ہے کہ ایک دن اسے دوبارہ زندہ ہو کر جواب دینا ہے، وہ ظلم، خیانت اور گناہ سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایمان بالآخرت انسان کے کردار کو سنوارتا ہے۔
روحانی طور پر “یَا بَاعِثُ” کا ورد دل میں آخرت کی فکر، تقویٰ اور نیکی کی رغبت پیدا کرتا ہے۔ خاص طور پر فجر کے بعد یا تنہائی میں اس نام پر غور کرنا انسان کو دنیا کی حقیقت سمجھا دیتا ہے۔
الْبَاعِث ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ دنیا میں کوئی عمل ضائع نہیں جاتا۔ ہر نیکی محفوظ ہے اور ہر برائی لکھی جا رہی ہے۔ اگر دنیا میں انصاف نہ بھی ملے تو آخرت میں ضرور ملے گا، کیونکہ الْبَاعِث سب کو دوبارہ زندہ کرے گا۔
یہ نام مومن کے لیے خوف بھی ہے اور امید بھی۔ خوف اس بات کا کہ حساب ہوگا، اور امید اس بات کی کہ اللہ عادل بھی ہے اور رحم کرنے والا بھی۔ یہی توازن ایمان کی خوبصورتی ہے۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ جو شخص الْبَاعِث پر سچا ایمان رکھتا ہے وہ دنیا کو آخرت کی کھیتی سمجھتا ہے اور اپنی زندگی کو مقصد کے ساتھ گزارتا ہے۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
حوالہ جات (قرآن و حدیث)
قرآن مجید سے حوالہ جات:
ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَٰلِكَ لَمَيِّتُونَ • ثُمَّ إِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تُبْعَثُونَ
(سورۃ المؤمنون: 15–16)
ترجمہ: پھر تم مر جاؤ گے، پھر قیامت کے دن دوبارہ اٹھائے جاؤ گے۔
وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَن فِي الْقُبُورِ
(سورۃ الحج: 7)
ترجمہ: اور بے شک اللہ قبروں میں موجود سب کو اٹھائے گا۔
قُلْ يُحْيِيهَا الَّذِي أَنشَأَهَا أَوَّلَ مَرَّةٍ
(سورۃ یٰس: 79)
ترجمہ: کہہ دو کہ وہی ذات اسے زندہ کرے گی جس نے پہلی بار پیدا کیا تھا۔
حدیث شریف سے حوالہ جات:
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“قیامت کے دن لوگ ننگے پاؤں، ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے اٹھائے جائیں گے۔”
(صحیح بخاری)
ایک اور حدیث میں ہے:
“عقل مند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے۔”
(سنن ترمذی)
Disclaimer
یہ مضمون قرآن و سنت کی روشنی میں تعلیمی اور اصلاحی مقصد کے لیے تحریر کیا گیا ہے۔ کسی فقہی یا شرعی مسئلے میں حتمی رہنمائی کے لیے مستند علماء کرام سے رجوع کریں۔
Copyright
© 2026 — The Muslim Way | Namaz, Wazu, Ahadees & Islamic Guidance
All rights reserved.
SEO Description (آخر میں)
🔗 مزید اسلامی رہنمائی اور مستند اسلامی مواد
Allah Pak ke Asma ul Husna, Qurani Duain, Namaz, Wazu aur Ahadees Mubarakah parhne ke liye hamari official website visit karein:
👉 https://www.themuslimwayoffiicial.com

Join the conversation
غیر مناسب یا اشتہاری کمنٹس شائع نہیں کیے جائیں گے۔